Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / سپریم کورٹ کا فیصلہ ’’منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں‘‘

سپریم کورٹ کا فیصلہ ’’منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں‘‘

 

غضنفر علی خاں
22 اگست 2017 ء کی تاریخ ہندوستانی مسلمانوں کو ہمیشہ یاد رہے گی کیونکہ اس دن ہی ملک کی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر دستوری اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کو کالعدم کردیا۔ اب اصولاً کوئی مسلمان شوہر اپنی بیوی کو ایک نشست اور ایک سانس میں تین مرتبہ طلاق دے کر علحدہ نہیں کرے گا ۔ اگرچیکہ اس فیصلہ میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ فیصلہ کا اطلاق استقدامی اثر سے ہوگا لیکن ماہرین قانون کہہ رہے ہیں، اب تک جو مسلم خواتین طلاق ثلاثہ کی شکار ہوئی ہیں وہ قانون اور دستور کی روشنی میں اپنے شوہر کے پاس جاسکتی ہیں۔ انہیں اپنے بچوں سے ملنے کی بھی اجازت ہوگی ۔ اس حکمنامہ پر برادران وطن بہت خوش ہیں۔ سپریم کورٹ میں یہ درخواست کسی اور نے نہیں بلکہ مسلم طبقہ کی چند ایسی خوا تین نے پیش کی تھیں جو طلاق ثلاثہ کی وجہ سے اپنے حقوق زوجگی سے اچانک محروم ہوگئی تھیں۔ 22 اگست کو دن بھر ٹی وی چیانلس پر یہی خبر ٹیلی کاسٹ ہوتی رہی اور ان ہی خواتین کو دکھایا جاتا رہا ۔ مختلف مکاتیب خیال کے سورماؤں نے بھی اس مسئلہ پر ہونے والی بحث میں حصہ لیا ۔ ٹی وی اینکرس کو بھی یہ جراء ت ہوگئی کہ وہ قرآن حکیم کی آیات اور احکامات کی تشریح اپنے طور پر اپنے انداز میں کریں ۔ غرض ایک تماشہ تھا کہ دن بھر بلکہ رات دیر گئے تک چلتا رہا ۔ اس فیصلہ کو مسلم خواتین کے حقوق کی از سر نو بحالی سے تعبیر کیا جاتا رہا ۔ حالانکہ اسلام میں خواتین کو جو آزادی اور حقوق دیئے گئے ہیں، ان کی نظیر کسی اور مذہب میں نہیں ملتی ۔ آج جانے کیوں اسلام میں عورتوںکو حقوق سے محروم قرار دیا جارہا ہے ۔ یہ صورتحال کس نے پیدا کی؟ کیوں اغیار کو اتنا حوصلہ مل گیا ہے ، وہ پرسنل لاء کو دقیانوس اور اذکار رفتہ قوانین قرار دینے لگے۔

اس مسئلہ کا خود ہم مسلمانوں کو پوری دیانتداری اور خود احتسابی سے غیر جانبدار ہوکر جائزہ لینا پڑے گا ۔ ہم نے کہاں اور کتنی صورتوں میں اپنی خواتین کے حقوق کو تلف کیا ۔ کہاں کہاں ہم اس غلط فہمی کے شکار رہے کہ مسلمان خواتین اپنے شوہروں کی باندیاں ہیں، اس سے زیادہ انہیں کوئی حقوق نہیں دیئے جاسکتے ۔ کہاں ہم نے یہ غلط تصور کرلیا کہ شوہر جو چاہے کرسکتا اور خوا تین صرف ناانصافیوں کو برداشت کرنے کیلئے ہی پیدا کی گئی ہیں۔ طلاق ثلاثہ کا طریقہ بہت کم صورتوں میں ہوتا ہے۔ بہت کم گاہے ماہے ہی تین طلاق دیئے جاتے ہیں، ہمارا لمیہ یہ ہے کہ ہماری صفوں میں بھی ایسے افراد خواتین و مرد پائے جاتے ہیں جو شرعی حدود اور شرعی مراعات کو عبور کرجاتے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اس پہلو پر غور و خوض کیا جاتا ہے کہ عدالت تک معاملہ کیسے گیا کیوں حکومت کو مقدمہ کا فریق بننا پڑا ۔ ہم میں سے اکثر اس بات سے بخوبی واقف ہیںکہ مودی حکومت مسلم اقلیت کو اس حد تک ناپسند کرتی ہے کہ اس کو جہاں جہاں نقصان پہنچایا جاسکتا ہے ، پہنچایا جائے ۔ یہ حکومت ہماری ہمدرد نہیں ہے ۔ طلاق ثلاثہ کی منسوخی حکومت کی آخری نہیں بلکہ شریعت میں مداخلت کا پہلا قدم ہے ۔ یہ کوشش دراصل مسلم پرسنل لا میں دخل اندازی کا اللہ معاف فرمائے پہلا کامیاب تجربہ ہے۔ اب اس کے بعد تعدد ازدواج خراج، حلالہ اور دیگر عائلی قوانین میں بھی اس طرح کی مداخلت ہوگی ۔ یہ اندیشہ نہیں بلکہ ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ہونے والا ہے ۔ یکساں سیول کوڈ کی جانب مودی حکومت کے بڑھتے ہوئے قدم کو کون اور کیسے روک سکتا ہے ۔ بی جے پی کے علاوہ دیگر سیاسی پا رٹیوں میں سے کسی کو بھی اس بات سے دلچسپی نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کی علحدہ شناخت ان کا تشخص باقی رہے ۔ اگر کبھی کبھی ہمارے لئے ان پارٹیوں کی جانب سے اظہار ہمدردی کیا بھی جاتا ہے تو یہ صرف ووٹ بینک کی سیاست ہے ۔ مسلم ووٹ بٹورنے کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہاتی ہے۔ حکمراں بی جے پی تو کھلے عام اپنا ہندوتوا کا ایجنڈہ چلا رہی ہے اور ہم اس تلخ حقیقت کو یکسر فراموش کر کے شتر مرغ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔

آج کا دور ہمارے شناخت مٹانے کے لئے ہے۔ ہم موقع بھی فراہم کر رہے ہیں ۔ خواتین کے حقوق کو ہم سے زیادہ کس نے سمجھا ۔ ہندو کوڈ بل میں جو مراعات خواتین کو فراہم کی گئی ہے وہ تو کل کی بات ہے جبکہ 1400 سال پہلے ہم نے انہیں عزت و آبرو و وقار کی زندگی دی تھی ، انہیں حق وراثت دیا تھا جو آج بھی برقرار ہے ۔ اگر کہیں انفراادی کیس میں خواتین کو حق وراثت سے محروم کیا جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اسلام کو بدنام نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے شرعی قوانین و عائلی قوانین اٹوٹ ہیں ۔طلاق از خود ایک کا پسندیدہ عمل ہے اور ط لاق ثلاثہ تو ناقابل قبول ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے کبھی طلاق ثلاثہ کی تائید نہیں کی۔ علماء نے کبھی نہیں کیا کہ طلاق ثلاثہ کو جاری رکھنا چاہئے ۔ اسلام دشمنوں کے ہاتھوں نئی قانون سازی کا ہتھیار کس نے تھمایا۔ ہماری غلط روش نے ہماری ان خواتین نے جو اپنی گمراہ کن روشن خیالی کی دنیا میں خوش ہیں، عدالت سے ہی نہیں بلکہ وزیراعظم مودی سے بھی اس معاملہ میں مداخلت کرنے کیلئے زور دیا ۔ مودی حکومت شیر بن گئی اور عدالت سے رجوع ہوگئی ۔ ہم کو اپنی شناخت اور اپنے تشخص کی پرواہ نہیں ہے ۔ اس بات کی فکر نہیں کہ طلاق ثلاثہ کی منسوخی کے بعد اور کیا کیا منسوخ ہوسکتا ہے ۔ جس ملک میں مسلمانوں کو ہجوم کے حملوں میں جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ، جہاں گائے کے گوشت کے استعمال نہ کرنے پر زور دیا جاتا ہے ، وہاں آگے اور خدا نہ کرے بہت کچھ ہوسکتا ہے ۔ طلاق ثلاثہ کے بارے میں مسلم دانشوروں کی رائے اور علماء کرام کی رائے میں بھی بڑا فرق ہے ۔ ویسے ان دونوں کے درمیان ہمیشہ ہی فاصلہ رہا، جہاں تک طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کا تعلق ہے ، اس کو دونوں نے ہی ناپسند کیا۔ اب سب کچھ ہونے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 10 ستمبر کو بھوپال میں اجلاس کرنے والا ہے جس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا ۔ ہمارے خیال میں اب بہت دیر ہوچکی ہے ۔ اگر طلاق ثلاثہ کو پرسنل لا بورڈ نامناسب سمجھتا ہے تو پھر روز اول میں اس کا موقف صاف کردینا چاہئے تھا ۔

اب 10 ستمبر کو اجلاس میں کیا ہوگا ۔ عدالت کے فیصلہ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوسکتا ہے۔ ایک سعی لاحاصل ہے ۔ پرسنل لا بورڈ نے دو ٹوک اور واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ نہ مسلم تنظیموں اور اداروں نے تصور کیا کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرے گی ۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم نے 15 اگست کو لال قلعہ دہلی سے یوم آزادی کے موقع پر جو تقریر کی تھی اس میں انہوں نے ’’نئے ہندوستان بنانے کی بات زور و شور سے کی تھی ۔ نیا ہندوستان سے کیا ان کا مطلب’’ہندو راشٹرا‘‘ ہے تو یہ سمجھ لیجئے کہ حکومت نے اس کی پہل کردی ۔ بڑی تیزی سے یہ کام انجام دینے کے لئے بی جے پی اور آر ایس ایس بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ملک میں سیکولر طاقتیں پسپا ہورہی ہیں۔ فرقہ پرست قوتوں کا بول بالا ہورہا ہے ۔ اگر ہم نے ایک فعال اقلیت کی حیثیت سے ’’نوشتہ دیوار‘‘ نہیں بڑھا تو پھر ہماری پہچان ختم ہوسکتی ہے ۔ ایسے خطرات آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کو کبھی پیش نہیں کرتے تھے ۔ ایک کڑی آزمائش ہے ۔ اللہ کرے کہ ہماری صفوں میں اتفاق پیدا ہو اور ہم مسلم طبقہ کے تمام مفادات کی حفاظت کرسکیں۔ اللہ ہمیں اس کٹھن آزمائش میں کامیاب کرے۔
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پر اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

Top Stories

TOPPOPULARRECENT