Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / سوچھ بھارت ابھیان ‘ مزید 6 ریاستیں شامل ہونے کوشاں

سوچھ بھارت ابھیان ‘ مزید 6 ریاستیں شامل ہونے کوشاں

تلنگانہ، کیرالا، جھارکھنڈ ، مہاراشٹرا اور چھتیس گڑھ کی درخواست ۔ مشن میں پیشرفت کا دعوی
حیدرآباد 16 جولائی (سیاست نیوز) ملک بھر میں شروع کئے گئے سوچھ بھارت ابھیان کے دوران مرکزی حکومت نے ملک کی تمام ریاستوں کو کھلے مقامات پر رفع حاجت و پیشاب کی جگہوں سے پاک کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا ہے اُس میں سوچھ بھارت کی تیسری سالگرہ یعنی 2 اکٹوبر کو ملک کی مزید چھ ریاستیں شامل ہونے کیلئے کوشاں ہیں۔ سوچھ بھارت مشن کے دوران تیار کردہ اِس منصوبے کے تحت تلنگانہ، کیرالا، جھارکھنڈ ، مہاراشٹرا اور چھتیس گڑھ نے یہ ادعا پیش کیا ہے کہ اِن ریاستوں میں کھلے مقامات پر پیشاب کرنے پر عائد کی گئی پابندی کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں اور عوامی بیت الخلاء کی تعمیر کے ساتھ شہریوں کو سہولتوں کی فراہمی کے سلسلے میں ریاستوں نے متعدد اقدامات کئے ہیں جس کے سبب مذکورہ ریاستوں میں کھلے مقامات پر حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے والوں کی تعداد صفر ہوچکی ہے۔ ریاست تلنگانہ کی جانب سے پیش کئے گئے ادعا میں کہا گیا کہ ریاست کے کسی بھی ضلع میں کھلے مقامات پر پیشاب کرنے کے واقعات میں 99 فیصد کمی لائی جاچکی ہے اور تیزی سے ریاست کے تمام مکانات میں بیت الخلاء کی تعمیر کو ممکن بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سوچھ بھارت مشن میں مزید 6 ریاستوں کی جانب سے کئے گئے اِس ادعا کے ساتھ اب ملک کی 16 سے زائد ریاستیں کھلے مقامات پر حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کے عمل سے پاک قرار دی جائیں گی۔ 2 اکٹوبر 2017 ء کو مرکزی حکومت کی جانب سے اِن ریاستوں بشمول تلنگانہ کو اِس فہرست میں شامل کئے جانے کے بعد ریاست تلنگانہ صفائی پر توجہ دینے والے سرکردہ ریاستوں میں شامل ہوجائے گی۔ سوچھ بھارت منصوبے کے تحت حکومت ہند نے ملک بھر میں صفائی کو ممکن بنانے کے علاوہ دیہی علاقوں تک گھروں میں بیت الخلاء کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور اِس منصوبے کو شروع کرکے 3 سال کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے۔ مرکزی حکومت کے وزارت شہری ترقیات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گجرات، آندھراپردیش، چندی گڑھ و دیگر ریاستوں میں تمام مکانات میں بیت الخلاء موجود ہیں اور بعض ریاستوں میں جہاں دیہی علاقوں کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی لوگوں کو بیت الخلاء کے مسائل ہیں، اُسے بڑی حد تک ختم کرلیا گیا ہے اور آئندہ چند ماہ کے دوران مزید شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی بیت الخلاء کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوام کو گھروں کے باہر بھی بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT