Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / سپاہی کی بندوق چھیننے والے ایک شخص کو گولی مار دی گئی

سپاہی کی بندوق چھیننے والے ایک شخص کو گولی مار دی گئی

پیرس کے اورلی ائرپورٹ پر واقعہ ۔ دو ٹرمنلس بند کردئے گئے ۔ طیاروں کی آمد و رفت معطل

پیرس 18 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) پیرس کے اورلی ائرپورٹ پر سکیوریٹی فورسیس نے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا جس نے ایک سپاہی کی بندوق چھین لی تھی ۔ فرانس میں آئندہ چند ہفتوں بعد صدارتی انتخاب ہونے والے ہیں اور اس لئے وہاں سخت چوکسی برتی جا رہی ہے ۔ فرانس کے دارالحکومت میں اورلی دوسرا بڑا ائرپورٹ ہے جسے مقامی وقت کے مطابق صبح 8.30 بجے ہوئے فائرنگ واقعہ کے بعد خالی کروادیا گیا تھا اور دونوں ہی ٹرمنلس کو بند کردیا گیا ۔ ائرپورٹ حکام نے یہ بات بتائی ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان پئیر ہنری برانڈیٹ نے کہا کہ ایک شخص نے ایک سپاہی سے ہتھیار چھین لیا تھا اور پھر وہ ائرپورٹ میں ایک دوکان میں روش پوگیا تھا جس کے بعد اسے گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں کوئی دوسرا زخمی نہیں ہوا ہے ۔ پیرس کے جنوبی مضافات میں واقع اس ائرپورٹ کا ملک کے وزیر داخلہ برونو لی روکس دورہ کرنے والے ہیں۔ برانڈیٹ نے کہا کہ یہ پتہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا اس شخص کے پاس کوئی دھماکو مادے تو نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا 3,000 افراد کا جنوبی ٹرمنل سے تخلیہ کروایا گیا ہے لیکن دوسرے ٹرمنل میں جو لوگ تھے انہیں وہیں روک دیا گیا ۔ فرانس کی شہری ہوابازی کی اتھاریٹی نے کہا کہ اورلی کیلئے ٹریفک کو پوری طرح معطل کردیا گیا ہے ۔ فرانس میں کئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے ہنوز ایمرجنسی جیسی صورتحال ہے ۔

یہاں نومبر 2015 میں ہلاکت خیز حملہ کیا گیا تھا ۔ نائیس شہر میں ایک ٹرک کے ذریعہ بھی گذشتہ سال جولائی میں حملہ کیا گیا تھا ۔ تازہ ترین فائرنگ کا واقعہ فرانس میں دو مراحل میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلہ سے چند ہفتے قبل کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس بار بھی یہاں انتخابات میں سکیوریٹی ہی اصل مسئلہ ہے ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ کچھ لوگ تل ابیب جانے والی پرواز کیلئے چیک ان کرنے قطار میں تھے کہ انہیں تین تا چار فائرنگ کی آوازیں آئیں۔ ایک شخص نے بتایا کہ واقعہ کے بعد تمام افراد کو باہر نکال دیا گیا ہے اور یہ لوگ ائرپورٹ گیٹ کے 200 میٹر دور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ائرپورٹ میں تمام مقامات پر پولیس اہلکار ‘ ایمرجنسی ورکرس اور سپاہی ہی ہیں۔ ایک سکیوریٹی عہدیدار نے ہمیں اس واقعہ کی اطلاع دی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT