Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / سوشیل میڈیا پر داڑھی والوں کی تصاویر پر سعودی خاتون کو سزاء

سوشیل میڈیا پر داڑھی والوں کی تصاویر پر سعودی خاتون کو سزاء

جدہ ۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کی دو مرتبہ مطلقہ اسلامی عالمہ صواد الثمری نے اپنے ملک کے ملاؤں اور علمائے دین کی بڑی داڑھیوں کے بارے میں سلسلہ وار نوٹسیں پیغامات پوسٹ کی تھیں تو وہ کبھی بھی یہ نہیں سمجھی تھیں کہ اس ’جرم‘ میں انہیں جیل جانا پڑے  گا۔ صواد الثمری نے بڑی داڑھیوں والے کئی افراد کی تصاویر پوسٹ کی تھیں جن میں ایک کٹر یہودی، ایک عیسائی مبلغ ’ہپی‘ خلافت عثمانیہ کے خلیفہ، ایک سکھ اور ایک مسلمانکی تصاویر بھی شامل تھیں اور لکھا تھا کہ محض بڑی داڑھیاں رکھ لینا کسی شخص کو ایک مقدس شخصیت یا صحیح مسلمان نہیں بنادیتا۔ صواد نے اپنے ایک پیغام میں یہ بھی ثابت کیا تھا کہ پیغمبراسلام ؐ کے دوران میں اسلام کا ایک بدترین دشمن اور ناقد کی بھی بہت بڑی داڑھی تھی۔ دو مرتبہ مطلقہ چھ بچوں کی ماں اور اسلامی علوم ۔۔۔۔۔۔ تبصرے اس معاشرہ میں اپنی نوعیت میں منفرد ہیں۔ صحرائی بددن عرب قبلہ میں پروان چڑھنے والی 42 سالہ صواد الثمری اپنے والد کے 12 بچوں میں سب سے بڑی ہے جس کو بچپن میں بکریاں چرانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ جس کے باوجود اسلامی علوم میں گریجویشن کرنے کے بعد وہ روشن خیال آزادی نسوان گروپ کی بانی بن گئی اور اسلامی احکام کے مطابق اپنی بحث کے دلائل پیش کیا کرتی ہے جو سعودی کی طاقتور مذہبی حکومت کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن صواد کو اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ جب وہ ’’عوامی نظریات کو مشتعل کرنے‘‘ کے الزام کے تحت تین ماہ کیلئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی گئی۔ اس کے بیرون سفر پر بھی امتناع عائد کیا جاچکا ہے۔ صواد کے آن لائن فوم فری سعودی لبرنس نٹ ورک کے معاون بانی رعیف بداوی 10 سال کی سزائے قید بھگت رہے ہیں اور جنہیں برسرعام 50 کوڑے بھی مارے جاچکے ہیں۔ ان واقعات پر صواد کے والد بھی اپنی بیٹی سے بے تعلقی اختیار کرچکے ہیں۔ صوبہ حیل کی یونیورسٹی سے اسلامی علوم سے گریجویشن کی سند لینے کے بعد وہ سرکاری اسکولی مینجر بن گئی تھی اور اس کی دگنی عمر کے فرد سے شادی ہوگئی تھی جس سے ایک لڑکی یارا تولد ہوئی اور 20 سال کی عمر میں طلاق ہوگئی تھی بعدازاں اس کی طلاق کے مقدمہ کی نگرانی کرنے والے حیل کے چیف جج سے اس کی دوسری شادی ہوئی تھی جس کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ صادر کردیا کہ اس کی بیٹی یارا کسی غیرمرد کے گھر رہنے کے بجائے خود اپنے باپ کے گھر رہے گی۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس کی بیٹی کو اس کی گود سے لے لیا۔ بچی کو لیتے وقت کہا تھا کہ ’’یہ اللہ کی مرضی ہے اور یہی اسلام ہے‘‘۔ بیٹی سے بچھڑنے کے بعد صواد کے دل و دماغ میں باغیانہ رجحانات ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT