Monday , April 24 2017
Home / اداریہ / سکیوریٹی دستوں میں بے اطمینانی ؟

سکیوریٹی دستوں میں بے اطمینانی ؟

یہ اور بات ہے کہ نہ سمجھا کوئی مگر
وہ بھی ہماری طرح سے ممنون غم رہے
سکیوریٹی دستوں میں بے اطمینانی ؟
گذشتہ دنوں بی ایس ایف کے ایک جوان کی جانب سے ناقص غذا کی سربراہی کی شکایت پر مبنی ویڈیو کا مسئلہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا ہے اور اس پر کارروائی یا مراسلت کا سلسلہ چل ہی رہا ہے ایسے میں اب سی آر پی ایف کے ایک جوان نے یو ٹیوب پر ایک اور ویڈیو جاری کرتے ہوئے سکیوریٹی دستوں میں تنخواہوں میں عدم مساوات کا مسئلہ چھیڑ دیا ہے ۔ گذشتہ دنوں جب بی ایس ایف کے ایک جوان نے فیس بک پر ویڈیو پیش کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ جوانوں کو جو غذا فراہم کی جارہی ہے وہ انتہائی ناقص ہے اور انہیں اپنے فرائض انجام دینے کیلئے بھی نامساعد حالات کا سامنا ہے ۔ ابھی یہ مسئلہ ایسا لگتا ہے کہ طول ہی پکڑتا جا رہا ہے ۔ مختلف گوشوں سے اس مسئلہ پر اظہار خیال کیا گیا ہے اور الگ الگ شعبے الگ الگ رائے ظاہر کر رہے ہیں۔ خود بی ایس ایف کی جانب سے اس مسئلہ پر وضاحت بھی کردی گئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس شکایت کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے ۔ خود وزیر اعظم کے دفتر نے اس مسئلہ پر رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ ابھی یہ مسئلہ زیر بحث ہی ہے کہ سی آر پی ایف کے ایک جوان نے بھی یو ٹیوب پر ایک ویڈیو پیش کرتے ہوئے تنخواہوںمیںعدم مساوات کا مسئلہ چھیڑ دیا ہے ۔ دفتر وزیر اعظم سے اس مسئلہ پر بھی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے ۔ ذمہ دار حلقوں کی وضاحت ہے کہ آج جو مسئلہ جوان نے موضوع بحث بنایا ہے وہ اب کا نہیں ہے بلکہ اس جوان نے یہ ویڈیو اس وقت پیش کیا تھا جب ایک عہدہ ایک پنشن کا مسئلہ چل رہا تھا ۔ چند دن پہلے بی ایس ایف جوان نے فیس بک پر جو ویڈیو پیش کیا تھا اس میں اس نے کہا تھا کہ حالانکہ حکومت کی جانب سے سکیوریٹی دستوں کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیںلیکن اعلی عہدیدار اس میں مبینہ طورپر خرد برد کرتے ہیں اور جوانوں تک ناقص غذا پہونچ رہی ہے ۔ وزیر دفاع مسٹر منوہر پریکر نے وضاحت کی کہ وہ خود صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور صورتحال پر وہ خود نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح سے یہ ایسے مسائل ہیں جس پر حکومت کو اور حکام کو فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ سکیوریٹی دستوں میں عدم اطمینان کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ سارا ہندوستان اپنے فوجی جوانوں سکیوریٹی دستوں کی مثالی خدمات کی وجہ سے چین کی نیند سوتا ہے ۔ یہ جوان اپنے گھروں اور اقربا سے دور نا مساعد حالات میں گراں قدر خدمات انجام دیتے ہیں۔ ملک کی سالمیت پر آنچ آنے کا کوئی موقع نہیں دیتے ۔ اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے بھی ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کے دعوی کئے جاتے ہیں۔ دفاعی اداروں اور فورسیس کو عصری سہولتوں سے لیس کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ہے لیکن ایسے میں اگر جوانوں اور سکیوریٹی اہلکاروں میں عدم اطمینان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ملک میں ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے سکیوریٹی اہلکاروں اور فوجی جوانوں کی خدمات کے معترف ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ انتہائی مشکل ترین حالات میں بھی ایک عزم کے ساتھ ڈٹے ہوتے ہیں اور ملک کی حفاظت اور سرحدات کی حفاظت کیلئے ہر طرح کی قربانی پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود بھی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انہیں ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے حکومتوں کی جانب سے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ہے ۔ سکیوریٹی اہلکاروں اور فوجی جوانوں کی خدمات کا سارا ملک معترف بھی ہے ۔ ایسے میں ان کی بنیادی ضروریات اور خاص طور پر موسمی حالات اور ان کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔
اب جبکہ یہ مسئلے سوشیل میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر آگئے ہیں اور وزیر دفاع منوہر پریکر خود حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جائزہ لے رہے ہیں اور دفتر وزیر اعظم سے بھی رپورٹ طلب کرلی گئی تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈسیپلین کی پابندی کا خیال رکھتے ہوئے دفاعی دستوں کی ضروریات کی تکمیل اور ان کی سہولیات وغیرہ میںمعیارات وغیرہ کا بھی خاص خیال رکھا جائے ۔ سکیوریٹی اداروں اور فورسیس میں بے اطمینانی کی کیفیت پیدا نہیں ہونی چاہئے ۔ یہ بھی جائز ہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان جوانوں نے جو شکایات پیش کی ہیں وہ واجبی ہیں یا نہیں ۔ اگر یہ شکایات واجبی ہیں تو پوری سنجیدگی کے ساتھ ان کا جائزہ لے کر ان شکایات کے ازالہ کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں نہ صرف ڈسیپلین کے نقطہ نظر سے بلکہ انتظامی نقطہ نظر سے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان شکایات کا حقیقی معنوں میں ازالہ ممکن ہوسکے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT