Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / سوشیل میڈیا اور دہشت گردی

سوشیل میڈیا اور دہشت گردی

کے این واصف
پرہجوم مقامات پربم نصب کرنا ، خودکش حملے اور ٹارگٹ کلنگ وغیرہ کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی سے دنیا کے مختلف ممالک خصوصاً مسلم ممالک میں سینکڑوں بے قصور افراد شہید کئے یا شدید زخمی کئے جارہے ہیں۔ دہشت گردی کے یہ واقعات تقریباً ہر روز کسی نہ کسی ملک میں رونما ہورہے ہیں۔ پچھلے پیر کو سعودی عرب کے جدہ ، مدینہ منورہ اورقطیف شہروں میںخودکش دھماکے ہوئے جس کے نتیجہ میں 4 سیکوریٹی اہلکار شہید اور اس میں ملوث تمام دہشت گرد مارے گئے ۔ تفصیلات کے مطابق مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے قریب چیک پوسٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیا ۔ دراصل اس کا ارادہ بڑی تعداد میں موجود مسجد نبوی کے افطار دسترخوان پر موجود افراد کو نشانہ بنانا تھا ۔ اس کارروائی میں 4 سیکو ریٹی اہلکار شہید ہوگئے۔ حملہ آور بھی حملے میں ہلاک ہوگیا۔ دھماکے سے آگ لگ گئی جس سے زائرین میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا اور محدود پیمانے پر بھگدڑ کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی ۔ تاہم جلد ہی حالات معمول پر آگئے اور زائرین کو حقیقت حال کا احساس ہوگیا ۔ اس طرح دہشت گرد اہل ایمان کو خوفزدہ کرنے میں ناکام رہے ۔ زائرین کا جوش کم نہیں ہوا بلکہ مسجد نبوی شریف میں عبادت اور تراویح کا سلسلہ جوں کا توں جاری رہا ۔اس سے قبل جدہ میں صبح کی اولین ساعتوں میں ایک خودکش حملہ آور نے اس وقت خود کو ہلاک کرلیا جب سیکوریٹی اہلکار مشکوک حالت میں اسے پاکر اس کی جانب کارروائی کیلئے بڑھے ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب میںفلسطین اسٹریٹ کے چوراہے پر خودکش دھماکہ ہوا ۔ سیکوریٹی فورس کے اہلکار مشکوک صورتحال اور حرکات دیکھ کر حملہ آور کو روکنے اور اس سے پوچھ گچھ کیلئے جیسے ہی آگے بڑھے فوراً اس نے خودکو دھماکے سے اڑالیا ۔ اس واقعہ میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔ البتہ کوئی راہگیر وغیرہ زخمی نہیں ہوئے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق حملہ آور  غیر ملکی تھا ۔ دوسری جانب پیر کے روز ہی مغرب کی اذاں کے وقت قطیف (منطقہ شرقیہ) کے وسط میں شیخ فرج العمران جامع مسجد کی پارکنگ میں دہرے خودکش حملے ہوئے ۔ سیکوریٹی رکاوٹوں کی وجہ سے حملہ آور مسجد میں داخل نہیں ہوسکے۔ دو میں سے ایک جو دھماکہ خیر بیلٹ پہنے ہوئے تھا خودکو دھماکے سے اڑالیا۔ پھر دوسرے نے بھی جو ایک گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا ، نے بھی اپنے آپ کو دھماکے سے اڑالیا۔ ان دونوں کی لاشوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ تاحال ان کی شناخت نہیں ہوسکی۔
یہ تفصیلات معتبر خبر رساں ایجنسی نے جاری کیں جو یہاں کے مقامی اخبارات میں شائع بھی ہوئیں لیکن ان دہشت گردی کے واقعات کی خبر پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میں آتی اس سے قبل بیسیوں افراد نے مقام حادثہ کے منظر کو whatsapp اور فیس بک وغیرہ پر جاری کردیئے ۔ یعنی وہ لوگ جو ان واقعات کے عینی شاہد تھے نے اپنے موبائیل فون پر بم پھٹنے کے نتیجہ میں ا ٹھنے والے آگ کے شعلے اور مہیب دھوئیں کی تصویرکشی کی اور سوشیل میڈیا پر جاری کردیا ۔ تصویر کے ساتھ مختصر طور پر صرف یہ بتایا کہ فلاں مقام یا فلاں شہر میں بم دھماکہ ہوا ۔ کسی بھی واقعہ کو عوام تک پہنچانا میڈیا کا کام ہے ۔ جہاں پروفیشنل صحافی کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ واقعہ کے رونما ہوتے ہی ارباب مجاز سے حقیقت حال دریافت کرتے ہیں جس کے بعد اسے ٹی وی یا اخبار میں شائع کرتے ہیں۔ خبر رسانی کا کام بہت ہی حساس اور ذمہ داری کا کام ہے ۔ جسے اس شعبہ کے پروفیشنل افراد کے ہاتھوں میں ہی رہنا چاہئے۔ یہ ذمہ داری ہر کس و ناکس کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لینا چاہئے ۔ خصوصاً حساس قسم کی خبریںادھوری معلومات کے ساتھ سوشیل میڈیا پر جاری نہیں ہونی چاہئے ۔ اس سلسلے میں ستم در ستم یہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی کسی نے کوئی خبر یا تصویر اپنے فون سے whatsapp پر جاری کی انہیں حاصل کرنے والے دیگر افراد اس کی تحقیق کے بغیر آگے forward کردیتے ہیں اور پھر یہ وباء کی طرح پھیل جاتی ہے۔ مدینہ منورہ کا واقعہ جیسے ہی whatsapp پر جاری ہوا لوگوں میں ایک وحشت ، تشویش اور حیرانی کی لہر دوڑ گئی۔ ظاہر ہے ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں افراد جمع رہتے ہیں ۔ اب اس قسم کی ادھوری خبر جب سوشیل میڈیا پر جاری ہوگی تو دنیا کے ان سارے مقامات پر جہاں سے ان مقدس شہروں میں معتمرین و زائرین آئے ہوئے ہیں وہاں تشویش کی لہر دوڑ جائے گی اور اس تشویش و بے چینی کی وجہ سے whatsapp کی ادھوری خبر ہے جو ’’میں پہلے‘‘ کی دوڑ کی کے رجحان میں جاری کی گئی ۔ لہذا حساس خبروں کو ذمہ دار میڈیا کے ذریعہ ہی عوام تک پہنچنا چاہئے تاکہ عوام تک درست خبر پہنچے اور حقیقت حال سامنے آئے ۔ کسی خبر کا کچھ تاخیر سے پہنچنا مضائقہ نہیں مگر  غلط یا ادھوری خبریں عوام کیلئے پر یشانی اور تشویش کا باعث بن جاتی ہیں۔ لہذا خبریں پہنچانے کے کام کو عام افراد کو اپنے ہاتھ میں  نہیں لینا چاہئے ۔ خصوصاً حساس قسم کی خبروں کو بغیر کسی تحقیق اور تفصیل حاصل کر کے سوشیل میڈیا پر جاری کرنا بھی ایک طرح کی دہشت گردی ہے ۔ اس سے عوام کو احتراز کرنا چاہئے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT