Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سکھیندر ریڈی اور بھاسکر راؤ کو دوبارہ انتخاب لڑنے کا چیلنج

سکھیندر ریڈی اور بھاسکر راؤ کو دوبارہ انتخاب لڑنے کا چیلنج

ٹی آر ایس میں شمولیت مفاد پرستی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کا بیان
حیدرآباد ۔ 14 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے سینئیر رکن اسمبلی سابق وزیر مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مسٹر جی سکھیندر ریڈی اور رکن اسمبلی بھاسکر راؤ کو شرم و حیا ہو تو استعفیٰ دے کر دوبارہ مقابلہ کرنے کا چیلنج کیا اگر کامیاب ہوگئے تو وہ خود سیاسی سنیاس لے لیں گے ۔ آج سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ کانگریس کی رکنیت نا رکھنے والے اور گاندھی بھون کی سڑھیاں نہ چڑھنے والے مسٹر جی سکھیندر ریڈی کو نلگنڈہ حلقہ لوک سبھا سے کامیاب بنانے کے لیے انہوں نے دن رات محنت کی تھی۔ تاہم ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنے والے مسٹر جی سکھیندر ریڈی نے کانگریس میں گروپ بندیاں اور لڑائی جھگڑے کی جو دلیل پیش کی ہے وہ مضحکہ خیز ہے کیوں کہ وہ جب تلگو دیشم میں تھے ان کی اور ایم نرسمہلو کی 15 سال تک کھلے عام جنگ چلتی تھی کانگریس میں گروپ بندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے عوام کے غیض و غضب سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دونوں قائدین کے ٹی آر ایس میں جانے کے فیصلے سے کانگریس کا کیڈر ضلع نلگنڈہ میں جشن منا رہا ہے ۔ مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ مسٹر سکھیندر ریڈی نے وقت آنے پر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے وہ کہتے ہیں اگر ان کے پاس اخلاق ہے تو دونوں قائدین استعفی دے دیں اور دوبارہ مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کریں ۔ اگر وہ کامیاب ہوگئے تو وہ کبھی مقابلہ نہیں کریں گے ۔ سیاسی سنیاس لے لیں گے ۔ جی سکھیندر ریڈی کے خلاف مقابلہ کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس پارٹی ہائی کمان اجازت دیتی ہے تو وہ مقابلہ کریں گے ۔ ورنگل کے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کو جو اکثریت حاصل ہوئی ہے اس سے زیادہ اکثریت حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کریں گے ۔ ماضی میں وہ ایک مرتبہ سکھیندر ریڈی کو شکست دے چکے ہیں ۔ مریال گوڑہ میں کانگریس کے ایک معمولی کارکن کو انتخابی میدان میں اتارتے ہوئے بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اپوزیشن جماعتوں کے عوامی منتخب نمائندوں کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے خود کشی کررہے ہیں ۔ چند قائدین کے پارٹی چھوڑنے سے کانگریس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ کانگریس میں نئی لیڈر شپ ابھرے گی ۔ ٹی آر ایس حکومت نے دو سال کے دوران عوام سے کیے گئے وعدے 12 فیصد مسلم تحفظات کے بشمول دوسرے کوئی وعدے پورے نہیں کئے ۔ 2019 میں دوبارہ کانگریس حکومت تشکیل دے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT