Thursday , September 21 2017
Home / اداریہ / سپریم کورٹ اور دستوری ذمہ داریاں

سپریم کورٹ اور دستوری ذمہ داریاں

شکستہ ساز سے ٹوٹی ہوئی صدا لے گا
سوائے غم کے مرے پاس سے وہ کیا لے گا
سپریم کورٹ اور دستوری ذمہ داریاں
اتراکھنڈ کے سیاسی بحران میں مزید پیچیدگیاں پیدا کردی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا کہ اب ہریش راوت کی کانگریس حکومت نہیں کرسکتی۔ کل ہی کی بات ہے کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے صدر راج کے نفاذ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی کو بحال کردیا تھا۔ مرکز میں نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت نے جمہوریت کے جلیل القدر مقام صدرجمہوریہ کے دفتر کو سیاسی مفادات کی پوجا کرنے کا مقام بناتے ہوئے اتراکھنڈ میں گزشتہ ماہ صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی اور صدرجمہوریہ سے اس سفارش کی توثیق بھی کرائی۔ ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت کو دستور کے آرٹیکل 356 کے حوالے سے پامال کرنے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ مختلف عنوانات سے مرکز میں برسر اقتدار پارٹی اپنے سیاسی عزائم کو بروئے کار لانے کوشاں رہتی ہے۔ اتراکھنڈ جیسی چھوٹی سی پہاڑی ریاست میں بہت بڑی سیاست کی جارہی ہے۔ اس سیاسی کھیل کے اصل مہرے بی جے پی کے مرکزی قائدین ہیں۔ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلہ پر حکم التواء جاری کرتے ہوئے 27 اپریل کو آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔ اس وقت تک اتراکھنڈ صدر راج کے تحت ہی رہے گا۔ سابق چیف منسٹر ہریش راوت کو کل جو راحت و مسرت ملی تھی آج کافور ہوگئی۔ راوت نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد کل رات کابینہ کا اجلاس طلب کیا اور 11 نئے فیصلے کئے تھے۔ حکومت کی یہ کوشش رائیگاں ہوگئی۔ بی جے پی کی کوشش یہ ہے کہ اتراکھنڈ میں اسے حکمرانی کا موقع مل جائے۔ کانگریس کے گوشوں میں پھوٹ ڈال کر چند ارکان کو منحرف کروایا گیا۔ اسپیکر نے کانگریس کے 9 ارکان اسمبلی کو نااہل بھی قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کی یہ کارروائی مرکز کی درخواست پر کی گئی۔ اب اتراکھنڈ کا مسئلہ سپریم کورٹ کی عدالت میں ہے تو اب تمام نگاہیں عدالت عالیہ کے فیصلہ کی جانب ٹکی ہوئی ہیں۔ بومائی کیس تقریباً دو دہوں بعد سپریم کورٹ نے ایک بار پھر آرٹیکل 356 کے استعمال اور غلط استعمال کی حجت پر اپنی قانونی روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اتراکھنڈ میں صدر راج کے نفاذ کے بعد مرکز کی بی جے پی حکومت کے وزراء اور قائدین نے جس طرح کے تبصرے کئے تھے اس سے ان کے سیاسی مقاصد عیاں ہوئے تھے۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اتراکھنڈ کو ایک ٹکسٹ بُک کی مثال دی تھی جہاں حکمرانی کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ ریاستوں میں حکمرانی کے لئے بحران پیدا کرنے کی اصل وجہ حکمراں پارٹی کے ارکان کی مفاد پرستی بھی ہوتی ہے۔ اگر حکمراں پارٹی کے وزراء اور ارکان اپنی ذات میں متحد ہوں تو کوئی بھی پارٹی پھوٹ کا شکار بنانے کی کوشش نہیں کرتی۔ اگر حکمراں پارٹی کے ارکان اپنے ہی گھر میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کریں تو اس کا فائدہ دشمن گروپ کو ہوگا۔ اتراکھنڈ کے کانگریس ارکان کا جب بی جے پی کی جانب جھکاؤ دیکھا گیا تو ہریش راوت کی حکومت کو بیدخل کرنے کی پہل کی گئی۔ یہاں مرکز کے رول کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز کی اپیل کو اہمیت دے کر بنچ نے کیس کو سماعت کے لئے قبول کیا اور حکم التواء جاری کیا۔ بومائی کیس کی روشنی میں اتراکھنڈ کی ہریش راوت کابینہ کو بھی طاقت کی آزمائش سے گزرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو سپریم کورٹ کے موجودہ ججس اپنے پیشرو ججس کے فیصلہ کی اطاعت کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔ مگر مرکز کی جانب سے جب کبھی آرٹیکل 356 کا استعمال ہوتا ہے یہ متنازعہ ہی بن جاتا ہے۔ دستور کا یہ آرٹیکل 356 نہایت ہی ابتری کی حالت میں استعمال کے قابل ہے مگر کسی جمہوری حکومت کو محض سیاسی مقاصد کی نیت سے بیدخل کرنے کے لئے اس کا سہارا لینے کو بیجا استعمال کی تعریف میں آتا ہے۔ اب سپریم کورٹ کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ آیا اتراکھنڈ کی کانگریس حکومت کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا جائے یا صدر راج برقرار رکھتے ہوئے تازہ انتخابات کروائے جائیں۔ بی جے پی یہاں اپنے اٹارنی جنرل کے ذریعہ کیس کو اپنے موافق بنانے کی کوشش ضرور کرے گی۔ عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے مرکز کے فیصلہ کی افادیت کا سوال اٹھائے مگر جہاں مسئلہ کی بنیاد حقیر پارٹی سیاست میں پیوست ہے اس طرح کے واقعات پر قوانین اور عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں مگر ان پر عمل آوری کا جذبہ سیاسی مرضی کے تابع بنادیا جائے تو بحران دور کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔ مرکز نے اپنی نیت پر پردہ ڈالنے اور عوام کو کنفیوژ کرنے کے لئے عدالت کا سہارا لے لیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سچ سچ ہوتا ہے اور یہ سچ سب کا ہوتا ہے۔ اتراکھنڈ کا کیس بھی ایک طرف سیاسی طاقت کی جدوجہد ہے اور دوسری طرف دستوری افادیت کا تحفظ ہے۔ اتراکھنڈ کی ہائیکورٹ نے جب فیصلہ سناتے ہوئے یہ کہاکہ صدر راج کے نفاذ کے لئے مرکزی حکومت کا آرڈر عدالتی تنسیخ کا متقاضی ہے تو اس وقت کانگریس اور بی جے پی دو بڑی سیاسی طاقتیں ہیں اور انھیں پارٹی کے داخلی اسباب کے باعث عدم استحکام کے خطرات کا سامنا ہے لہذا ہر ایک پارٹی کو اپنے گریبان میں جھانکنا ضروری ہے۔
ہندوستانی صرافہ بازار اور حکومت
ہندوستان میں اس سال معمول سے بہتر مانسون کی پیش قیاسی اور افراط زر میں توازن برقرار رہنے کی اطلاعات کے درمیان یہ اُمید ظاہر کی گئی ہے کہ پیداوار میں اضافہ ہوگا اور آر بی آئی نے اپنی پالیسی میں نرمی لائی ہے تو اس سے شیر مارکٹ میں اُچھال بھی درج کئے جانے کی توقع ہے۔ ڈالر کے مقابل روپئے کی قدر بھی پہلے سے بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ یہ فی ڈالر 66.10 سے 66.71 روپئے کے درمیان مستحکم ہے لیکن مودی حکومت کی اصلاحات پالیسیوں کے باوجود روپئے کی قدر زیادہ مستحکم نہیں ہوسکی۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہندوستانی کرنسی کی قدر 38 پیسے گھٹ گئی۔ اسی طرح ہندوستانی شیر مارکٹ میں کسی قدر بہتری نوٹ کی گئی ہے۔ اس ہفتہ 211.39 عشاریہ یا 0.82 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں موسم گرما کے دوران شادیوں کا سیزن ہوتا ہے اس لئے سونے کی قیمت میں بتدریج اضافہ کا رجحان درج کیا گیا۔ سونا اور چاندی کی طلب میں اضافہ کے ساتھ ہی اس کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمت گزشتہ پانچ ہفتوں سے اونچی درج کی گئی۔ جیویلرس کی شکایات کے درمیان زیورات پر اکسائز ڈیوٹی کی ادائیگی کے مروج طریقہ کار پر بھی جیویلرس نے اعتراضات کئے ہیں۔ حکومت نے سابق معاشی مشیر اشوک لہری کی زیرقیادت ایک پیانل تشکیل دیا ہے جو جیویلرس کی شکایات کی سماعت کرتے ہوئے ان کے ازالہ کی کوشش کی جائے گی۔ دارالحکومت دہلی میں سونے کی قیمت فی دس گرام یا ایک تولہ 29,550 اور 29,400 روپئے درج کی گئی اور یہی سونا جیویلرس سے خریدنے پر فی دس گرام 29,900 روپئے اور 29,750 روپئے میں دستیاب ہورہا ہے۔ اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی بتدریج اضافہ درج کیا جارہا ہے۔ البتہ اس کی قیمت فی کیلو گرام 41,230 تک پہونچ گئی تھی لیکن اب اس کی قیمت 39,985 روپئے فی کیلو گرام درج کی گئی ہے۔ شادیوں کے سیزن کے پیش نظر حکومت اگر خریداروں سے زیادہ تاجروں کو ترجیحات دینے پر توجہ دے تو پھر صرافہ مارکٹ میں قیمتی دھاتوں پر قیمتوں کا کنٹرول بے قابو ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT