Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / سونیا گاندھی صدر برقرار، مودی کے انتخابی وعدے ’’ہوابازی‘‘ پارٹی کا استحکام اولین ترجیح، تنظیمی انتخابات ملتوی، کانگریس مجلس عاملہ سے صدر کانگریس کا خطاب

سونیا گاندھی صدر برقرار، مودی کے انتخابی وعدے ’’ہوابازی‘‘ پارٹی کا استحکام اولین ترجیح، تنظیمی انتخابات ملتوی، کانگریس مجلس عاملہ سے صدر کانگریس کا خطاب

NEW DELHI, SEP 8 (UNI):-Congress President Sonia Gandhi, flanked by former Prime Minister Manmohan Singh and party Vice-President Rahul Gandhi (R), chairing the Congress Working Committee (CWC) meeting in New Delhi on Tuesday. UNI PHOTO-12u

 

نئی دہلی ۔ 8 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) راہول گاندھی کی ترقی کی قیاس آرائیوں کے برعکس سونیا گاندھی صدر کانگریس برقرار رہیں گی۔ آج ان کی میعاد میں مزید ایک سال کی توسیع کردی گئی جبکہ پارٹی کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز مجلس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ تنظیمی انتخابات ملتوی کردیئے جائیں ۔ کانگریس کی مجلس عاملہ نے قرارداد منظور کرتے ہوئے 68 سالہ سونیا گاندھی کی میعاد میں اضافہ کردیا۔ اس طرح نائب صدر کانگریس چھٹیوں سے واپسی کے بعد جاریہ سال کسی بھی وقت ان کی ترقی کی قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگیا۔ راہول گاندھی کی ترقی کے بارے میں سوالات کے جواب سے گریز کرتے ہوئے کانگریس کی مجلس عاملہ نے کہا کہ سونیا اور راہول گاندھی کے درمیان کام ک تقسیم ایک ’’مثالی صورتحال‘‘ ہے۔ نوجوان نائب صدر اور ایک بالغ نظر و تجربہ کار سونیا گاندھی صدر کانگریس برقرار رہیں گی۔ سینئر کانگریس قائد غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں کہ تنظیم میں اقتدار کے دو مراکز ہیں۔ سونیا گاندھی نے اپنی تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید میں شدت پیدا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیشتر انتخابی وعدے صرف ’’ہوا بازی‘‘ (کھوکھلی باتیں) تھے۔ ان کی حکومت اپنے قول اور عمل میں یکسانیت پیدا کرنے سے بری طرح قاصر رہی ہے۔

سونیا گاندھی نے جارحانہ انداز میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور ان کی پالیسی کا عام انتخابات کی مہم میں مودی کی جانب سے مذاق اڑانے کا جارحانہ انداز میں تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بار بار اپنا موقف بدل رہے ہیں۔ ان کا حقیقی مقصد کیا ہے، کوئی بھی نہیں کہہ سکتا۔ کانگریس کارکنوں کی حصول اراضی قانون کے خلاف تحریک کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کی سرگرم قیادت کے سامنے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ قانون محنت اصلاحات ، خواتین اور اطفال کی فلاح و بہبود ، آر سی آئی اور طمانیت روزگار مواقع کے سلسلہ میں بھی یہی صورتحال رہی۔ حصول اراضی آرڈیننس پر حکومت کا موقف برعکس ہوجانے سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ حکومت بنیادی حقائق سے ناواقف ہے۔ یہ درد ناک انداز میں واضح ہوچکا ہے کہ وزیراعظم نے جو انتخابی وعدے کئے تھے، صرف ہوا بازی تھے۔ وزیراعظم کی جانب سے حصول اراضی آرڈیننس دوبارہ جاری نہ کرنے کے اعلان کے بعد سونیا گاندھی نے کہا کہ کانگریس کی مسلسل مہم میں حکومت کو کاشتکار دشمن ترمیمات واپس لینے پر مجبور کردیا۔ انہوںنے کہا کہ ہمارے فوجیوں اور شہریوں کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ملک کی صیانتی صورتحال ابتر ہے۔ پاکستان کے بارے میں حکومت کی پالیسی تبدیل ہونی چاہئے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے بھی یہ بات سمجھ لی ہے۔ سونیا گاندھی کی میعاد میں ایک سال توسیع کے بعد وہ بحیثیت صدر کانگریس طویل ترین مدت تک برقرار رہنے والی اولین صدر کانگریس ہوں گی۔ انہوں نے 1998 ء میں کانگریس کی صدارت سنبھالی تھی اور ان کی میعاد جاریہ سال ڈسمبر میں ختم ہونے والی تھی۔ ان کی برقراری سے راہول گاندھی کے صدر کانگریس بننے کی قیاس آرائیوں کا بھی خاتمہ کردیا ہے ۔

 

راہول کو کسانوں کا مسیحا قرار دینا ہوا بازی کے مترادف
سونیا گاندھی پر ناکامیوں کی پردہ پوشی کیلئے مودی پر تنقید کا الزام
نئی دہلی ۔ 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی تنقیدوں پر بی جے پی نے آج شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ (سونیاگاندھی) اپنی ناکامی کی پردہ پوشی کیلئے وزیراعظم کو تنقیدوں کا نشانہ بنارہی ہے اور اارضی آرڈیننس کے خلاف راہول گاندھی کی جدوجہد کی ستائش کررہی ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہیکہ ایک ماں اپنے بیٹے کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کسانوں کی زمینات ہڑپ کرنے پر شاباشی دے رہی ہے۔ بی جے پی نے یہ ریمارک امیتھی میں اراضی کے حالیہ تنازعہ کے پس منظر میں کیا ہے۔ مودی کے بارے میں محض کھوکھلے وعدوں سے متعلق سونیا گاندھی کے ریمارک کے جواب میں مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر سمرتی ایرانی نے کہا کہ مودی کی باتیں ’ہوا بازی‘ نہیں بلکہ راہول گاندھی کی جانب سے خود کو کسانوں کا مسیحا قرار دینا ’ہوا بازی‘ ہے۔ سمرتی ایرانی نے امیتھی اراضی تنازعہ پر بھی راہول گاندھی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سونیا گاندھی نے اپنی شکست خوردہ جماعت کی رہنمائی کرتے ہوئے اپنی ناکام پالیسیوں کی پردہ پوشی کے لئے مودی کے نام کا سہارا لیا۔ انہوں نے بنیادی طور پر کوئی کام نہیں کیا اور یہ بات جگ ہنسائی کا سبب ہیکہ ملک کا خزانہ خالی کرنے اولی کی آج کسی ایسے شخص پر تنقید کررہے ہیں جو بنیادی سطح پر تبدیلی لانے کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔ اس سوال پر کہ آیا راہول گاندھی کو پارٹی کا صدر بنانے میں کانگریس سست روی کا مظاہرہ کررہی ہے؟ سمرتی ایرانی نے جواب دیا کہ بی جے پی کے پاس راہول کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف 20 دن کی انتخابی مہم میں ہی انہوں نے راہول گاندھی کی کامیابی کے باوجود ووٹوں کی اکثریت کو بڑی حد تک گھٹا دیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT