Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / سٹی پولیس بیف فیسٹول کے انعقاد کو روکنے تیار

سٹی پولیس بیف فیسٹول کے انعقاد کو روکنے تیار

گرفتاریوں سے گریز نہیں کیا جائیگا۔ یونیورسٹی کیمپس میں اضافی دستوں کی تعیناتی کا منصوبہ
حیدرآباد 6 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) سٹی پولیس عثمانیہ یونیورسٹی کے کچھ طلبا کی جانب سے کیمپس میں 10 ڈسمبر کو بیف فیسٹول کے انعقاد کو روکنے کیلئے تیار ہوچکی ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہاں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرنے سے گریز نہیں کیا جائیگا ۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار کے بموجب بہت جلد عثمانیہ یونیورسٹی کے احاطہ میں صورتحال پر قابو پانے کیلئے اضافی پولیس دستو ں کو متعین کیا جائیگا ۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک طلبا تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ وہ 10 ڈسمبر کو عالمی یوم حقوق انسانی کے موقع پر بیف فیسٹول کا انعقاد عمل میں لائیگی ۔ پولیس عہدیدار نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے حکام نے کسی بھی طرح کے فیسٹول کے انعقاد کی اجازت نہیں دی ہے ۔ ایسے میں کیمپس میں کسی فیسٹول کے انعقاد کی اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم کو یہ احساس ہو کہ صورتحال لا اینڈ آرڈر میں بگاڑ کا موجب بن سکتی ہے تو ہم احتیاطی گرفتاریوں کا فیصلہ کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے کیمپس میں چوکسی میں اضافہ کردیا ہے اور حالات پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے ۔ پولیس کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے ۔ پولیس کے انتباہ اور حکام کی جانب سے اجازت نہ دئے جانے سے قطع نظر آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے تعلق کا ادعا کرنے والے ایک رکن شنکر نے کہا کہ بیف فیسٹول حسب تجویز منعقد ہوگا ۔ سی پی آئی سے تعلق رکھنے والی یہ طلبا تنظیم بیف فیسٹول کے آرگنائزرس میں شامل ہے ۔ طلبا کے ایک مخالف گروپ نے بیف فیسٹول کے خلاف کیمپس میں پورک فیسٹول منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جس سے یہاں حالات تصادم کی راہ پر چلے گئے ہیں۔ تاہم یونیورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ کیمپس میں تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ کسی بھی پروگرام کی اجازت نہیں دینگے ۔ اس دوران بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ریاستی صدر وکرم ریڈی نے کہا کہ وہ نہ بیف فیسٹول کے مخالف ہیں اور نہ کسی دوسرے فیسٹول کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی جے وائی ایم کا ایسے فیسٹولس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT