Tuesday , April 25 2017
Home / شہر کی خبریں / سونے کی قیمت میں اضافہ یا کمی ، ٹرمپ کی پالیسی پر منحصر

سونے کی قیمت میں اضافہ یا کمی ، ٹرمپ کی پالیسی پر منحصر

یو پی انتخابی نتائج کے بعد صرافہ بازار میں زبردست اچھال ممکن
حیدرآباد۔یکم۔مارچ (سیاست نیوز) ملک میں سونے کی قیمت میں اضافہ یا کمی کا انحصار امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اس قیمتی دھات کے متعلق اختیار کردہ پالیسی پر ہوگا۔ اترپردیش انتخابات کے فوری بعد سونے کی قیمت میں اضافہ کی توقع کی جا رہی تھی لیکن امریکہ کی جانب سے اختیار کی جانے والی پالیسی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہاہے کہ آئندہ دنوں میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جائے گی لیکن اس کے متعلق امریکی صدر کی پالیسی کے اعلان کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا۔ ملک میں کرنسی تنسیخ کے بعد پیدا شدہ حالات کے سبب صرافہ بازار غیر یقینی صورتحال کا شکا ر رہا اور اور گذشتہ ماہ یعنی فروری کے دوران بازار کی حالت میں کچھ سدھار آنے کے امکان ظاہر کئے جا رہے تھے اور 20فروری کے بعد بینک سے منہائی کی حد میں دی گئی نرمی کے بعد حالات میں تبدیلی رونماء ہورہی تھی اور توقع کی جا رہی تھی کہ اترپردیش انتخابات کے نتائج کے بعد صرافہ بازار میں زبردست اچھال دیکھا جائے گا کیونکہ مارچ کے وسط سے شادیوں کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ شادیوں کے سیزن کے دوران سونے کی خریدی میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے اور ان دنوں میں سونے کی قیمت میں اضافہ بھی ہوتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کوئی یہ کہنے سے قاصر ہے کہ سونے کی قیمت میں اضافہ ہوگا یا کمی ریکارڈ کی جائے گی کیونکہ اس کا انحصار سونے کے متعلق امریکہ کے نظریہ پر ہوگا ۔ہندستان کو دنیا کی دوسری بڑی سونے کی کھپت والی مملکت تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ہندستان میں سونے کا استعمال صرف سرمایہ کاری کیلئے نہیں ہوتا بلکہ ہندستانی گھرانوں میں خواتین کی آرائش و زیبائش میں سونے کا اہم عنصر شامل ہوتا ہے اور شادی بیاہ کی تقاریب میں سونے کے استعمال کا رجحان دیگر ممالک کی نسبت ہندستان میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ماہ مارچ کے اواخر میں سونے کی قیمت میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو یہ قیمت 30ہزار روپئے تولہ سے تجاوز کرسکتی ہے جبکہ کمی ریکارڈ کئے جانے پر یہ قیمت28 ہزار 500اور 29ہزار کے درمیان رہے گی۔ صرافہ بازار کے نمائندہ تاجروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دو دنوں میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ سونے کی قیمت کے تعین کا رجحان کیا رہے گا؟ بتایا جاتا ہے کہ تجارتی برادری اور سرمایہ کاروں کی نظریں ایک مرتبہ پھر سونے پر مرکوز ہونے لگی ہیں کیونکہ اس صورتحال میں سونے کی بطور اثاثہ خریدی ان کے لئے بہت بڑے فائدہ یا کافی زیادہ نقصان کا موجب بن سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سونے کے متعلق نظریات و پالیسی کے اعلان کا ہندستانی صرافہ تاجرین کو بھی بے چینی سے انتظار ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT