Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / سڑکوں پر غیر مجاز عبادت گاہوں کی تعمیر سے بھگوان کی توہین

سڑکوں پر غیر مجاز عبادت گاہوں کی تعمیر سے بھگوان کی توہین

سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظرانداز کردینے پر سرکاری حکام کی سرزنش
نئی دہلی۔/19اپریل، (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج ملک بھر میں سڑکوں اور فٹ پاتھس پر غیر مجاز عبادت گاہوں کی تعمیر پر ارباب مجاز کی بے عملی پر برہمی کا اظہار کیاہے اور کہا ہے کہ یہ بھگوان کی توہین ہے۔ جسٹس وی گوپالا اور ارون مصرا پر مشتمل بنچ نے سرکاری حکام سے کہا ہے کہ تمہیں اس طرح کے غیر مجاز ڈھانچوں کو منہدم کردینا چاہیئے لیکن ہم جانتے ہیں کہ تم نے کچھ نہیں کیا حتیٰ کہ کسی بھی ریاست نے کوئی کارروائی نہیں کی اور تمہیں اس طرح کی تعمیرات کی اجازت دینے کا اختیار نہیں ہے، اور بھگوان بھی نہیں چاہتے کہ راستوں میں رکاوٹ کھڑی کردی جائیں، لیکن تم لوگوں ( اتھاریٹیز ) نے راستوں کو تنگ کردیا جو بھگوان کی توہین کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ بنچ نے اس کی ہدایت کے مطابق حلفنامے داخل کرنے میں ناکامی پر ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی سرزنش کرتے ہوئے یہ ریمارکس کئے جس میں یہ وضاحت طلب کی گئی تھی کہ عوامی سڑکوں اور فٹ پاتھس سے غیر قانونی مذہبی ڈھانچوں کو ہٹالینے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ارباب مجاز کو اندرون 2ہفتے حلف نامہ داخل کرنے کی مہلت دی ہے

اور کہا کہ بصورت دیگر ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو شخصی طور پر حاضر ہوکر سال 2006 سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ مختلف ہدایتوں کی عدم تعمیل پر وضاحت پیش کرنا ہوگا۔ بنچ نے کہا کہ اس طرح کے رویہ کو برداشت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ عدالت کے احکامات اور ہدایات سرد خانہ میں رکھنے کیلئے جاری نہیں کئے جاتے۔ اور خبردار کیا کہ اگر سرکاری نظم و نسق اور چیف سکریٹریز کا یہ رویہ برقرار رہا تو ہمیں احکامات جاری کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ہم برفدان میں رکھنے کیلئے احکامات جاری کرتے ہیں۔اگر تم لوگ عدالتی احکامات کا احترام نہیں کریں گے تو ہم خود ریاستوں سے نمٹ لیں گے۔ اگرچیکہ عدالت نے چیف سکریٹریز کو شخصی طور پر طلب کرنے کیلئے احکامات جاری کئے تھے لیکن بعض ریاستوں کے نمائندہ وکلاء کی گذارش پر اس میں تبدیلی کردی گئی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سال2006 میں ایک عرضی پر سماعت کے دوران ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ غیر مجاز ڈھانچوں بشمول عوامی مقامات سے عبادتگاہوں کو ہٹادیا جائے اور جاریہ سال 8مارچ کو حکومت چھتیس گڑھ کے خلاف تحقیر عدالت کی ایک عرضی داخل کی گئی تھی جس میں ریاست سے الزامات کے بارے میں حقیقی صورتحال پر وضاحت طلب کی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے دیگر ریاستوں کے وکلاء کو بھی ہدایت دی تھی کہ اس خصوص میں عبوری احکامات کی تعمیل کیلئے ہدایات حاصل کریں۔ لیکن بنچ نے یہ نشاندہی کی کہ 8مارچ کو احکامات جاری کرنے کے باوجود کسی بھی ریاست نے حلف نامہ داخل نہیں کیا۔

مرکزی وزیر سری پد نائیک اچانک علیل
پناجی ۔ 19 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مرکزی وزیر ایوش سری پد نائیک کو بلڈپریشر اچانک بڑھ جانے پر ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا ۔ انہوں نے کل شب اپنے آبائی مکان واقع مڈکائی گاؤں میں بے چینی کی شکایت کی تھی جس کے بعد پونڈہ ٹاون کے سرکاری ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا ۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پردیپ شنکرے نے بتایا کہ مرکز وزیر کی حالت مستحکم ہے اور بہت جلد ڈسچارج کردیا جائے گا ۔ شمالی گوا پارلیمانی حلقہ سے نمائندگی کرنے والے 64 سالہ بی جے پی لیڈر کل دہلی روانہ ہونے والے تھے لیکن اچانک طبیعت خراب ہوجانے پر یہ دورہ ملتوی کردیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT