Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / سونونگم نے سرمنڈھوا لیا، عالم دین کے فتویٰ کا مثبت جواب

سونونگم نے سرمنڈھوا لیا، عالم دین کے فتویٰ کا مثبت جواب

’’محمد رفیع مرحوم کو میں اپنا والد تصور کرتا ہوں، استاد غلام مصطفی خاں میرے گرو ہیں‘‘
ممبئی ۔ 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عبادت گاہوں میں لاؤڈ اسپیکرس کے استعمال کے خلاف سونونگم کے ٹوئیٹس پر برہم ایک مسلم عالم دین نے ان (نگم) کا سرمونڈھ دینے کیلئے فتویٰ جاری کیا تھا اور بالی ووڈ پلے بیک سنگر نے بذات خود ان کے اس فتویٰ پر بخوشی عمل کر دکھایا۔ ہندی نغموں کے گلوکار سونونگم نے ایک پریس کانفرنس میں اپنے ’’زلف تراش‘‘ علیم حکیم کو بھی جنہوں نے میڈیا نمائندوں کی موجودگی میں ان (نگم) کاسر مونڈدیا۔ قبل ازیں کولکتہ کے ایک عالم دین سید شاہ عاطف علی القادری نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ سونونگم کا سر مونڈھتے ہوئے ان کے گلے میں پرانے جوتوںکا ہار ڈالنے والے کسی شخص کو 10 لاکھ روپئے انعام دیا جائے گا۔ سونونگم نے ان کے اس چیلنج کو قبول کرلیا۔ انہوں نے خود اپنی مرضی سے سر منڈھوا لیا اور کہاکہ مولوی صاحب 10 لاکھ روپئے تیار رکھئے۔ میں نے سر مونڈھ لیا‘‘۔ گلوکار نے کہا کہ وہ محبت کے ذریعہ اس فتویٰ کا جواب دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں محبت کی زبان استعمال کیا ہوں‘‘۔ میرے بال مونڈھنے والا شخص ایک مسلم ہے اور میں ہندو ہوں۔ ہم میں کوئی دشمنی نہیں ہے‘‘۔ تاہم مسلم عالم دین ایسا محسوس ہوتا ہیکہ سونونگم کے خیرسگالی جذبہ سے متاثر نہیں  ہوئے ہیں۔ عاطف علی نے کہا کہ ’’انہوں (نگم) نے صرف آدھا فتویٰ سنا ہے۔ میں نے سر مونڈھنے کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ گلے میں پرانے جوتوں کا ہار بھی ڈالا جائے‘‘۔ سونونگم نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکرس کے استعمال سے متعلق ان کا ٹوئیٹر ایک سماجی موضوع تھا اس کو مذہبی رنگ دیا گیا ہے۔ بالی ووڈ گلوکار نے کہا کہ کسی شخص کو جو گلوکار محمد رفیع مرحوم کو اپنے والد جیسا تصور کرتا ہے اور جس کے گرو استاد غلام مصطفی خاں ہیں، اگر کوئی مسلم دشمن سمجھتا ہے تو یہ میرا نہیں بلکہ ایسا سمجھنے والے کا مسئلہ ہے‘‘۔ نگم نے کہاکہ آئے دن ہر کوئی دائیںبازو یا بائیں بازو کا نظریات کا حامی ہوگیا ہے اور ان جیسا کوئی بھی سیکولر شخص اقلیت میں آ گیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT