Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری

سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری

سیاست کا انکشاف درست ثابت ، سکریٹری کے حق میں مقامی سیاسی جماعت کے مقصد کی تکمیل
حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں توقع کے عین مطابق سکریٹری سید عمر جلیل نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ کی زائد ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ 3مارچ کو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ سے جلال الدین اکبر کے اچانک تبادلہ کے بعد ’ سیاست‘ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ڈپارٹمنٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود یہ ذمہ داری سنبھال لیں گے۔ اس طرح ’سیاست‘ کی پیش قیاسی درست ثابت ہوئی اور محکمہ پر عملاً سکریٹری اور ان کے قریبی افراد کا کنٹرول ہوچکا ہے اور انہیں کسی بھی معاملہ میں اعتراض کرنے والا کوئی نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے ڈائرکٹر کے عہدہ کی زائد ذمہ داری سنبھالنے کیلئے متعلقہ فائیل جی اے ڈی کو روانہ کی تھی تاکہ چیف سکریٹری کی جانب سے باقاعدہ احکامات جاری کئے جائیں۔ چیف سکریٹری نے جی او آر ٹی 614 جاری کرتے ہوئے سید عمر جلیل کو ڈائرکٹر کے عہدہ کی زائد ذمہ داری حاصل کرنے کی ہدایت دی۔ اس طرح سکریٹری اور ان کی سرپرستی کرنے والی مقامی سیاسی جماعت کا مقصد پورا ہوگیا۔ جلال الدین اکبر کئی اہم معاملات میں ان لوگوں کیلئے ایک کانٹا بنے ہوئے تھے۔ محکمہ میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے سکریٹری کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں ہے اس کے باوجود رسمی کارروائی کے طور پر چیف سکریٹری سے منظوری حاصل کی گئی۔ حالانکہ جلال الدین اکبر کے تبادلہ کا مقصد ہی محکمہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہوئے اپنے من مانی فیصلوں کو یقینی بنانا ہے۔ جلال الدین اکبر نے جیسے ہی سکریٹری کو ڈائرکٹر کے عہدہ کی زائد ذمہ داری حوالے کی سکریٹری کے حواریوں میں خوشی اور مسرت کا ماحول دیکھا گیا۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کی بدعنوانیوں کے خلاف ڈائرکٹر کی حیثیت سے جلال الدین اکبر نے نہ صرف آواز اٹھائی تھی بلکہ حکومت کو تحریری طور پر واقف کرایا تھا۔ چونکہ قواعد کے مطابق ڈائرکٹر کو کوئی بھی مکتوب سکریٹری کے ذریعہ روانہ کرنا پڑتا ہے لہذا جن اُمور پر سکریٹری کو مکتوب روانہ کیا گیا بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اسے آگے نہیں بڑھایا تاکہ اپنے قریبی افراد کا تحفظ کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بعض متنازعہ فیصلوں اور خاص طور پر ایک ریٹائرڈ عہدیدار کی سرگرمیوں کے بارے میں لکھے گئے مکتوب کو بھی اعلیٰ سطح تک پہنچنے نہیں دیا گیا۔ اب جبکہ سکریٹری کے پاس عملاً سارا محکمہ آچکا ہے لہذا مختلف اداروں میں موجود ان کے حامیوں نے اطمینان کی سانس لی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اب بحیثیت ڈائرکٹر اور عہدیدار مجاز وقف بورڈ کے کسی بھی اقلیتی ادارہ کے بارے میں اہم فیصلہ کرسکتے ہیں۔ ہر فیصلہ کا انہیں خود جائزہ لینا ہے اور انہیں ہی اپنے فیصلہ کو منظوری دینی ہے۔ اس طرح جلال الدین اکبر کے ریلیو کئے جانے کے بعد اقلیتی بہبود کے وہ عہدیدار و ملازمین جو ان سرگرمیوں سے واقف تھے انہیں افسوس ہے کہ محکمہ ایک فرض شناس عہدیدار سے محروم ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ کارپوریشن کے ایک ریٹائرڈ ملازم کی ایماء پر حکومت کو ڈائرکٹر کے خلاف بے بنیاد شکایات کے ساتھ نمائندگی کی گئی اور آخر کار مقامی سیاسی جماعت نے چیف سکریٹری کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تبادلہ کیلئے مجبور کردیا۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں حکومت کے اس فیصلہ پر مسلمانوں میں ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سوشیل میڈیا میں جلال الدین اکبر کے حق میں زبردست مہم دیکھی جارہی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ جس وقت کارپوریشن کے ریٹائرڈ عہدیدار کی بازماموری کا مسئلہ آیا تو ڈپٹی چیف منسٹر نے اپنی پہلی سفارش سے دستبرداری اختیار کرلی اس کے باوجود بورڈ آف ڈائرکٹرس نے حکومت سے بازماموری کی سفارش کردی۔ حج ہاوز میں واقع تمام اقلیتی اداروں حتیٰ کہ آندھرا پردیش کے ملازمین اور عہدیداروں نے بھی تلنگانہ اقلیتی بہبود کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ہر ایک کی زبان پر جلال الدین اکبر کا تبادلہ موضوع بحث ہے۔

TOPPOPULARRECENT