Wednesday , August 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / سچن تنڈولکر نے مجھے اسٹار بنایا:شعیب اختر

سچن تنڈولکر نے مجھے اسٹار بنایا:شعیب اختر

کراچی ٰ۔17 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی کرکٹ  ٹیم کے متنازعہ  سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ہندوستانی سابق کپتان راہول ڈراویڈ کو اپنی زندگی کا سب سے ڈراؤنا خواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ سچن تنڈولکر نے انہیں عالمی سطح پر اسٹار بنایا۔ وزڈن انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شعیب نے 1999 میں تنڈولکر کو ایڈن گارڈنس ٹسٹ  میں پہلی ہی گیند پر آؤٹ کرنے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سچن نے ہی انہیں اسٹار بنایا اور میں اس پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔ ماضی کے تیز ترین فاسٹ بولر شعیب اختر نے اپنا پہلا ٹسٹ  1997 اور ونڈے میں پہلا میچ 1998 میں کھیلا تھا لیکن یہ 1999 میں ہندوستان کے خلاف ٹسٹ میچ تھا جس میں راہول ڈراویڈ اور سچن  کو متواتر دو گیندوں پر آؤٹ کر تے ہوئے  وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے تھے۔اس ضمن میں شعیب نے کہا کہ آپ کو ہمیشہ معلوم ہونا چاہئے کہ بیٹسمین کونسا شاٹ کھیلے گا۔ میں جانتا تھا کہ سچن میرے خلاف جارحانہ کھیل کھیلیں گے۔ انہوں نے مجھے پیڈ اور بیٹ کے درمیان جگہ  فراہم کی اور میں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ماسٹر بلاسٹر کو پہلی ہی گیند پر پویلین واپس لوٹا دیا تھا ۔ میں جانتا تھا کہ مجھے انہیں نا صرف رفتار بلکہ سوئنگ سے چکمہ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سچن بلا شبہ ایک عظیم بیٹسمین رہے ہیں۔ وہ کسی بھی وکٹ  پر کھیل سکتے ہیں اور جب ان کا دن ہو تو وہ بولروں کیلئے ڈراؤنا خواب ثابت ہوتے تھے۔ تاہم شعیب اختر نے کہا کہ ان کے لئے سب سے  ڈراؤنا خواب ایک اور ہندوستانی سابق کپتان راہول ڈراویڈ رہے۔ شعیب اختر کے بموجب میرے لیے سب سے ڈراؤنا خواب راہول ڈراویڈ تھے۔ وہ مجھے بور کر دیتے تھے۔ وہ پہلے بیٹسمین  تھے جن سے مجھے ڈر لگا کیونکہ جب وہ میدان میں بیٹ تھامے آتے تو میں جانتا تھا کہ مجھے کم از کم مزید دو سیشن فیلڈنگ محنت کرنی ہو گی۔میں جانتا تھا کہ صرف وسیم اکرم ہی وہ بولر تھے جو ڈراویڈ کو قابو کر سکتے تھے، مجھ میں یہ قابلیت نہیں تھی، میرے خیال میں وہ ٹسٹ میچوں میں میرے لئے سب سے بڑا چیلنج تھے کیونکہ وہ ناصرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی بولر کو تھکا دیتے تھے، وہ کرکٹ کے محمد علی رہے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیم کی موجودہ تنزلی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ میں 80  سال عمر  کے بزرگ بیٹھے ہیں اور معاملات چلا رہے ہیں۔ میں نے جب سے آنکھیں کھولی ہیں، انہی لوگوں کو بورڈ میں دیکھا ہے اور یہ ہمیشہ رہیں گے۔ پاکستان کرکٹ کو انہی لوگوں کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے، اگر ہمارے پاس دوسرا عمران خان ہوتا تو ہم دنیا میں سب سے بہترین ٹیم ہوتے۔ ’کاش ہمارے پاس ایک سچا لیڈر ہوتا، تاکہ میں،عبدالرزاق، ثقلین، اظہر اور آفریدی تمام ہی کھلاڑی بہترین کرکٹر بن سکتے۔

TOPPOPULARRECENT