Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سورن سنگھ قتل پر چھ ملزمان کا اعتراف جرم

سورن سنگھ قتل پر چھ ملزمان کا اعتراف جرم

مارب ۔ 25 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی پولیس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ کے قتل کی وجہ سیاسی رنجش تھی۔ مالاکنڈ ڈویڑن کے ڈی آئی جی آزاد خان نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اس معاملے میں چھ ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے اور تحریکِ طالبان کی جانب سے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق اس قتل کا مقدمہ سورن سنگھ کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور حراست میں لیے گئے چھ ملزمان نے اعترافِ جرم بھی کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سورن سنگھ کو اس علاقے کے مقامی اقلیتی سیاستدان بلدیو کمار کی ایما پر ہلاک کیا گیا۔ آزاد خان کے مطابق بلدیو کمار خود الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور ٹکٹ نہ ملنے پر ان کا سورن سنگھ سے تنازعہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سورن سنگھ کے قتل کے بارے میں کالعدم تحریکِ طالبان کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے پولیس کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے بڑھتے حملوں سے بوکھلا کر حکومت نے نئی پالیسی اختیار کی ہے۔ ایک تحریری بیان میں تحریک طالبان پاکستان نے کہا کہ اپنے اسی مفاد کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کسی سے بھی اقرار کروا کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔خیال رہے کہ سورن سنگھ پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان عمر خراسانی نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT