Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ’’سوچی، بہت ہوچکا!عالم اسلام کیلئے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم ناقابل برداشت ‘‘

’’سوچی، بہت ہوچکا!عالم اسلام کیلئے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم ناقابل برداشت ‘‘

وزیراعظم ملائیشیا نجیب رزاق کے بیان پر میانمار ورکرس کا ملائیشیا روانگی کا سلسلہ مسدود
ینگون ۔ 7 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) میانمار نے اپنے ورکرس کو مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا جانے پر امتناع عائد کردیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں بدھسٹ اکثریت والے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائی کئے جانے کے بعد ملائیشیا اور میانمار کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کچھ روز قبل وزیراعظم ملائیشیا نجیب رزاق نے میانمار کی اعلی سطحی قائد آنگ سان سوچی پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا خاموشی سے نظارہ کررہی ہیں جبکہ انہیں اس نسل کشی کو روکنے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔ نجیب رزاق نے کوالالمپور میں اتوار کو ایک زبردست ریالی سے خطاب کیا تھا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ ریالی میں موجود ہجوم میانمار کے مغربی راکھین اسٹیٹ میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائی کئے جانے کی زبردست مذمت کررہا تھا جس کے بعد مجبور ہوکر زائد از 20,000 روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش کا رخ کیا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ بدھسٹوں اور میانمار کے فوجیوں کی کارروائی میں جو روہنگیا مسلمان بچ گئے تھے۔ انہوں نے اپنی ایسی آپ بیتی سنائی کہ رونگھٹے کھڑے ہوجائیں۔ انہوں نے بتایا کہ جوان عورتوں کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی۔ سکیورٹی فورسیس نے کئی لوگوں کو اذیتیں دے کر ہلاک کیا جبکہ درجنوں افراد ایسے ہیں جنہوں نے دریا کو عبور کرنے کی کوشش کی تاہم ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ بدھسٹوں کی اکثریت والے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت کا جذبہ عرصہ دراز سے موجود ہے تاہم حالیہ واقعات نے تمام مسلم ممالک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور وہ میانمار کے خلاف بیانات جاری کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یہاں تک کہ کئی ممالک میں اب بدھسٹوں کے خلاف نفرت کی لہر چل پڑی ہے۔ اگر نجیب رزاق کے بیان کا احاطہ کیا جائے تو انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ اب بہت ہوچکا ہے۔ آنگ سان سوچی یہ سمجھ لیں کہ ہم مسلمانوں اور اسلام کا ہر حال میں تحفظ کریں گے۔ چاہے ان کی جو بھی قومیت ہو۔ عالم اسلام مسلمانوں کی نسل کشی کا ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشہ نہیں دیکھ سکتا۔ دوسری طرف ملائیشیائی حکومت کے ایک وزیر نے آسیان بلاک میں میانمار کی رکنیت پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔

میانمار کے عہدیداروں نے البتہ روہنگیا مسلمانوں پر کی جانے والی زیادتیوں کے الزام کو مسترد کردیا جبکہ آنگ سان سوچی نے بھی بین الاقوامی برادری سے ان کے خلاف زہر اگلنے کے سلسلے کو بند رکھنے کی بات کہی۔ یاد رہے کہ کل ہی میانمار کی وزارت امیگریشن نے اطلاع دی کہ ملائیشیا میں میانمار کے ورکرس کو کام کرنے کے لائسنس جاری کرنے کا سلسلہ مسدود کردیا گیا ہے جو عرصہ دراز سے میانمار کے ورکرس کے لئے روزی روٹی کا پرکشش مقام رہا ہے جس کا اطلاق 6 ڈسمبر سے ہوچکا ہے۔ وزارت امیگریشن نے مزید تفصیلات نہ بتاتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ ملائیشیا میں میانمار کے خلاف جو جذبات پائے جارہے ہیں، ان کو مدنظر رکھتے ہوئے میانمار کے ورکرس کو ملائیشیا بھیجنے کا سلسلہ مسدود کردیا گیا ہے۔ میانمار کے ورکرس کم تنخواہوں میں ملائیشیا کی کئی فیکٹریز یا پھر فوڈ اور ہاسپٹالیٹی صنعت سے وابستہ ہیں۔ ملائیشیا کے مطابق حالیہ دنوں میں 56,000 روہنگیا مسلمان ناقص کشتیوں کے ذریعہ ملائیشیا کے ساحل پر پہنچے ہیں کیونکہ انہیں راکھین اسٹیٹ میں زبردست امتیازی سلوک اور غربت کا سامنا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان جنہوں نے راکھین کے حالات کی تحقیقات کرنے والی ایک کمیشن کی قیادت کرتے ہوئے میانمار کا دورہ کیا تھا، نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالات چاہے جیتنے بھی خراب ہوں لیکن اس سے خطہ کے ٹکڑے ہوجانے کا کوئی اندیشہ موجود نہیں ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT