Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سکندرآباد کنٹونمنٹ کی 200 سالہ قدیم مسجد میں صرف 2مسلمانوں کو نماز کی اجازت

سکندرآباد کنٹونمنٹ کی 200 سالہ قدیم مسجد میں صرف 2مسلمانوں کو نماز کی اجازت

مداخلت کرنے وقف بورڈ سے مسجد الحفیظ کی انتظامی کمیٹی کی درخواست ، پاسیس کی اجرائی پر زور
حیدرآباد ۔ 2 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی ) : ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں کئی ایسی قدیم مساجد ہیں جو فوجی علاقوں میں واقع ہیں جہاں مصلیوں کو نمازوں کی ادائیگی کی خصوصی اجازت دی گئی ہے ۔ جہاں تک فوج کا سوال ہے یہ زبان اردو کی طرح سیکولرازم اور گنگا جمنی تہذیب کی ایک بہترین مثال ہے جس طرح اردو مختلف زبانوں سے مل کر بنی ہے اسی طرح فوج میں ہندو مسلم سکھ عیسائی تمام مذاہب کے ماننے والے خدمات انجام دیتے ہیں ۔ فوج کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں ڈسپلن بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ فوجی علاقوں میں جو مساجد ہیں ان میں وقت پر ہونے والی اذانیں سن کر اور پنجوقتہ نمازوں کے اوقات دیکھ کر فوجی یہ سوچتے ہوں گے کہ مساجد بھی انسانوں کو ڈسپلن صحت و پاکیزگی کا پیام دیتی ہیں ۔ قارئین آج ہم کارخانہ بازار سکندرآباد کنٹونمنٹ میں واقع 200 سالہ قدیم مسجد الحفیظ کے بارے میں واقف کرواتے ہیں اس مسجد میں اعلیٰ فوجی حکام نے عام دنوں ( پنجوقتہ نمازوں کے لیے ) 12 اور نماز جمعہ کے لیے 20 مصلیوں کو پاسس جاری کئے تھے اور برسوں سے اس روایت پر عمل بھی کیا جارہا تھا ۔ لیکن اب وہاں صرف دو لوگوں ایک امام صاحب اور دوسرے مسجد انتظامی کمیٹی کے صدر کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے جس کے باعث قریب میں رہنے والے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ مسجد الحفیظ کی انتظامی کمیٹی کے صدر ایم اے کوثر پاشاہ کے مطابق یہ مسجد جو ہیف لاک لائن فیملی کوارٹرس کارخانہ بازار فوجی علاقہ کنٹونمنٹ سکندرآباد میں واقع ہے درج وقف ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وقف بورڈ کے عہدہ دار بار بار توجہ دلانے کے باوجود مسجد الحفیظ پر کوئی توجہ نہیں دیتے ۔ دوسری جانب مقامی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ AOC نمبر ون ٹریننگ بٹالین آندھرا سب ایریا بلارم سے پاس بناکر لانا ضروری ہے وہاں جانے پر مسجد انتظامی کمیٹی سے کہا جارہا ہے کہ آپ لوگوں کو پاسس جاری کردئیے جارہے ہیں تاہم اب تک پاسس نہیں بھیجے گئے ۔ ان حالات میں صرف دو لوگ ہی مسجد میں نماز ادا کرپا رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ کنٹونمنٹ علاقہ میں 5 تا 6 ہزار مسلمان آباد ہیں ۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے چیف منسٹر مسٹر کے سی آر کو بھی مکتوب لکھ کر اس جانب توجہ دلائی ہے جب کہ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی کو بھی متوجہ کیا ساتھ ہی وقف بورڈ کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر سے لے کر دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے بھی نمائندگی کی تاہم کوئی بھی مصلیوں اور انتظامی کمیٹی کی مدد نہیں کرپارہا ہے ۔ ویسے بھی اس مسجد میں بری فوج ، فضائیہ ، ایم ای ایس ، ساوتھ سنٹرل ریلوے اور دیگر مرکزی محکمہ جات کے وظیفہ یاب ارکان عملہ اور ان کے بچے نماز پڑھتے ہیں ۔ انہیں امید ہے کہ وقف بورڈ حرکت میں آتا ہے تو بریگیڈئیر آندھرا سب ایریا کمانڈر پاس کی اجرائی عمل میں لائیں گے جس سے مقامی مسلمانوں کو راحت ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT