Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سوشیل میڈیا پر بے بنیاد خبروں سے عوام پریشان

سوشیل میڈیا پر بے بنیاد خبروں سے عوام پریشان

حیدرآباد کی حالیہ بارش کے بارے میں پوسٹ ہونے والی تصاویر اور رپورٹ غیر متعلقہ
حیدرآباد۔10اکٹوبر (سیاست نیوز) سوشل میڈیا کے ذریعہ وصول ہونے والی ہر خبر درست نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر خبر پر یقین کیا جانا چاہئے ۔ حالیہ دنوں میں شہر میں ہونے والی بارش کے سلسلہ میں گشت کرنے والی ویڈیوز‘ تصاویر اور کئی مقامات پر جمع پانی کو حیدرآباد سے جوڑتے ہوئے پیش کیا جانے لگا ہے اور اسی طرح کی بے بنیاد خبریں سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام میں خوف و ہراس کا سبب بننے لگی ہیں۔ گذشتہ تین یوم سے جاری بارش کے دوران یہ دیکھنے میں آیا کہ شہری عدم معلومات یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کیلئے ملک کے دوسرے شہروں میں سڑکوں پر جمع پانی کی تصاویر کو شئیر کرتے ہوئے اسے حیدرآباد قرار دینے لگے ہیں ۔ گذشتہ ہفتہ ہوئی بارش کے دوران ائیرپورٹ پر بارش کا پانی جمع ہونے کی شکایات کے ساتھ ویڈیو گشت کر رہی تھی اور اسے فیس بک پر بھی کافی رسائی حاصل ہوئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ویڈیو کا تعلق حیدرآباد ائیر پورٹ سے قطعی نہیں ہے اور اسی طرح میٹرو کے پلر س کے ساتھ نظر آرہی سڑک جو جھیل کا منظر پیش کر رہی ہے وہ تصاویر بھی فیس بک اور واٹس اپ پر گشت کر رہی ہیں لیکن ان تصاویر کا بھی حیدرآباد سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ان تصاویر میں جو پانی اور سڑکیں دکھائی گئی ہیں وہ دہلی کی ہیں جہاں سال گذشتہ ہوئی شدید بارش کے دوران بارش کا پانی جمع ہوا تھا لیکن ان تصاویر کو بھی حیدرآباد میں موسلادھار بارش کے عنوان سے شئیر کیا جانے لگا ہے اسی طرح یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ من مانی نمبرات درج کرتے ہوئے سرکاری اعلامیہ اور اعلان کہتے ہوئے تعطیل کا بھی اعلان کیا جانے لگا اور حکومت کے اعلان سے اس کا کوئی تعلق بھی نہیں ہے گذشتہ دنوں اس طرح کے دو میسیج نے شہریوں کو مشکلات میں مبتلاء کردیااور انہیں اس بات کی صداقت کیلئے اخبارات کے دفاتر اور ٹیلی ویژن چیانلس کے دفاتر کو فون کرتے دیکھا گیا لیکن بعض اخبارات میں بھی تعطیل کے متعلق خبریں شائع ہوئی جو کہ صرف سوشل میڈیا کی خبروں پر مبنی خبریں تھیں۔سوشل میڈیا سماجی رابطہ کی ویب سائٹس تشہیر اور تعلقات میں استحکام کے علاوہ رابطہ کی ٹیکنالوجی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس طرح کے جھوٹے پروپگنڈہ کے لئے بھی اس کا صریح غلط استعمال کیا جانے لگا ہے اور عدم معلومات کی بناء پر لوگ انہیں موصول ہونے والی خبروں کو آگے بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور انہیں ٹیکنالوجی کے متعلق ناخواندہ ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ وہ انہیں موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیو کے علاوہ خبروں کی تصدیق یا توثیق کا مادہ نہیں رکھتے بلکہ اسے آگے بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔گذشتہ دنوں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بارش کے آغاز کے ساتھ ہی اوسط بارش اور تالابوں کی سطح آب کے متعلق ایک پیغام گشت کرنے لگا اور بڑی تیزی کے ساتھ یہ پیغام خبروں سے متعلق گروپس تک پہنچ گیا جہاس ٹیلی ویژن چیانلوں نے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کیلئے ان بے بنیاد اعداد و شمار کو ہی پیش کرنا شروع کردیا لیکن چند گھنٹوں میں جب سرکاری اعداد و شمار جاری کئے گئے توخاموشی سے وہ اعداد و شمار ہٹا لئے گئے جو بے بنیاد تھے لیکن جن لوگوں نے بے بنیاد اعداد و شمار شئیر کئے تھے وہ اب ان ٹیلی ویژن چیانلوں کو حوالہ دینے لگے جب ان کے اعداد وشمار کو مشتبہ تصور کیا جانے لگا ۔اسی لئے سوشل میڈیا کے ذریعہ وصول ہونے والی خبروں کو ترسیل میں احتیاط لازمی ہے کیونکہ اس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT