Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / سکیولر اتحاد کی حمایت تاہم لالو کی ریلی میں شرکت سے انکار ‘ مایاوتی

سکیولر اتحاد کی حمایت تاہم لالو کی ریلی میں شرکت سے انکار ‘ مایاوتی

New Delhi: BSP chief Mayawati addressing media in Parliament in New Delhi on Tuesday. PTI Photo by Subhav Shukla(PTI7_18_2017_000016B)

نشستوں کی تقسیم پر قبل از وقت اتفاق رائے پر زور ۔ بی جے پی کے خلاف جامع حکمت عملی کی وکالت
لکھنو 24 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے آج کہا کہ حالانکہ ان کی پارٹی سکیولر جماعتوں میں اتحاد کی حامی ہے لیکن وہ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کی جانب سے اتوار کو ہونے والی بی جے پی مخالف ریلی میں شرکت نہیں کرینگی ۔ مایاوتی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی نے آر جے ڈی کو واضح طور پر کہدیا ہے کہ وہ اسی صورت میں کسی علاقائی یا قومی جماعت کے ساتھ اسٹیج پر آئیگی جب یہ پہلے سے فیصلہ ہو کہ سکیولر اتحاد میں ان کی پارٹی کو کتنی نشستیں حاصل ہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کرنے والی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ کوئی سکیولر پروگرام یا پالیسی تیار کرنے سے قبل نشستوں کی تقسیم کے اصول پر فیصلہ کرے کیونکہ کسی بھی اتحاد کی زندگی کا دار و مدار اسی پر ہوتا ہے اور سبھی کو نشستوں کی خاطر خواہ تعداد ملنی چاہئے ۔ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو سارے بہار کے دورے کر رہے ہیں اور 27 اگسٹ کی اس ریلی کیلئے عوام کو مجتمع کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ادعا کیا کہ یہ ریلی سکیولر طاقتوں کو بی جے پی کے خلاف 2019 کے انتخابات سے قبل ایک پلیٹ فارم پر لانے کا ایک بہترین موقع ہوگی ۔ لالو پرسادو یادو ‘ بہار میں نتیش کمار کے بی جے پی سے اتحاد اور سکیولر اتحاد سے علیحدگی کے بعد اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ مایاوتی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پر قبل از وقت فیصلہ ہوجاتا ہے تو اس سے باہمی عدم اعتماد کی صورتحال ختم ہوسکتی ہے اور عوام کا بھروسہ بھی برقرار رہ سکتا ہے ۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو بی جے پی کو شکست دینا مشکل نہیں ہوگا ۔ بی ایس پی صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ ہی سکیولر جماعتوں کے مابین اتحاد کی حمایت کی ہے اور اس نے بی جے پی اور کمپنی اور آر ایس ایس اور اس کی فرقہ پرست اور ذات پات پر مبنی ذہنیت کے خلاف ہمیشہ ہی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک پٹنہ میں ہونے والی ریلی میں شرکت کا سوال ہے پارٹی کا یہ موقف ہے کہ عوام میں اس تعلق سے کوئی عدم اطمینان نہیں ہونا چاہئے اور خود سکیولر جماعتوں میں کسی طرح کے اختلافات نہیں ہونے چاہئیں ۔ انہوںنے کہا کہ اس ریلی کے کامیاب ہونے کی صورت میں بھی دھوکہ دہی ہوسکتی ہے اور اس کی ماضی میں مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ صورتحال سے بی جے پی کو فائدہ نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی سکیولر جماعتوں کے اتحاد یا ان کی مشترکہ جدوجہد کی مخالف نہیں ہے لیکن اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ یہ سب کچھ پوری دیانتداری اور نیک نیتی کے ساتھ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے گذشتہ اسمبلی انتخابات کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح سے کچھ جماعتوں نے نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پر لمحہ آخر میں اتحاد سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی اپنی عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی ۔ وہ کسی بھی جماعت سے اسی صورت میں اتحاد کرتی ہے جب اسے یہ محسوس ہوکہ اسے قابل لحاظ تعداد میں نشستیں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بی جے پی کو مرکز اور ریاست دونوں جگہ اقتدار حاصل ہے اور وہ سکیولر جماعتوں اور اتحاد کو بدنام کرنے یا کمزور کرنے کیلئے ہر طریقہ اختیار کرسکتی ہے اور اس سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اپوزیشن جماعتوں کو ایک جامع حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بی جے پی کو شکست دی جاسکے اور عوام کا اعتماد دوبارہ جیتا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT