Saturday , September 23 2017
Home / دنیا / سوچی مائنمار کے فوجی حکمراں کی جانب سے بات چیت کیلئے مدعو

سوچی مائنمار کے فوجی حکمراں کی جانب سے بات چیت کیلئے مدعو

ینگون 11 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مائنمار کی قائد اپوزیشن آنگ سان سوچی کو ملک کے صدر اور طاقتور فوجی سربراہ سے ’’قومی مفاہمت‘‘ کی بات چیت کے لئے مدعو کیا گیا ہے کیوں کہ مائنمار میں اتوار کو ہوئے عام انتخابات میں سوچی کی جمہوریت حامی پارٹی واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے سے صرف کچھ فاصلہ کی دوری پر ہے۔ اب تک جن نشستوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے اُن میں سے 90 فیصد نشستوں پر سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (NLD) نے قبضہ جمالیا ہے۔ حالانکہ انتخابی عہدیداروں نے این ایل ڈی کو اب تک فاتح قرار دینے کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ مائنمار جہاں گزشتہ نصف صدی سے فوج اور اس کی حلیف جماعتوں کی حکومت رہی ہے، اب تبدیلی کی جانب گامزن ہے۔ اب عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ فوجی حکمراں سوچی کی پارٹی کی واضح اکثریت کو کس طرح ہضم کرتے ہیں کیوں کہ قبل ازیں 1990 ء کے انتخابات کی یادیں بھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہیں جہاں اُس وقت بھی این ایل ڈی ہی نے واضح اکثریت حاصل کی تھی لیکن بعدازاں فوج ڈنڈی مارتے ہوئے اقتدار پر قابض ہوگئی تھی۔ دریں اثناء سوچی نے فوجی حکمراں صدر تھین سین کو مکتوبات تحریر کئے ہیں جس میں اُنھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ رائے دہی کے ذریعہ عوام نے اپنی مرضی ظاہر کردی ہے۔ اُنھوں نے کمانڈر انچیف من آنگ لیانگ کے علاوہ بارسوخ سمجھے جانے والے پارلیمانی اسپیکر شیوے من کو بھی مکتوبات کے ذریعہ عوام کی رائے سمجھانے کی کوشش کی ہے جس کے بعد ہی سوچی کو ’’قومی مفاہمت‘‘ کے موضوع پر اُنھیں (سوچی) دستیاب خالی وقت میں بات چیت کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ ملک کے وزیر اطلاعات نے بھی وضاحت کی ہے کہ تھین سین بھی انتخابات کے مکمل نتائج کے اعلان کے بعد سوچی سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مائنمار میں ابھی سخت دشوار کن زمانہ آنے والا ہے کیوں کہ فوج نے جس نوعیت کا دستور تشکیل دیا ہے اس میں پارلیمنٹ کی 25 فیصد نشستوں اور اہم سکیوریٹی عہدوں کو فوج کے لئے بطور ’’تحفہ‘‘ محفوظ رکھا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT