Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / سکم تنازعہ پر ہند ۔ چین کشیدگی پر امریکہ کو تشویش لاحق

سکم تنازعہ پر ہند ۔ چین کشیدگی پر امریکہ کو تشویش لاحق

بات چیت سے بہتر کوئی متبادل نہیں ، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ترجمان کی پریس بریفنگ

واشنگٹن۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے ہند۔ چین کے درمیان سکم تنازعہ پر پائی جانے والی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں ہی ممالک سے خواہش کی ہے کہ وہ باہمی صلاح و مشورے اور بات چیت کے ذریعہ قیام امن کو یقینی بنائیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی خاتون ترجمان ہیتھر نوریٹ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ چل رہی ہے بلکہ امریکہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہند ۔ چین سرحد پر اس وقت جنگ جیسے ہی حالات پائے جاتے ہیں جنہیں اگر مزید کشیدہ ہونے سے روکا نہیں گیا تو سمجھ لیجئے کہ جنگ چھڑ چکی۔ اب سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ممالک باہم صلاح و مشورے کرتے ہیں یا نہیں یا پھراَنا کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت ایشیاء میں اگر کوئی دو طاقتیں ہیں تو وہ ہندوستان اور چین ہیں اور جب دو طاقتیں ٹکرا جائیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے اثرات کس قدر دیرپا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس وموجودہ صورتحال پر تشویش ہے۔ اپنی روزانہ کی پریس کانفرنس کے دوران نوریٹ نے اخباری نمائندوں کو یہ بات بتائی۔ اخباری نمائندوں نے بھی ان پر سوالات کی بوچھار کردی تھی جس میں سب سے اہم سوال یہی تھا کہ ہند ۔ چین کے درمیان پائے جانے والا حالیہ تنازعہ امریکہ پر کس قدر اثرانداز ہوسکتا ہے اور امریکہ نے اس تنازعہ کی یکسوئی کیلئے کیا حکمت عملی وضع کی ہے۔ سکم سیکٹر کے ڈوکلام علاقہ میں چینی افواج کے ذریعہ سڑک کی تعمیر کو ہندوستانی افواج نے روک دیا ہے جس کے بعد تنازعہ نے شدت اختیار کی تھی۔ نوریٹ نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی تنازعہ، کوئی بھی مسئلہ اور کوئی بھی کشیدگی بات چیت کے ذریعہ ہی حل کی جاسکتی ہے۔ دنیا کے چند اہم ممالک جیسے ہندوستان اور چین، روس اور امریکہ، پاکستان اور سعودی عرب اگر تنازعات میں گھر جاتے ہیں تو اس کا اثر دنیا کے دیگر ممالک اور عوام پر پڑتا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ ڈوکلام میں ہند اور چینی فوج دوبدو موجود ہیں اور صرف فائرنگ کے آرڈر کا انتظار کررہے ہیں اور اس صورتحال کو پیدا ہوئے بھی ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔

انہوں نے اخباری نمائندوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اب بتایئے کہ ایک ماہ سے جاری کشیدگی اور فوجیوں کا غیریقینی حالات سے دوچار ہونا مشکل صورتحال ہے یا نہیں؟ چین ہمیشہ سے کہتا آیا ہے کہ جس علاقہ میں چینی فوج سڑک تعمیر کررہی ہے، وہ علاقہ متنازعہ نہیں بلکہ اس (چین) کی سرحد کے اندر ہے لہذا ہندوستان کا اس علاقہ پر دعویٰ سراسر غلط ہے۔ چین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستانی افواج متنازعہ ڈوکلام علاقہ سے فوری طور پر ہٹ جائے۔ دوسری طرف ہندوستان کی تشویش دیگر نوعیت کی ہے۔ چینی فوج کے ذریعہ ڈوکلام میں سڑک کی تعمیر سے ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس طرح چینی فوج ہندوستان کو اس کے شمال مشرقی علاقوں تک رسائی کو منقطع کررہی ہے۔ ہندوستان نے اس بارے میں چین سے کئی بار اپنے اعتراضات اور احتجاج درج کروائے ہیں کیونکہ اس کے بعد ہندوستان کو اپنی سکیورٹی میں مزید اضافہ کرنے کے لئے زائد فوجیوں کی تعیناتی کرنی پڑے گی۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے پڑھی جاسکتی ہے کہ جس علاقہ کو ہندوستان ڈوکلام کہتا ہے، اسے بھوٹان ڈوکالم کہتے ہوئے اپنا حصہ تصور کرتا ہے اور چین اسے اپنی سرزمین کا حصہ ڈانگ لانگ کہتا ہے۔ ایک ہی علاقہ کے تین تین ناموں کی وجہ سے بھی الجھنیں پیدا ہورہی ہیں۔ تنازعات پیدا ہونا فطری بات ہے لیکن چین اور ہندوستان کے علاوہ اگر بھوٹان بھی اس تنازعہ میں شامل ہوگیا تو حالات مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں۔ نوریٹ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہند ۔ چین اس تنازعہ کا بعجلت ممکنہ کوئی حل نکالیں، ورنہ یہ تنازعہ کہیں مسئلہ کشمیر کی طرح بین الاقوامی موقف حاصل نہ کرلے۔ ہند۔ چین سرحد 3488 کیلومیٹر طویل ہے جو جموں و کشمیر سے اروناچل پردیش سے گذرتی ہے لیکن اس کا 220 کیلومیٹر طویل حصہ سکم میں ہے۔ نوریٹ کے مطابق صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ بھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ ہند ۔ چین تنازعہ کی عاجلانہ یکسوئی ہوجائے حالانکہ جرمنی میں حالیہ اختتام پذیر G-20 چوٹی کانفرنس میں یہ موضوع زیربحث نہیں آیا لیکن وزیراعظم ہند نریندر مودی نے ژی جن پنگ سے مختصر ملاقات کے دوران شاید یہ موضوع نہیں چھیڑا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT