Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / سونیا گاندھی کانگریس میں اتحاد کی بنیاد ‘ وینکیا نائیڈو کا اعتراف

سونیا گاندھی کانگریس میں اتحاد کی بنیاد ‘ وینکیا نائیڈو کا اعتراف

انتخابی کامیابی کی وجہ ترقیاتی ایجنڈہ ‘ مخلوط اتحاد قائم کرنے پر زور ‘ مرکزی وزیر و سینئر بی جے پی قائد کا بیان
نئی دہلی ۔22مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) راہول گاندھی کے صدر کانگریس بنائے جانے کے بارے میں مسلسل قیاس آرائیوں کے پس منظر میں مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ سونیا گاندھی کانگریس کو متحد رکھنے کی بنیاد ہیں ‘ اُن کے بغیر پارٹی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی ۔انہوں نے کہا کہ اُن کے داخلی اُمور میں خاص طور پر قیادت میں وہ دخل اندازی نہیں کرنا چاہتے ‘ صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ سونیا جی کی وجہ سے ہی کانگریس متحد ہے ‘ ورنہ کبھی کی منتشر ہوجاتی ۔ انہوں نے کہا کہ اُن کا یہی نظریہ ہے حالانکہ وہ خاندانی راج کے مخالف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خاندان جمہوریت میں ایک بری چیز ہے لیکن بعض لوگوں خاص طور پر کانگریس اور اُس کے حامیوں کیلئے یہ ضروری ہے ۔ اس حقیقت کو قبول کرلیا جانا چاہیئے کہ سونیا گاندھی کی وجہ سے ہی کانگریس پارٹی متحد ہے ۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے چار ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقہ پوڈیچری کے انتخابی نتائج کے بارے میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت قائد سونیا گاندھی کی قیادت کامیاب نہیں رہی ‘ ہم اس کا مشاہدہ کرچکے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے ناکامی کے بعد خود احتسابی کی اپیل کی ہے ۔ یہ ہماری فکر کی بات نہیں یہ ان کا معاملہ ہے ‘ انہیں خوداحتسابی کرنی چاہیئے ‘ یہ پالیسی کا سوال بھی نہیں ہے بلکہ رویہ کا سوال ہے ۔ انہیں اپنا رویہ اور اپنی پالیسیاں تبدیل کر کے انہیں بہتر بنانا چاہیئے ۔ راہول گاندھی کی ترقی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحیثیت نائب صدر وہ پہلے سے ہی پارٹی کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں جہاں تک انہیں علم ہے گذشتہ 12سال سے وہی تمام اُمور کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ایک صدارتی حکم نامہ جاری کرنا چاہتے تھے لیکن راہول گاندھی نے اس کا مسودہ چاک کر کے پھینک دیا اور آخر ان ہی کی رائے غالب آئی ۔ انہوں نے بی جے پی کی آسام میں شاندار کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابی کامیابی درحقیقت بی جے پی کے ترقیاتی ایجنڈے کی کامیابی ہے لیکن ہم اپنے بل بوتے پر آئندہ انتخابات میں کامیاب حاصل نہیں کرسکتے اس لئے مخلوط اتحاد کا قیام ضروری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آسام میں بنگلہ دیشی مسلمان بڑا ووٹ بینک ہیں ۔ آسام کی بی جے پی حکومت پر بنگلہ دیش سے آسام میں دراندازی کو روکنا چاہیئے ‘ ورنہ اُسے مستقبل میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے علاقائی پارٹیوں سے اتحاد قائم کرنا ہوگا ۔ مرکزی وزیر نے بار بار آسام میں بی جے پی کی انتخابی کامیابی کو اس کے ترقیاتی ایجنڈے کی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ کیرالا اور مغربی بنگال میں بی جے پی نے ووٹوں میںاپنے حصے میں اضافہ کیا ہے ۔ اپوزیشن کی تنقید کا خاص طور پر کانگریس کی تنقید کا سامنا کرنے والے وینکیا نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ کانگریس گذشتہ دو سال سے کچھ بھی نہیں کررہی ہے ۔ یو پی اے دور کے کرپشن کے مقدمات ہنوز جاری ہیں کیونکہ این ڈی اے حکومت نے اس لعنت کا خاتمہ کرنے کا تہیہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ ہم نے کرپشن پر قابو پالیاہے ۔ این ڈی اے حکومت سے پہلے کرپشن ہر سطح پر غلبہ پائے ہوا تھا لیکن اب کسی بھی سطح پر اس کا غلبہ نہیں ہے ۔ انتظامیہ کے کام کاج کرپشن کی وجہ سے مفلوج نہیں ہورہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT