Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / سہارنپور تشدد :مہلوک دلت کے خاندان کو 15 لاکھ معاوضہ

سہارنپور تشدد :مہلوک دلت کے خاندان کو 15 لاکھ معاوضہ

دوسرے دن بھی پُرتشددحملے،ٹھاکربرادری کا شخص زخمی ، عہدیداروں کی معطلی اور تبادلے  ،انٹرنیٹ موبائیل معطل
سہارنپور ۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت اترپردیش ،ضلع سہارنپور میں پیش ذات پات پر مبنی تشدد کے واقعہ میں مہلوک شخص کے خاندان کو 15 لاکھ روپئے بطور معاوضہ ادا کرے گی۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کی ریلی میں شرکت کے بعد واپسی کے دوران ایک ہجوم نے ایک گروپ پر حملہ  کردیا تھا، جس کے نتیجہ میں سرساوا ٹاؤن سے تعلق رکھنے والا 24 سالہ آشیش ہلاک اور دیگر چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔ زخمیوں کو فی کس 50,000 روپئے معاوضہ دیا جائے گا۔ سہارنپور میں جہاں اپریل سے بین طبقاتی تصادم کے واقعات پیش آرہے ہیں گذشتہ روز تازہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ کئی پولیس سپرنٹنڈنٹ پرابل پرتاپ نے کہا کہ موضوع شبیرپور میں مایاوتی کی آمد سے قبل چند نامعلوم افراد نے ٹھاکروں کے 12 گھروں کو نذرآتش کردیا تھا۔ تاہم مایاوتی کی واپسی کے بعد ایک ہجوم نے بولیرو کار پر حملہ کردیا جو بی ایس پی کارکنوں کو واپس لے جارہی تھی۔ یہ افراد مایاوتی کے پروگرام میں شرکت کیلئے سرسہ ٹاؤن سے پہنچے تھے۔ سہارنپور کے ایس ایس پی سبھاش چندر دوبے نے کہا کہ گذشتہ روز کے واقعات کے ضمن میں 24 افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ اس دوران سہارنپور میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ منگل کو پیش آئے پرتشدد واقعات کے بعد پولیس کی مزید پانچ کمپنیاں تعینات کردی گئی ہیں۔ ذات پات پر مبنی تشدد کے واقعات کے ضمن میں تاحال تین درجن افراد گرفتار کرلئے گئے ہیں اور دو سینئر پولیس افسران معطل کئے جاچکے ہیں-

ذات پر مبنی تشدد کیلئے مایاوتی نے بی جے پی کو موردالزام ٹھہرایا۔ تمام متاثرہ علاقوں میں پولیس اور پی اے سی تعینات کردی گئی ہے۔ اترپردیش کے گڑبڑ زدہ ضلع سہارنپور میں لگاتار دوسرے دن بھی تشدد کی تازہ لہر دوڑ گئی جب نامعلوم بندوق برداروں نے ہندوؤں کی ا علیٰ ذات کی ٹھاکر برادری کے ایک رکن کو گولی مار کر شدید زخمی کردیا۔ ٹھاکر برادری کے ارکان اس ضلع میں دلتوں کے ساتھ خونریز تصادم جیسی صورتحال سے گذر رہے ہیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ پرابل پرتاپ سنگھ نے کہا کہ یہ واقعہ جنکپوری علاقہ میں جنتاروڈ پر پیش آیا جس میں پنوارکر بلاک کے قریب چند نامعلوم موٹر سیکل سواروں نے ٹھاکر پردیپ چوہان کو گولی مار کر شدید زخمی کردیا جس کے بعد ٹھاکر برادری کے ارکان نے ڈسٹرکٹ ہاسپٹل کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جہاں چوہان کا علاج کیا جارہا ہے۔ قبل ازیں آج دن میں مرزا پورگاؤں میں اینٹوں کی ا یک بھٹی کے قریب محوخواب دو افراد پر چند افراد نے حملہ کردیا تھا۔ حملہ آوروں نے تین کو گولی مار دی۔ یشپال کو بری طرح زدوکوب کیا۔ تاہم پولیس نے کہا کہ اس واقعہ کا رواں طبقاتی تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دوران معتمد داخلہ منی پرساد مشرا کی قیادت میں ایک چار رکنی ٹیم یہاں پہنچ گئی جس میں اے ڈی جی (امن و قانون) آدتیہ مشرا، آئی جی ایس ٹی ایف امیتابھ یش اور ڈی جی (سیکوریٹی) وجئے بھوشن بھی شامل ہیں۔ حکومت یوپی نے آج سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ضلع مجسٹریٹ کو معطل کردیا اور ڈیویژنل کمشنر اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل کا تبادلہ کردیا۔ آج رات موبائیل انٹرنیٹ اور پیغامات روانہ کرنے کی خدمات معطل کردی گئیں۔

TOPPOPULARRECENT