Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / سڑک حادثات کے ذمہ دار کون؟ حکومت یا نوجوانوں کی بے ڈھنگی رفتار

سڑک حادثات کے ذمہ دار کون؟ حکومت یا نوجوانوں کی بے ڈھنگی رفتار

والدین کے خواب چکنا چور ، ہائی اسپیڈ اور اسپورٹس بائیک پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی
محمد علیم الدین
حیدرآباد /16 اگست ۔ شہر و نواحی علاقوں میں پیش آرہے سڑک حادثات اور ان حادثات میں بالخصوص نوجوانوں کی اموات شہریوں میں خوف و دہشت کا سبب بنی ہوئی ہیں ۔ سوشیل میڈیا کے اس دور میں جنگل کی آگ سے بھی تیز پھیل رہی اطلاعات سے اولیائے طلباء میں دہشت مچارہی ہے ۔ گذشتہ روز ٹولی چوکی فلائی اوور پر پیش آئے سڑک حادثہ میں ہلاک نوجوان کے متعلق جب سوشیل میڈیا پر خبر عام ہوئی تو ہر کسی کو اپنوں کی سونچ وفکر کھائے جارہی تھی ۔ تاہم ایسے حادثات کیلئے کون ذمہ دار ہے ۔ نوجوانوں کی بے ڈھنگی رفتار یا پھر سرکاری انتظامیہ ؟ نوجوانوں کی بے ڈھنگی رفتار اور بے قابو حوصلہ ہے تو نوجوانوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے کہ اپنی بے قابو رفتار نہ صرف ان کی زندگی بلکہ کئی اور زندگیوں کو تباہ ان کی خوشیاں اپنے والدین کے خوابوں کو برباد کرنے اور خوشحال زندگیوں کو ویران کرنے کا سبب بنے گی ۔ حادثات کی روک تھام کیلئے پولیس کو چاہئے کہ وہ موثر اقدامات کرے اپنی مہم کو جرمانوں تک ہی محدود نہ رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کو ترجیح دیں جس کے سبب ایسے حادثات کا تدارک ممکن ہوسکے ۔ آئے دن پیش آرہے ایسے سڑک حادثات جو شہر کے علاوہ نواحی علاقوں میں زیادہ تر پیش آرہے ہیں ۔ ان پر شہریوں نے اپنے تاثرات کو پیش کیا ہے ۔ کل ٹولی چوکی فلائی اوور پر پیش آئے حادثہ کے مقام پر تقریباً نصف گھنٹے تک راہ چلنے پر شہری نے حادثہ کا مشاہدہ کیا جن کی زبان پر افسوس کے علاوہ ایک اور لفظ بھی تھا کہ آخر ان نوجوانوں کو کون سمجھائے ۔ کچھ شہری شہر کی سڑکوں کو حادثات کا ذمہ دار مانتے ہیں تو کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ سب نوجوانوں کی اصلاح کی کوشش کے تحت پولیس چبوترا مشن راتوں میں وقت بربادی کے اقدامات کو اہمیت دے رہی اور حقہ سنٹر ، گٹکھا اور تمباکو اشیاء کے خلاف اقدامات کر رہی ہے تو پولیس کو چاہئے کہ وہ ہائی اسپیڈ وہیکل ، اسپورٹس بائیک کے استعمال پر بھی پابندی جیسے اقدامات کرے جب شہر کی سڑکوں پر تیس تا چالیس کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زائد سفر ممکن نہیں تو پھر 100 تا 120 اور اس سے زائد فی کیلو میٹر گھنٹہ رفتار والی موٹر سائیکلیں کیوں رجسٹریشن کی جارہی ہیں اور چند شہریوں نے یہ بھی تاثر پیش کیا کہ پولیس لائیسنس اور ہیلمیٹ کیلئے اقدامات کرتے ہوئے زور دے رہی ہے اور کونسلنگ بھی جاری ہے کمسن لڑکوں کی بائیک رائیڈنگ کے خلاف اقدامات بھی جاری ہے

 

تاہم پولیس اور حکام کو چاہئے کہ وہ ایسے راستوں پر خصوصی توجہ دیں ۔ جہاں بائیک رائیڈنگ زیادہ ہوتی ہے اور ایسے نوجوانوں کے خلاف سبق آموز کارروائیاں کرے تب جاکر نوجوان نسل اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کے علاوہ اپنی بے ڈھنگی رفتار کو قابو کرے گی اور اپنے حوصلے اور صلاحیتوں کو کم از کم سڑکوں پر نہیں آزمائے گی ۔ جس نسل کو مشنری تیار کرنے کا جنون ہونا چاہئے وہ مشنری کے غلط استعمال پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ۔ شہر کے علاقوں ٹولی چوکی ، مانصاحب ٹینک کے بی آر پارک شیخ پیٹ تا جوبلی ہلز ، مہدی پٹنم تا ریتی باؤلی ، نانل نگر تا لنگر حوض لنگر حوض فلائی اوور ٹیپوخان بریج اور ایسے چند علاقوں میں رات کے اوقات منچلے نوجوان بائیک رایئڈنگ میں مصروف رہتے ہیں جبکہ نواحی علاقوں میں کالجس کے طلبہ حمایت ساگر ، عثمان ساگر ، بنڈلہ گوڑہ ، شمس آباد ، نارسنگی و دیگر علاقوں میں تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے سڑکوں پر توجہ دے رہے ہیں ۔ جاریہ سال مئی تک حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں پیش آئے سڑک حادثہ میں موٹر سائیکل سے ہوئے حادثات ہی سب سے زیادہ ہیں ۔ سٹی کرائم ریکارڈ بیورو سے حاصل شدہ ریکارڈ کے مطابق موٹر سائیکل کے ذریعہ 500 سڑک حادثہ میں 392 افراد زخمی اور 40 اموات پیش آئیں ۔ جبکہ ان میں عمر کے لحاظ سے مشاہدہ کرنے پر پتہ چلا ہے کہ 21 تا 25 سال عمر والے 122 افراد 26 تا 30 سال عمر والے 135 اور 31 تا 35 سال والے 102 اور 36 تا 40 سال والے 94 افراد حادثات کا شکار ہوئے ہیں اور جبکہ 16 تا 20 سال عمر والے 58 افراد حادثات کا شکار ہوئے اور رات کے 10 بجے کے بعد سے زیادہ حادثات ریکارڈ کئے گئے ۔ نوجوان نسل کو حادثات سے روکنے کیلئے والدین سرپرستوں کے علاوہ سرکاری مشنری اور سماجی تنظیموں کو بھی اقدامات کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT