Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / سکیولر ازم کو پہلے سے زیادہ خطرہ ‘ نین تارا سہگل

سکیولر ازم کو پہلے سے زیادہ خطرہ ‘ نین تارا سہگل

کئی کلچر مل کر ہندوستان بنا ہے ۔ میں کلچر کے اعتبار سے نصف مسلم اور پیدائشی ہندو ہوں
چندی گڑھ 5 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) معروف مصنفہ نین تارا سہگل نے ‘ جنہوں نے دادری قتل واقعہ کے خلاف حال ہی میں اپنا ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ واپس کردیا تھا ‘ آج کہا کہ سکیولرازم کو آج پہلے سے زیادہ خطرہ ہے اور شخصی آزادی و حقوق کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے جن کی دستور میں ضمانت دی گئی ہے ۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی بھتیجی نین تارا سہگل نے کہا کہ سکیولر ازم ہندوستانی کلچر کا حصہ ہے کیونکہ صدیوں سے دوسرے کلچر کے اثرات ہم پر مرتب ہوتے رہے ہیں اور اسی سے ہندوستان بنا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا وہ سکیولر ازم کو خطرہ میں محسوس کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ سکیولر ازم کو آج پہلے سے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ آج یہ عمدا ہو رہا ہے ۔ ہم ابھی اسے پالیسی نہیں کہہ سکتے کیونکہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل نریندر مودی نے جو تقاریر کی تھیں وہ سب ترقی پر مبنی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اس بات کا کوئی اشارہ یا شبہ نہیں مل سکا تھا کہ مودی حکومت میں جو کچھ کیا جا رہا ہے

یا کیا جائیگا وہ ہندوتوا ہوگا ۔ 1920 سے ہندوتوا ہی ہندو مہاسبھا کی پالیسی تھی اور ہم اب یہی کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ دائیں بازو کے عناصر کے رول والے کچھ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم آج انہیں یکا دوکا عناصر قرار دے رہے ہیں لیکن ایسے عناصر بہت ہیںاور انہوں نے اتنا نقصان پہونچا دیا ہے کہ اب قوم ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہو رہی ہے ۔ اب ان سے ایسا خطرہ محسوس ہو رہا ہے جو پہلے کبھی محسوس نہیں کیا گیا تھا ۔ یہ لوگ ایک ہندو راشٹر دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ایک ہندو پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہیں یقین ہے کہ ہندوستان کے عوام ایسی کوششوں کو قبول نہیں کرینگے ۔ یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سہگل نے کہا کہ ہندوستان کے نظریہ کی دستور ہند میں ضمانت دی گئی ہے اور اس میں ہر ہندوستانی کو اپنی مرضی سے رہنے ‘ کھانے  اور عبادت کرنے کا حق دیا گیا ہے ۔ دادری واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس غریب شخص کو صرف بیف استعمال کرنے کے شبہ میں ہلاک کردیا گیا ۔ ا

نہوں نے کہا کہ آزادی ایسی چیز ہے جس کا ہمیشہ تحفظ کیا جانا چاہئے جس کی دستور میں ضمانت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر نسل کو اس کیلئے اقدام کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا نظریہ آزادی کے وقت کا نہیں ہے ۔ سکیولر ازم کا نظریہ آزادی کے وقت سے نہیں ہے ۔ یہ نہیں کہا جاکستا کہ ہم اب سکیولر ہیں۔ سکیولرازم ہندوستانی کلچر کا حصہ ہے کیونکہ صدیوں سے ہم نے دوسرے کلچر کو اپنے میں ضم کیا ہے اور یہ سب کچھ مل کر ہندوستان بنا ہے ۔ اس میں کئی مذاہب ‘ کئی کلچر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستانی مسلمان ‘ ہندوستانی ہندو اور ہندوستانی کرسچین نہیں ہیں ۔ ہم سب ہندوستانی ہیں اور اسی وجہ سے احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ شمالی ہند میں رہتی ہیں جہاں ہندوازم بہت زیادہ ہے ۔ وہیں اسلام کے مشہور فن تعمیر کے نمونے ہیں ‘ غذائی عادات اور اسلام کے اخلاق ہیں۔ ایسے میں وہ خود کلچر کے اعتبار سے نصف اسلامی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کلچر کے اعتبار سے مسلمان ہیں۔ وہ پیدائشی ہندو ہیں۔

TOPPOPULARRECENT