Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / سپریم کورٹ نے ایودھیا مسلئے کے حل کے لئے نئی پہل کی تجویز پیش کی

سپریم کورٹ نے ایودھیا مسلئے کے حل کے لئے نئی پہل کی تجویز پیش کی

نئی دہلی:ملک کی سب سے بڑی عدالت نے آج کہاکہ ایودھیا مندر کا مسئلہ کو نہایت حساس اور جذباتی موضوع ہے کے حل کے لئے تمام پارٹیوں کو نئی پہل کی شروعات کرنی ہوگی۔

چیف جسٹس جے ایس کھیکر کی نگرانی والی بنچ نے کہاکہ اس قسم کے مذہبی معاملات کو بات چیت کے ذریعہ حل کیاجاناچاہئے اور پرامن حل کے لئے ثالث کے طور پر سامنے آنے کی بھی پیش کش کی ہے۔

سپریم کورٹ کی بنچ جو جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور ایس کے کول پر مشتمل ہے نے کہاکہ ’’ مذکورہ مسائل مذہبی اور جذباتی ہیں۔ اس قسم کے مسائل پر تمام جماعتوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر اتفاقی فیصلہ کرنا کی ضرورت ہے تاکہ تنازع کو حل کیاجاسکے۔

آپ تمام ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک خوشگوار میں اجلاس طلب کریں‘‘۔بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی جانب سے اس مسلئے پر عاجلانہ سنوائی کے مطالبہ کے فوری بعد عدالت کا مشاہدہ منظر عام پر آیاہے۔ سوامی نے یہ کہاتھا کہ چھ سال سے عدالت میں زیردوراں مقدمے کی جلد ازجلد ہونی چاہئے۔

رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ عدالت مسلم کمیونٹی کے ممبران سے رجوع ہوئی ‘ جو کہتے ہیں کہ اس مسلئے کے حل کے لئے قانونی مداخلت ناگزیرہے۔چیف جسٹس آف انڈیانے کہاکہ ’’ آپ اس پر متفقہ فیصلے کے لئے ایک تازہ پہل کریں۔ اگر ضرورت پڑتی ہے تو مسلئے کو ختم کرنے کے لئے ایک ثلاث کا بھی انتخاب کرسکتے ہیں۔

اگر پارٹیز ثلاث کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ میں اس کے لئے تیار ہوں۔ یہا ں تک کہ ہمارے ساتھ ججوں کی بھی اس کے لئے خدمات بھی لئے جائیں گے‘‘۔اعلی عدالت نے کہاکہ اگر دونوں پارٹیاں چاہتی ہیں تو بات چیت کے لئے ایک نگران کار بھی مقرر کیاجائے گا۔

بنچ نے سوامی سے کہاکہ دونوں پارٹیوں سے رابطہ قائم کریں اور 31مارچ تک عدالت کو اس کے متعلق معلومات فراہم کریں۔

پچھلے سال26فبروری کومعزز عدالت نے سوامی کو اس بات کی اجازت دی تھی ایودھیا ٹائٹل تنازع کے متعلق زیرالتوا ء معاملات میں مداخلت کریں جس میں ایودھیاکے اندر مہندم ڈھانچے کی جگہ رام مندر کی تعمیرکی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

قبل ازیں بی جے پی لیڈرایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے متعلق اجازت کے لئے جاری مقدمہ کی عاجلانہ سنوائی کے لئے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی بنچ کو درخواست پیش کی تھی۔

اپنی درخواست میں سوامی نے دعویٰ کیاتھا کہ اسلامی ممالک میںیہ بات عام ہے کہ مسجد کو عوامی مفادکے لئے سڑک کی تعمیر پر کسی دوسرے مقام پر منتقل کیاجاسکتا ہے‘ وہیں ایک بار کسی مقام پرمندر کی تعمیر ہوجاتی ہے تو اس ہاتھ بھی نہیں لگایا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT