Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / سپریم کورٹ نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیدیا لیکن جنسی انصاف کیلئے کچھ نہیں ہوا

سپریم کورٹ نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیدیا لیکن جنسی انصاف کیلئے کچھ نہیں ہوا

 

دانش قادری
تین طلاق کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار بالآخر ختم ہوا ۔ اب سپریم کورٹ میں کس تناسب سے یہ فیصلہ ہوا یہ تو کہنا مشکل ہے ۔ دو ججس نے کہا کہ تین طلاق کی روایت کی دستور کے دفعہ 25 میں گنجائش ہے اور یہ دستوری عمل ہے ۔
دو ججس نے کہا کہ یہ غیر دستوری ہے کیونکہ اس سے دفعہ 14 کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ ایک جج نے کہا کہ یہ غیر اسلامی ہے اس لئے غیر قانونی ہے ۔ ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تین طلاق کا عمل اب ملک میں غیر قانونی ہوگیا ہے ۔ صرف اس وجہ سے تین ججس کے اکثریتی فیصلہ کا خیر مقدم کیا جاتا ہے ۔ اس کا تفصیلی جائزہ کچھ اسطرح ہے ۔
قانونی جانچ
دو ججس جسٹس ٓر نریمان اور جسٹس یو یو للت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تین طلاق اب قانون کا حصہ ہے اس لئے اس کو بنیادی حقوق کی مطابقت میں ہونا چاہئے ۔ اس کو مذہب کی آزادی کے حق سے مربوط نہیں کیا جاسکتا ۔ یہی اس فیصلے میں سب سے اہم پہل ہے ۔
بالکل پہلی مرتبہ خاندانی امور سے متعلق ایک قانون کو دستور کے تابع کیا گیا ہے ۔ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ آیا مذہب کی آزادی کا حق اس کیس سے تعلق بھی رکھتا ہے؟ ۔ دو ججس کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے ہی دیکھا ہے کہ حالانکہ تین طلاق فقہ حنفی کے تحت درست ہے لیکن اس میں بھی اسے گناہ قرار دیا گیا ہے ۔ایسے میں یہ واضح ہے کہ تین طلاق کو دفعہ 25 کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔
مذہب بمقابلہ خاندانی قانون
دیگر دو ججس چیف جسٹس کھیہر اور جسٹس نظیر نے اس کے برخلاف نتیجہ اخذ کیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ
ہم اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ طلاق بدعت حنفی مسلک کے سنی مسلمانوں کے پرسنل لا کا مسئلہ ہے ۔ یہ ان کے عقیدہ کا مسئلہ ہے ۔ یہ عمل ان لوگوں میں کم از کم 1,400 سال سے جاری ہے ۔ ہم نے جائزہ لیا کہ آیا اس عمل سے دستور ہند کے دفعہ 25 میں فراہم کردہ گنجائش کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں اور ہم اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ اس عمل سے ان تقاضوں کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ ہم اس نتیجہ پر بھی پہونچے ہیں کہ چونکہ یہ عمل پرسنل لا کا حصہ ہے اس لئے اس کی دستور کے دفعہ 25 میں گنجائش ہے ۔ یہ تجویز یا خیال در اصل ملک میں سکیولر ازم کیلئے سنگین مسائل پیدا کرتا ہے ۔ اس میں در اصل مذہب اور خاندان سے متعلق قانون میں فرق نہیں کیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ
مذہب عقیدہ کا مسئلہ ہے منطق کا نہیں۔ کسی عدالت کیلئے یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ایک ایسے عمل پر مساوات کا طریقہ اختیار کرے جو کسی مذہب کا حصہ ہو۔ دستور میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عقائد اور مذہبی روایات پر عمل کریں۔ دستور میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یہ تیقن بھی دیا گیا ہے کہ ان کے طرز زندگی کی صمانت ہے اور اس کو کسی طرح کا چیلنج نہیں کیا جائیگا چاہے یہ دوسروں کیلئے بھلے ہی وہ اسی مذہب کے مانے والے جدت پسند کیوں نہ ہوں‘ ان کیلئے آج کی دنیا اور وقت میں ناقابل قبول ہی کیوں نہ ہو۔ دستور میں اس کی ضمانت ہے کیونکہ عقیدہ اپنے ماننے والوں کے مذہبی شعور پر مبنی ہوتا ہے ۔ اس کے ماننے والے الگ الگ گروپس میں بھی ہوسکتے ہیں۔ دستور میں ہر گروپ کے عقائد کے تحفظ کی کوشش کی گئی ہے ۔
جہاں مذہبی شعور سے لوگ یکجا ہوتے ہیں اس سے ایک سوال کا جواب نہیں ملتا کہ اگر مذہبی شعور سے خواتین کے مساوات کی خلاف ورزی ہوتی ہو کیا کیا جائے ؟ ۔ کیا عقیدہ کے تمام امور کی مذہب کی آزادی کے حق میں ضمانت ہے ؟ ۔ کل کیا ہوگا اگر یہ بحث کی جائے کہ جادو ٹونا بھی عقیدہ کا حصہ ہے اور اس کا بھی مذہب کی آزادی کے حق کے تحت تحفظ کیا جانا چاہئے ؟ ۔
عدالت اس تعلق سے کیا کہے گی کہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ ان کے عقیدہ کی بات ہے کہ رام ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر پیدا ہوئے تھے اور اس عقیدہ کا مذہب کی آزادی کے حق کے تحت تحفظ کیا جانا چاہئے ؟ ۔ اقلیتی فیصلے میں کوئی شک نہیں کہ اسے قبول کرنے کو کہا جائیگا جب اس مسئلہ پر ڈسمبر میں مباحث ہونگے اور یہ ہر کوئی قیاس کرسکتا ہے کہ وسیع تر بنچ کیا کہہ سکتی ہے ۔ سوئنگ ووٹ : تین طلاق نظریاتی اعتبار سے خراب ہے ۔یہ بات ان ہی چار ججس پر تاہم ختم نہیں ہوجاتی ۔ پانچویں جج جسٹس کورین جوزف کا کہنا تھا کہ مقدس قرآن میں جو چیز خراب قرار دی گئی ہے وہ شریعت میں اچھی نہیں ہوسکتی ۔ اسی تناظر میں جو شئے نظریاتی اعتبار سے اچھی نہیں ہو وہ قانون میں بھی خراب ہے ۔
جسٹس کورین جوزف کا ووٹ چونکہ تین طلاق کے خلاف تھا اس لئے اب یہ عمل غیر قانونی ہوگیا ہے ۔ اس مسئلہ پر منقسم رائے رہی تھی ۔ حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ یہ طئے نہیں کیا جاسکا کہ کیا چیز مذہب کے دائرہ کار میں آتی ہے اور کیا نہیں آتی ۔ یہ مسئلہ ختم نہیں ہو رہا ہے ۔ اس کے سکیولر ازم کیلئے بہت اہم عواقب ہونگے ۔
جنسی انصاف پر کوئی مباحث نہیں
تاہم سوال یہ ہے کہ عدالت میں ایک بار پھر یہ سوال کیوں نظر انداز کردیا گیا کہ آیا اس قانون سے خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے کیونکہ اس میںجنس کی بنیاد پر خواتین سے امتیاز برتا گیا ہے ۔ فیصلے میں یہ کوئی تذکرہ نہیںہے کہ خواتین کیلئے جنسی انصاف کا مطلب کیا ہے ۔ جسٹس روہنگٹن نے اس قانون کو دفعہ 15 کی خلاف ورزی کی بنیاد پر مسترد کرنے کی بجائے اس بنیاد پر مسترد کیا کہ یہ صوابدید پر مشتمل ہے ۔
یقینی طور پر یہ قانون صوابدید سے متعلق ہے لیکن یہ جنس کی بنیاد پر امتیاز پر بھی مبنی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اسے اسی بنیاد پر مسترد نہ کیا جاسکے ۔ اس سے دستور کی جنسی سمجھ کیلئے ایک بنیاد ڈالی جاسکتی تھی ۔ 1950 سے سپریم کورٹ نے اس سوال کو نظر انداز کیا ہوا ہے کہ آیا خاندانی قانون دستور کے دائرہ سے باہر ہے ۔ اس فیصلے سے ایک کامیابی ملی ہے ۔ اس طرح کے فیصلے سے نہ صرف مسلم خواتین بلکہ تمام خواتین کو فائدہ ہوتا کیونکہ تمام ہی خاندانی قوانین میں خواتین کے خلاف امتیاز ہے ۔
اگر فیصلہ اکثریتی ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا ۔ تاہم اس سے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا ہے اور اس سے کئی خواتین کو راحت بھی ملی ہے ۔ جہاں تک مسلم مردوں کو چھ ماہ تک کیلئے تین طلاق دینے سے روکنے کی بات ہے کسی بھی عدالت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ طلاق کو جائز قرار دینے کے بعد اس سے روک سکے ۔ یہ ایک خیال ہے جو کسی قانون کی بنیاد پر نہیں ہے اور اکثریتی فیصلے کی روشنی میں ویسے بھی کوئی بھی تین طلاق نہیں دے سکتا ۔
اس پیچیدہ مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ شادی کو ایک سیول معاہدہ سمجھا جائے جس سے کوئی بھی دو افراد رضاکارانہ طور پر متفق ہوتے ہیں اور اس میں شادی کے توڑنے کے معاملہ میں خواتین کے حقوق بتائے جائیں۔ شادی سے علیحدگی اور مذہب میں اس پر ناپسندیدگی کو دیکھتے ہوئے پیشرفت کی جاسکتی ہے ۔ جیسا کہ جسٹس نریمان نے کہا ہے ۔
معاہدے بعض مخصوص حالات میں توڑے بھی جاتے ہیں۔ اس تعلق سے بہت حیرت انگیز جدیدت ہے ۔ کسی بھی عوامی اعلان ایک مسلم شادی کی قانونی حیثیت کی مثال نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی تقریب لازمی سمجھی جاتی ہے حالانکہ ایسا ہوتا ہے ۔ یہ عصری تقاضے ہیں کہ ہم یہ مطالبہ کر رہے ہیںکہ تمام مذاہب کی ماننے والی خواتین کے شادی توڑنے سے متعلق حقوق واضح کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT