Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / سکھ ، بھارت ماتا کی جئے یا وندے ماترم نہیں کہہ سکتے: شرومنی اکالی دل

سکھ ، بھارت ماتا کی جئے یا وندے ماترم نہیں کہہ سکتے: شرومنی اکالی دل

چندی گڑھ 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اسمبلی میں بھارت ماتا کی جئے کہنے سے انکار پر ایک رکن اسمبلی کو معطل کردینے کے بعد شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے صدر سمرنجیت سنگھ مان نے اِس مسئلہ میں مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ سکھ کسی بھی شکل میں خواتین کی پوجا نہیں کرسکتے اِس لئے وہ یہ نعرہ نہیں لگاسکتے۔ اخباری نمائندوں سے ملاقات کے بعد پارٹی کے دو کارکنوں سے بھٹنڈا سنٹرل جیل میں سمرنجیت سنگھ مان کی ملاقات کے بعد اُنھوں نے اخباری نمائندوں کے سامنے اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے کہاکہ ’’بی جے پی کے بقول کوئی بھی جو بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ نہ لگائے، محب وطن نہیں ہے اور اُس پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے، اُنھوں نے کہاکہ سکھوں کو یہ کہنا لازمی ہے کہ ’’واہے گروجی کا خالصہ، واہے گروجی کی فتح‘‘ مان خالصستان کی تائید کرنے والے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی کو جاننا چاہئے کہ سکھ ’’وندے ماترم‘‘ یا ’’مذہبی کتابوں جیسے گیتا کو دیگر مذاہب کے پیروؤں پر مسلط نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ بی جے پی زیراقتدار ہریانہ میں کیا گیا ہے‘‘۔ گزشتہ ہفتہ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی وارث پٹھان کو مہاراشٹرا اسمبلی سے معطل کردیا گیا جبکہ اُنھوں نے بھارت ماتا کی جئے کہنے سے انکار کیا۔ چند دن قبل کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے کہا تھا کہ وہ اُن کے گلے پر چھری رکھنے کے بعد بھی ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ نہیں کہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT