Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سوشل ورک پروفیشن میں بڑھتے روزگار کے مواقع‘ مانو میں داخلوں کا اعلامیہ جاری

سوشل ورک پروفیشن میں بڑھتے روزگار کے مواقع‘ مانو میں داخلوں کا اعلامیہ جاری

حیدرآباد، 24؍ اپریل (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے داخلے کا اعلامیہ جاری ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر محمد شاہد رضا، صدر شعبہ سوشل ورک کے بموجب سوشل ورک میں پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی کے لیے داخلے کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ اس کورس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سوشل ورک پروفیشن دور جدید کے تعلیمی نظام میں ایک اہم اور مقبول مضمون کی حیثیت اختیار کر گیاہے۔ سماجیات، نفسیات، معاشیات،سیاسیات اور دیگر علوم جیسے مینجمنٹ ، قانون وغیرہ کی ضروری معلومات کو ملا کر اس کورس کو ایسی خوبصورتی سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ان معلومات سے استفادہ کر کے سماجی اور معاشی مسائل کو حل کیا جاسکے۔ بہت سارے تعلیمی اداروں میں سوشل ورک کی تعلیم گریجویشن کی سطح پر ہے مگر بیشتر اداروں میں  پوسٹ گریجویشن سے اس کی شروعات ہوتی ہے۔سوشل ورک کا مکمل تصور اورتوجہ انسانی مسائل پر مرکوزہے۔ اس کی بنیاد ہی عوام کی فلاح و بہبود کے جذبے پر ہے۔ سوشل ورک لٹریچر کو دیکھیں  تو  اس کی ہمہ گیریت اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک پائیدار معاشرے کی تعمیر کے لیے ایک سوشل ورکر منظم انداز میں انسان کے نفسیاتی ،سماجی اور معاشی مسائل پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سوشل ورک کی ذمہ داریاں بہت زیادہ  ہیں۔غریبی، بیروزگاری، تعلیمی پسماندگی وغیرہ ایسے مسائل ہیں جہاں سوشل ورک کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ان تمام مسائل کے پیش نظر اس کورس کی اہمیت بتدریج بڑھ رہی ہے۔ ان منفرد خصوصیات کے پیش نظر بہت سے طلبہ اس کورس میں داخلے کے آرزو مند ہوتے ہیں۔ اس کورس میں کلاس کے ساتھ فیلڈ ورک بھی ایک لازمی جزو ہے۔ فیلڈ ورک زمینی مسائل اور ان کے ابعادسے رو بہ رو کرانے کی غرض سے رکھا گیا ہے۔ یہ ایک طرح کی انسانی تجربہ گاہ ہے جہاں ایک طالب علم لوگوں سے مل کر، مشاہدہ کر کے اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر بہت کچھ سیکھتا ہے اور سوشل ورک کی ٹریننگ حاصل کرتا ہے۔ اس کے پس پشت سوشل ورک کا یہ جذبہ کار فرما ہوتا ہے کہ طلبا اس کورس سے فراغت کے بعد لوگوں کو با اختیار بنانے اور انسانی ترقی کے تمام پہلوؤں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکیں۔ در اصل فیلڈ ورک معاشرے کے بنیادی اصولوں، سیاسی ڈھانچہ اور معاشی نظام کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ پھر مسائل کو سمجھ کر ان پر کام کرنے کے لیے بنیادی مہارتوںکے فروغ میں معاون ہوتا ہے۔مناسب تربیت اور پریکٹس کی بنیاد پر یہ کورس طلبہ کو بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ان خصوصیات کی بنا پر آج کے دور میں آرٹس، کامرس اور سائنس کے طلبہ اس کورس کی طرف اپنا رخ کر رہے ہیں کیوں کہ اس میں دوسرے پروفیشنل کورسز کی بہ نسبت روزگار کے امکانات زیادہ وسیع ہیں۔ ہندوستان میں سوشل ورکرز کواپنا کیریئر بنانے کے لیے سرکاری اداروں، منافع بخش کمپنیوں، غیر سرکاری تنظیموں، پرائیویٹ سیکٹر، اسپتال اور کلینک، اسکول، پولیس اور قانونی شعبوں میں وافر مواقع دستیاب ہیں۔ غربت، ماحولیات، تعلیم، روزگار، مختلف میدانوں میں تحقیق، ایڈووکیسی، میڈیکل، ویلفیئر سے متعلق کام کرنے والی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں میں خاص طور پر سوشل ورک کی ڈگری  مانگی جاتی ہے۔ انہوں نے اس کورس کے فارغین کی ملازمت کے حصول میں کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک صد فیصد فارغین کو روزگار حاصل ہوا ہے۔ اس کی بدولت انہوں نے اپنی تنظیموں میں تیزی سے پروموشن حاصل کیا۔ شعبہ میں ہنرمند اور باصلاحیت اساتذہ ہمہ وقت طلبہ کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ کسی بھی مضمون میںگریجویٹ طلبہ(کم سے کم  45% نمبرات کے ساتھ ) اس کورس میںداخلے کے اہل ہیں۔ طلبہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ www.manuu.ac.in  سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ پی ایچ ڈی سوشل ورک کے لیے آن لائن فارم داخل کرنے کی آخری تاریخ  5؍ مئی 2017 ہے جبکہ ایم ایس ڈبلیو کی آخری تاریخ 9؍ جولائی2017 ہے۔

TOPPOPULARRECENT