Thursday , August 17 2017
Home / اداریہ / سڑک حادثات میں اضافہ

سڑک حادثات میں اضافہ

مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نیتن گڈکری نے حال ہی میں ملک میں سڑک حادثات اور اموات کا ڈاٹا پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ روزانہ کم از کم 400 افراد سڑک حادثات میں ہلاک ہوتے ہیں۔ ماضی میں عوام الناس کو سفر کے دوران ڈاکوؤں اور رہزنوں کے حملوں میں لوٹ لئے جانے اور ہلاک ہونے کا اندیشہ رہتا تھا۔ زمانہ ترقی کرنے کے ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہوا۔ ڈاکوؤں اور رہزنوں کی سرگرمیاں بڑھنے کے ساتھ عوام کے سامنے سڑک حادثات کی شکل میں زندگیوں کا خاتمہ جیسے سانحات رونما ہونے لگے۔ گزشتہ سال میں ہندوستانی سڑکوں پر پیش آئے حادثوں میں زائد 1,46,000 ہندوستانی ہلاک ہوئے۔ وزارت ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری کردہ اس اموات کی شرح اس سے زائد بھی ہوسکتی ہے۔ عالمی تنظیم صحت نے ہر سال سڑک حادثوں میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً 100,000 بتائی ہے۔ ہندوستانی سڑکوں کو حادثات کا مرکز بنانے والے عوامل میں لاپرواہی اور کوتاہی کا عمل دخل زیادہ ہے۔ غیر منظم طریقہ سے سڑکوں کی تعمیر اور کشادگی کا کام کرنے کے علاوہ حادثات والے مقامات پر کسی قسم کے انتباہی نشانوں کا نہ ہونا بھی ہوتا ہے۔ موٹر گاڑیوں کی تیز رفتاری پر کنٹرول کا کوئی میکانیکل سسٹم نہیں ہے۔ ہندوستان اور ہندوستانی عوام کو ایک غریب ملک کے باشندے کہا جاتا ہے مگر یہاں موٹر گاڑیوں کے مالکین کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔

شہری علاقوں میں سڑکوں پر موٹر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ سے ٹریفک کے جو سنگین مسائل پیدا ہورہے ہیں وہ فوری سنجیدہ غور و خوض کے متقاضی ہیں۔ سڑک حادثے عام بات ہوتی جارہی ہے۔ عوامی زندگیوں کو لاحق خطرات میں سڑک کی موت کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ماضی میں مختلف طریقوں سے جان چلی جاتی تھی۔ جنگل سے گزرنے والوں کو جنگلی جانوروں اور موذی جانوروں کا خطرہ ہوتا تھا اب اس جنگل سے گزرنے والی سڑکیں موٹر گاڑی رانوں کے لئے موت کا سبب بن رہی ہیں۔ حکومت کو ایسے حادثات اور اموات کی روک تھام کے لئے موٹر میکانزم وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستانی قومی سیاست کے کئی سیاستداں بھی سڑک حادثات کا شکار ہوچکے ہیں۔ راجیش پائلیٹ سے لے کر گوپی ناتھ منڈے تک کے حادثات کا جائزہ لیا جائے تو سڑک پر چلنے والی تیز رفتار موٹر گاڑیاں کسی نہ کسی کی جان کے لئے خطرہ بنتی ہیں۔ غیر منظم طریقہ سے موٹر دوڑانے اور ٹریفک کے اُصولوں کو نظرانداز کرنے کا بھیانک انجام موت ہوتا ہے۔ حال ہی میں کاماریڈی میں ایک خاندان کے پانچ ارکان سڑک حادثہ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی طرح ممبئی کے قریب ایک خانگی ٹورسٹ بس دو لب سڑک ٹھہری ہوئی موٹر کاروں کو ٹکر دے کر گہری کھائی میں گر گئی تھی جس میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس طرح کے حادثے وقوع ہونے کے بعد وقتی طور پر ٹریفک اُصولوں اور سڑک پر سیفٹی کے اقدامات کرنے کا اعلان ہوتا ہے مگر بعدازاں سب کچھ وہی لاپرواہی برتی جاتی ہے۔ مودی حکومت اب تک سڑک حادثات کو روکنے کے اقدامات کرنے کا اعلان ہی کررہی ہے اور سڑکیں دن بہ دن موت کا کنواں بن رہی ہیں۔

پورے ملک میں ٹریفک نظام کو مؤثر طور پر روبہ عمل لانے ٹریفک پولیس کو مکمل بااختیار اور ذمہ دار ، جوابدہ بنانا ضروری ہے۔ حکومت نے موٹر رانوں کو ٹریفک خلاف ورزیاں کرنے کی صورت میں بھاری جرمانے لگائے اور جیل بھیجنے کی منصوبہ بندی شروع کی ہے مگر یہ منصوبے کارگر نہیں ہوں گے۔ حکومت جب تک اربن پبلک ٹرانسپورٹیشن کو نظرانداز کرتی رہے گی سڑک حادثات کو کم کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ برسوں سے سڑک حادثوں پر قابو پانے کی کوشش کارگر نہیں ہورہی ہے۔ حکومت اور عدالتوں نے سڑک حادثوں پر قابو پانے کے لئے کئی اقدامات اور احکامات جاری کئے ہیں۔ مگر اموات کی شرح دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ خراب سڑکوں کو جتنا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ سڑک پر دوڑنے والی خراب موٹر گاڑی بھی حادثہ کی اصل وجہ ہوتی ہے۔ سڑک کی تعمیر میں ناکام انجینئرنگ تجربہ کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ رشوت کے بل پر ٹنڈرس منظور کرنے اور سڑک کی تعمیر کے بعد بلوں کی منظوری کے لئے بھی رشوت کا چلن عام ہونے سے سڑکوں کی پائیداری اور اُصولی تعمیر کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ قومی سطح پر وزیراعظم سڑک یوجنا پروگرام پر جب سے عمل شروع ہوا ہے، قومی شاہراہوں یا ریاستی شاہراہوں کی تعمیر میں حفاظتی اقدامات کو ملحوظ نہیں رکھا جانا جان لیوا ہوسکتا ہے اور یہ حالیہ سڑک حادثات سے ثابت ہورہا ہے کہ متعلقہ حکام نے اپنے حصہ کی ذمہ داری کو لاپرواہی سے پورا کیا ہے۔ اگرچیکہ حکومت ہند نے عالمی سطح پر سڑک حادثات کی روک تھام کے لئے کئے جانے والے احتیاطی اقدامات کے عالمی اصولوں کے اعلامیہ پر دستخط کئے ہیں مگر عملی طور پر حادثوں کو روکنے میں ناکام ہے۔ سال 2020 ء تک سڑک حادثوں کی شرح کو 50 فیصد تک کم کرنے کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ وزارت ٹرانسپورٹ اور محکمہ ٹریفک پولیس فرض شناسی کا مظاہرہ کرے۔

TOPPOPULARRECENT