Sunday , July 23 2017
Home / دنیا / سکم سیکٹر سے انخلاء کے بعد ہندوستان سے بات چیت، چین کی شرط

سکم سیکٹر سے انخلاء کے بعد ہندوستان سے بات چیت، چین کی شرط

 

بیجنگ ۔ 10 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چین نے آج گذشتہ ہفتہ جرمنی کے شہر ہمبرگ میں اختتام پذیر G-20 چوٹی کانفرنس کے دوران وزیراعظم ہند نریندر مودی اور صدر چین ژی جن پنگ کے درمیان ملاقات یا بات چیت کا یہ کہہ کرخلاصہ کرنے کی کوشش کی دونوں قائدین کی علحدہ سے دو طرفہ کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔ یہاں تک کہ ہندوستان نے بھی دونوں قائدین کی شخصی ملاقات کا کوئی خاص تذکرہ نہیں کیا ۔ البتہ دونوں کے درمیان ہوئے مصافحہ کو ہی ’ باہمی ملاقات ‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اتنا ضرور کہا کہ دونوں قائدین کے درمیان متعدد موضوعات پر بات چیت ضرور ہوئی ہے ۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ دونوں قائدین کی باہمی ملاقات پانچ منٹ سے زیادہ نہیں رہی ۔ دوسری طرف چین کو بھی اخباری نمائندوں کی جانب سے متعدد سوالات کا سامنا ہے جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ چین ، ہندوستان کے ساتھ دو رخی ملاقات کو کس تناظر میں دیکھتا ہے جس کا جواب دیتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے صرف اتنا کہہ کر اپنا دامن جھاڑنے کی کوشش کی کہ دونوں قائدین کے درمیان علحدہ سے کوئی دو رخی ملاقات نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک انہیں ملنے والی اطلاع کا سوال ہے تو یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ دونوں قائدین کے درمیان ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی جہاں تفصیل سے کوئی بات ہوسکے ۔ یاد رہے کہ G-20 چوٹی کانفرنس کے موقع پر ژی جن پنگ نے برکس قائدین کے ایک رسمی اجلاس کی صدارت بھی کی تھی جس میں وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر برکس ممالک کے سربراہان نے بھی شرکت کی تھی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ آج دنیا میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے صحافی انتہائی ذہین اور چالاک ہوتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ انہیں حالات حاضرہ کی بھی ناقابل یقین حد تک آگاہی ہوتی ہے ۔ لہذا ان سے بار بار یہ کہے جانے پر کہ مودی ۔ ژی ملاقات نہیں ہوئی ۔ انہوں نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پھر وہی سوال پوچھ لیا کہ آیا دونوں قائدین کی ملاقات ہوئی تھی جس پر ترجمان گینگ شوانگ نے اس بار کچھ ناخوشگوار لہجہ کے ساتھ کہا کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ دونوں قائدین کی G-20 چوٹی کانفرنس کے پس منظر میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ چین نے ہمبرگ میں G-20 اجلاس میں شرکت سے قبل ہی اپنا موقف واضح کردیا تھا کہ سکم کے ڈوکلام علاقہ میں چینی فوجیوں کے ذریعہ تعمیر کی جانے والی سڑک کا کام ہندوستانی فوجوں نے روک دیا تھا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT