Monday , July 24 2017
Home / ہندوستان / سپریم کورٹ میں سابق جج کرنن کی درخواست ضمانت مسترد

سپریم کورٹ میں سابق جج کرنن کی درخواست ضمانت مسترد

کولکتہ پریسیڈنسی جیل میں محروس ، سزا معطل کرنے سے بھی انکار
چینائی؍ نئی دہلی۔ 21 جون (سیاست ڈاٹ کام) کولکتہ ہائیکورٹ کے سابق صبح سی ایس کرنن کو مغربی بنگال پولیس نے منگل کے دن کوئمبتور سے گرفتار کیا تھا۔ آج سپریم کورٹ نے ان کی درخواست ضمانت کو مسترد کردیا اور کولکتہ کی پریسیڈنسی عدالت جیل میں محروس رکھا گیا۔ سپریم کورٹ نے ان کی درخواست رد کرتے ہوئے تحقیر عدالت کیس میں انہیں دی گئی 6 کی جیل کی سزا کو معطل کرنے سے بھی انکار کردیا۔ یہ احکام آج سپریم کورٹ کی 7 رکنی ججس کی بینچ نے جاری کئے ہیں۔ اس معاملہ کی سماعت 7 ججس کی بینچ نے کی ہے اور احکام جاری کرتے ہوئے انہیں حکم کی تعمیل کا پابند بنادیا ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندریوز اور ایس کے کول کی وکیشن بینچ نے کہا کہ یہ احکام ہم کو پابند کرتے ہیں کہ ہم جسٹس کرنن کی سزا کی تعمیل کریں۔ ریٹائرڈ جج کی پیروی کرتے ہوئے وکیل میتھوس جے نیڈ پازہ نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ عدالت کے دوبارہ کشادہ ہونے تک ضمانت منظور کی جائے۔ آپ نے اس معاملے کو چیف جسٹس کی بینچ کے سامنے پیش کیا ہے۔ جسٹس کرنن کو مغربی بنگال پولیس نے کل ٹاملناڈو کے کوئمبتور میں گیسٹ ہاؤز سے گرفتار کیا۔ انہیں کولکتہ لایا گیا اور اس وقت وہ پریسیڈنسی جیل میں محروس ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT