Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / سوچھ بھارت ، سوچھ تلنگانہ اور سوچھ حیدرآباد صرف ریا کاری

سوچھ بھارت ، سوچھ تلنگانہ اور سوچھ حیدرآباد صرف ریا کاری

حیدرآباد وبائی امراض کی لپیٹ میں ، کئی مقامات پر کچرے کا انبار ، سیاسی قائدین ، رضاکار تنظیموں کی بھی راہ فراری
حیدرآباد۔22جولائی (سیاست نیوز) سوچھ بھارت‘ سوچھ تلنگانہ اور سوچھ حیدرآباد سننے کیلئے یہ کافی اچھے نام ہیں اور عوام کو ان پروگرامس سے امیدیں بھی وابستہ ہوچکی تھی کہ واقعی ان پروگرامس کے ذریعہ صفائی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ سوچھ بھارت مہم چلانے والے تو اسی وقت عیاں ہو گئے جس وقت کچہرا پھینک کر صفائی ابھیان چلایا گیااور اس کی ویڈیو منظر عام پر آگئیں۔ سال گذشتہ حکومت تلنگانہ ’’سوچھ بھارت‘‘ سے متاثر ہوکر ’’سوچھ حیدرآباد ‘‘ پروگرام کا آغاز کیا تھا اور اس سلسلہ میں 400سوچھ کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے ہنگامہ خیزی کے ساتھ جگہ جگہ سیاسی قائدین ‘ اعلی عہدیدار‘ فلمی شخصیتوں اور رضاکارانہ تنظیموں کے ذمہ داروں کو سڑکوں کی صفائی کرتے دیکھ عوام میں یہ احساس پیدا ہوا تھا کہ شہر میں ایک مرتبہ پھر تلگو دیشم دور حکومت کی طرح صاف صفائی کا عمل شروع ہو جائے گا اور ذمہ دار خود شڑکوں پر جاروب کشی کرتے ہوئے عوام کو صفائی کی ترغیب دیں گے لیکن سال گذشتہ ماہ مئی میں چلائی گئی اس مہم کے بعد سے پھر کوئی سڑکوں و محلوں کی صفائی کرتا نظر نہیں آیا بلکہ اب پرانے شہر کے علاقوں کی حالت دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صفائی کرنے والا عملہ بھی ان نوڈل آفیسرس کا منتظر ہے کہ وہ آئیں تو ان کے ساتھ تصویر کشی کرتے ہوئے کچہرے کی صفائی عمل میں لائی جائے۔ پرانے شہر ہی نہیں بلکہ شہر کے کسی بھی علاقہ میں حکومت کی جانب سے زور و شور سے شروع کردہ اس منصوبہ پر عمل آوری کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ 200کروڑ سے زائد خرچ کرنے کے باوجود اس مہم سے کچھ حاصل نہیں ہو پایا ہے۔ 16 تا 20مئی 2015کے دوران چلائے گئے اس صفائی ابھیان کے دوران یہ سمجھا جا رہا تھا کہ عوامی نمائندے کم از کم اپنے علاقوں کی صفائی کو یقینی بنائیں گے اور عہدیدار انہیں تفویض کردہ ذمہ داریوں کو نبھائیں گے لیکن شہر کے کسی بھی حصہ میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ چارمینار کے دامن میں ‘ مغلپورہ پانی کی ٹانکی اور غازیٔ ملت کالونی کے داخلہ پر کچہرے کے انبار ‘ پرانے شہر کے کئی رہائشی علاقوں میں پڑے کچہرے کے انبار کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت سوچھ حیدرآباد کو قابل عمل بنانے میں ناکام ثابت ہو چکی ہے اور کسی بھی ذمہ دار کو اس منصوبہ پر عمل آوری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت بڑے تشہیری دعوؤں کے ساتھ منصوبوں کا اعلان کر رہی ہے لیکن ان منصوبوں پر مؤثر عمل آوری کروانے میں ناکام ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے چلائے جارہے ہریتا ہرم پروگرام کے متعلق بھی عوام میں منفی نظریہ پایا جا رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے بلدی انتخابات سے قبل ’’سوچھ حیدرآباد ‘‘ کے نام سے پروگرام چلایا لیکن اندرون ایک سال اس پروگرام کی قلعی کھل گئی اور اب ہریتا ہرم کی تشہیر کی جا رہی ہے لیکن سابقہ تجربوں کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے ا س پروگرام کا بھی وہی حشر ہوگا جو سوچھ حیدرآباد کا ہوتا نظر آرہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT