Tuesday , May 23 2017
Home / مضامین / سونیا گاندھی کے بعد؟

سونیا گاندھی کے بعد؟

سنجے بارو
راہول گاندھی کو کانگریس کا نائب صدر بنانے کے بعد سے پارٹی نے عملاً ہر الیکشن اُن کی قیادت میں لڑا ہے اور لگ بھگ ہر بار سونیا گاندھی کے فرزند کی قائدانہ صلاحیتوں پر نقادوں کی کڑی نظر رہی ہے۔ اترپردیش کے حالیہ اسمبلی انتخابات بہت اہم موڑ ثابت ہوئے ہیں۔ وہ جو سوچ رہے تھے کہ راہول کی قیادت میں کانگریس کی قسمت بدلے گی ، اُن کیلئے یہ الیکشن چشم کشا ہونا چاہئے۔ انتخابی سیاست بڑے سبق دیتی ہے۔ اگر کوئی ابتدائی اشارہ کو نظرانداز کردے تو وقفے وقفے سے انتخابی نتائج باقاعدہ یاددہانی کو یقینی بنا دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کانگریس کی قطعاً عملی سوچ و فکر کی حامل قیادت حقیقی صورتحال سے بخوبی واقف ہے، بھلے ہی پارٹی کے ترجمان اور مبصرین میں اُن کے ساتھی لوگ ایسا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بدقسمتی کا یہ تسلسل انتخابی عمل کیلئے بس معمول کی بات ہے۔ جمہوریت میں جس کا عروج ہو وہ زوال پذیر ہوگا اور جو زوال پذیر ہو وہ عروج پاسکتا ہے۔
کانگریس کے حقیقت پسند قائدین جانتے ہیں کہ انھیں قیادت کا گہرا بحران درپیش ہے۔ کیا یہ پارٹی کا ’’نہرو کے بعد کون؟‘‘ والا مرحلہ ہے۔ بلاشبہ، نہرو کے بعد بھی زندگی چلتی رہی، اور زندگی سونیا گاندھی کے بعد بھی چلتی رہے گی۔ لیکن حقیقت برقرار ہے کہ نہرو کے بعد کانگریس میں ہنوز قومی اور علاقائی سطحوں پر مقبول قائدین کی خاصی تعداد موجود تھی۔ جب پارٹی نے لعل بہادر شاستری کی یکایک موت کے بعد آخرکار نہرو کی بیٹی کو منتخب کیا تو انھوں نے پارلیمانی انتخابات میں خود کو منواتے ہوئے اعلیٰ ترین سطح پر اپنی جگہ مضبوط کرلی۔ اس کے بعد انھوں نے ممکنہ حریفوں سے چھٹکارہ پاکر اور انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کو اندرا کانگریس (کانگریس۔ آئی) میں تبدیل کرتے ہوئے اپنی پوزیشن بہت مستحکم کی۔
یہی کچھ سونیا گاندھی نے بھی کیا۔ جہاں پی وی نرسمہا راؤ نے کانگریس کو نہرو۔ گاندھی خاندان کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کی، وہیں سونیا نے انڈین نیشنل کانگریس کا ’’سونیا کانگریس‘‘ بننا یقینی بنایا۔ بھانت بھانت کی پارٹیوں کے ساتھ جن سے کانگریس نے ماضی میں چناؤ لڑے بشمول ڈی ایم کے اور کمیونسٹ پارٹیاں، مخلوط میں شامل ہونے سے اتفاق کرتے ہوئے سونیا نئی دہلی میں کانگریس زیرقیادت مخلوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ گزرے دہے نے جو کچھ دکھایا وہ یہ ہے کہ جس طرح راجیو گاندھی اپنی ماں سے حاصل ہونے والی بنیادی طاقت کو بڑھانے میں ناکام ہوئے، اسی طرح راہول بھی اپنی ماں سے حاصل ہونے والی سیاسی طاقت کو پروان چڑھانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ لہٰذا ، کانگریس کیلئے سوال برقرار ہے: سونیا کے بعد کیا ہوگا؟
عام باتوں کو دیکھیں تو زیادہ تر کانگریسی قائدین یہی کہیں گے پارٹی کی کارکردگی میں موجودہ گراوٹ فطری انتخابی گردش کا حصہ ہے۔ پنجاب پر نظر ڈالئے، گوا کا جائزہ لیں (جہاں کانگریس واحد بڑی پارٹی بن کر اُبھری)۔ راجستھان منتظر ہے کہ کانگریس کی جھولی میں آجائے۔ شاید مدھیہ پردیش بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر پارٹی قائدین بالخصوص وہ جنھیں اپنی افادیت برقرار رکھنے کیلئے انتخابات لڑنا پڑتا ہے، وہ لوگ فکرمند ہیں۔ وہ راہول کو ووٹ حاصل کرنے کے معاملے میں پُرکشش نہیں سمجھ رہے ہیں۔ یو پی نتیجے کے بعد حتیٰ کہ پرینکا وڈرا کو بھی ایسی لیڈر نہیں سمجھا جائے گا جو نئی دہلی میں اقتدار دلا سکے۔
اگر ’سونیا کانگریس‘ کے ارکان انڈین نیشنل کانگریس کا احیاء چاہتے ہیں اور سونیا کے بعد بھی پارٹی کو زندہ رکھنے کے خواہشمند ہوں تو اُن کیلئے راہ کا تعین اچھی طرح سے ممتا بنرجی اور امریندر سنگھ جیسے قائدین نے کردیا ہے۔ ممتا نے شرد پوار کی راہ اپنائی  …  اخراج مگر ربط میں رہنا۔ امریندر نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی کا راستہ اختیار کیا  …  نئی دہلی کو خوش رکھیں، لیکن وطن میں کوئی مخالفت برداشت نہ کی جائے۔ دونوں طریقے علاقائی قائدین کو بڑھاوا دینے میں معاون ہوتے ہیں، جو آگے چل کر قومی منصب کے طلبگار بن سکتے ہیں۔ سونیا کے دور میں یہ ممکن نہیں رہا۔ سونیا کے بعد والی کانگریس میں ایسا ممکن رہے گا۔
غور کیجئے کس طرح نریندر مودی نے اپنا امیج یا خود کو بطور برانڈ فروغ دیا ہے۔ 2004ء سے 2013ء تک بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) قومی سطح پر بے سمت ہوچلی تھی۔ علاقائی قائدین نے اپنی متعلقہ ریاستوں میں پارٹی کیلئے کامیابی یقینی بنائی۔ دہلی میں کوئی بھی ایسے موقف میں نہیں تھا کہ کانگریس قیادت کو چیلنج کرے۔ ایل کے اڈوانی بی جے پی کیلئے راہول گاندھی کے مانند تھے۔ کچھ خاص کارگزاری کے بغیر اعلیٰ عہدہ سے چمٹے ہوئے تھے۔ وہ لوک سبھا کیلئے خود اپنے انتخاب کیلئے مودی پر انحصار کرنے لگے تھے۔ کچھ تعجب نہیں کہ انا ہزارے اور اروند کجریوال اس سیاسی خلا میں داخل ہوئے۔ مودی نے اپنی سیاسی طاقت گجرات میں مضبوط کی اور پھر قومی قیادت کی دعوے داری کردی۔ اگر انفرادی کانگریس قائدین اپنی علاقائی طاقت استوار کریں، تب مستقبل میں کسی وقت اُن میں سے کوئی قومی لیڈر کے طور پر اُبھرنے کی امید کرسکتا ہے۔ اس کیلئے وقت اور جستجو درکار ہوں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT