Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / سونے کی قیمتیں کم کیوں ہورہی ہیں

سونے کی قیمتیں کم کیوں ہورہی ہیں

وقار احمد
سونا اور سونے کے زیورات کو برے وقت کے ساتھی سمجھا جاتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ فی الوقت سونے کی چمک دمک اور اس کی قدر و قیمت میں کمی آرہی ۔ دنیا میں ہندوستانی سب سے زیادہ سونے کا استعمال کرتے ہیں ۔ سال کے 12 ماہ یہاں سونا اور سونے کے زیورات کی خریداری کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ لوگ اپنے گھروں میں سونا رکھنے کو خوشحالی کی علامت سمجھتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے بیوقوف بھی ہیں جو سونے سے تیار کردہ لباس یہاں تک کہ زیر جامہ بھی سونے کا تیار کردہ پہنتے ہیں ۔ حالیہ عرصہ کے دوران عالمی مارکٹ میں سونے کی قیمت میں زبردست گراوٹ آئی ہے اور سونے کی قیمت فی تولہ 24480 تک پہنچ گئی ہے ۔ سونے کی عالمی مارکٹ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ 6 تا 12 ماہ میں سونے کی قیمت میں 4 تا 5 ہزار روپئے کی گراوٹ ممکن ہے ۔ اس طرح اس قیمتی دھات کی قیمت 20,000 روپئے فی تولہ ہوجانے کی توقع ہے ۔ عالمی اور ملکی مارکٹ میں سونے کی قیمت کا جائزہ لینے پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کے باعث سونے کی قیمتیں مسلسل کم ہوتی جارہی ہے ۔اس کی آٹھ وجوہات ہوسکتی ہیں  ۔
پہلی وجہ یہ ہیکہ امریکی وفاق کی جانب سے 10 برسوں میں پہلی مرتبہ شرحوں میں اضافہ کئے جانے کا امکان ہے اس لئے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اب معاشی انحطاط کا زیادہ خوف بھی باقی نہیں رہا ۔ اس کے علاوہ ایران کے ساتھ 5+1 بڑی طاقتوں کا جو جوہری معاہدہ طے پایا ہے  اس کے نتیجہ میں مشرق وسطی میں کسی بھی قسم کے تنازع یا جنگ کے امکانات اور مواقع بہت کم ہوگئے ہیں ۔ دوسری جانب یونان بھی معاشی تباہی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا ۔ جغرافیائی جوکھم اور خطرات بھی ٹل گئے جس کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں نے سونا فروخت کرنا شروع کردیا ۔ دوسری وجہ ڈالر کا استحکام : عالمی سطح پر خام تیل کی طرح سونے کی قیمت بھی ڈالرس میں ادا کی جاتی ہے ۔ ایک مضبوط و مستحکم ڈالر کا مطلب امریکی صنعت کا استحکام اور سونے کی قیمتوں میں کمی ہے ۔عالمی معیشت کا جائزہ لیاجائے تو ڈالر دنیا کی دیگر بڑی کرنسیوں کی بہ نسبت مستحکم دکھائی دیتا ہے ۔
تیسری وجہ عالمی سطح پر افراط زر کی شرح میں کمی ہے ۔ جہاں تک سونے کا سوال ہے یہ دراصل شرح افراط زر و مہنگائی کے خلاف ایک باڑھ کی حیثیت رکھتا ہے سال 2008 کے معاشی انحطاط کے بعد بآسانی رقمی پالیسی سے افراط زر کی شرح میں اضافہ کے خدشات پیدا ہوگئے تھے لیکن افراط زر کی شرح امریکہ جاپان اور یوروپ میں کمی رہی اب سرمایہ کار سونا خریدنے سے گریز کررہے ہیں ۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ سنٹرل بینکس سونا کم خرید رہے ہیں ۔ ترقی پذیر ممالک میں سنٹرل بینکس سب سے زیادہ سونا خریدتے ہیں لیکن اب یہی بینک سونے کی کم خرید کررہے ہیں ۔ پانچویں وجہ چین سے سونے کی طلب میں غیر معمولی کمی ہے ۔ چین میں معاشی ترقی کے ساتھ ہی سونے کی طلب میں بھی اضافہ ہوا لیکن جاریہ سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران معاشی سست روی کے باعث سونے کی طلب میں 24 فیصد کمی آئی ہے اور یہ کمی سونے کی قیمت میں کمی کا باعث بنی ہے ۔

چھٹویں وجہ ۔ سونے کی طلب اور اس کے بارے میں مشہور ہے کہ 15 سال تک اس کا کاروبار قحط کی مانند ہوتا ہے اور 5 سال عید و تہوار کے مانند ہوتے ہیں ۔ سال 2008 میں امریکہ کے معاشی انحطاط میں مبتلا ہونے کے بعد 2011 کے اواخر میں فی اوزون سونا 1900 امریکی ڈالرس کی سطح تک پہنچ گیا ۔ اس کے بعد قیمت میں کمی آنی شروع ہوئی ۔ ساتویں وجہ یہ ہے کہ اس پر کوئی منافع حاصل نہیں ہوتا۔ سونے پر کسی قسم کا منافع یا سود حاصل نہیں ہوتا ۔ اگر امریکہ شرحوں میں اضافہ کرتا ہے امریکی بانڈس کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں ایسے میں سرمایہ کار سونے کے بجائے بانڈس میں دلچسپی لیتے ہیں ۔
آٹھویں وجہ ETF بہاؤ ہے ۔ سونے کی قیمت میں کمی کے ساتھ ہی ETFs سونا فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں قیمتوں میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT