Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / سپریم کورٹ کو دھماکہ سے اُڑادینے کی دھمکی

سپریم کورٹ کو دھماکہ سے اُڑادینے کی دھمکی

سرکاری ویب سائٹ پر ای میل، سخت حفاظتی انتظامات

نئی دہلی 18 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) خطرہ میں اضافہ کے اندیشوں کے پیش نظر سپریم کورٹ نے آج عدالت میں آنے والے عوام اور زیر تربیت وکلاء کی تعداد پر بھی تحدید عائد کردی۔ سپریم کورٹ کی عمارت کو سخت حفاظتی انتظامات والی عمارت میں تبدیل کردیا گیا۔ وکلاء سے درخواست کی گئی کہ وہ زیادہ چوکسی اختیار کریں اور احاطہ کے اندر کسی بھی مشتبہ سرگرمی کے سلسلہ میں محتاط رہیں۔ یہ ہدایات دہلی پولیس کی جانب سے ایک نامعلوم شخص کا تحریر کردہ ای میل کل دوپہر کے بعد سرکاری ویب سائیٹ پر وصول ہونے کی اطلاع کے بعد جاری کی گئیں۔ مکتوب میں دھمکی دی گئی تھی کہ سپریم کورٹ پر بم حملہ کیا جائے گا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس دیپک مشرا کو بھی ہلاک کردینے کی دھمکیاں دی گئی تھیں جس کے بعد اُن کے حفاظتی انتظامات میں اور سپریم کورٹ کی عمارت کے اطراف و اکناف حفاظتی انتظامات میں شدت پیدا کردی گئی۔ ایک مراسلہ سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ خطرہ میں امکانی اضافہ کے پیش نظر چیف جسٹس آف انڈیا نے عدالت میں آنے والوں کی تعداد میں کمی کی خواہش کی ہے۔ اس علاقہ کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والا علاقہ قرار دیا جارہا ہے۔ زیرتربیت وکلاء اور قانون کے طلباء کے علاوہ عوام کی تعداد پر تحدید عائد کردی گئی ہے اور اُنھیں داخلہ کی اجازت دینے سے پہلے ان سے کافی تفتیش کی جائے گی۔

سکریٹری برائے سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن ایشوریہ بھاٹی نے کہاکہ ایک اجلاس میں جو چیف جسٹس آف انڈیا ایچ ایل دتو کی قیامگاہ پر کل شام منعقد کیا گیا تھا، فیصلہ کیا گیا ہے کہ ناگزیر اور مجبور کردینے والے حالات کے پیش نظر یہ ضروری ہوگیا تھا کہ سپریم کورٹ کی مستحکم حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔ بار کے ارکان کو چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ارکان سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ معمول سے زیادہ محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا اشیاء نظر آنے پر ڈی سی پی کے دفتر کو فوری اطلاع دیں جو سپریم کورٹ کی حفاظت کے لئے تعینات کیا گیا ہے۔ مراسلہ میں بار کونسل کے ارکان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ بہت محتاط رہیں اور اپنے موکلوں کو یا داخلہ کے خواہشمندوں کو پاس جاری کرنے سے پہلے اچھی طرح جانچ کرلیں کیونکہ ان کے دفتر یا کلرکوں کی جانب سے پاسیس کے استحصال کا امکان ہے۔ چنانچہ احتیاطی اقدامات ضروری ہیں۔ مراسلہ میں تاہم کہا گیا ہے کہ ارکان کو کسی بھی مشکل سے گریز کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ اُن پر کوئی فیس عائد نہیں کی جارہی ہے۔ اپنے مشاورتی کمروں یا چیمبرس میں جن کے لئے سپریم کورٹ کے دو بلاک مختص ہیں، اُن پر کوئی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔ یہ بلاکس ایک ماہ کے لئے دستیاب رہیں گے۔ قبل ازیں جسٹس دیپک مشرا کو بھی جان سے مار دینے کی دھمکی دی گئی تھی کیوں کہ اُنھوں نے ہی یعقوب میمن کی آخری درخواست کو مسترد کردیا تھا، اُس کے بعد اُن کے حفاظتی انتظامات میں بھی شدت پیدا کردی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT