Thursday , May 25 2017
Home / Top Stories / سہارنپور میں راجپوتوں کے حملے، دلتوں کے گھر نذرآتش، متعدد فرار

سہارنپور میں راجپوتوں کے حملے، دلتوں کے گھر نذرآتش، متعدد فرار

مہارانا پرتاپ جینتی کے موقع پر تشدد، دلتوں کے حملے میں راجپوت کی ہلاکت کا شاخسانہ
سہارنپور ۔ 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے ایک سفاک انتخابی حکمت عملی کے تحت اگرچہ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے موقع پر سخت گیر ہندوتوا کے نام پر ہندوؤں کی سیاسی صف بندی کرتے ہوئے غیرمعمولی بھاری  اکثریت سے انتخابی کامیابی تو کرلی لیکن اب اس ریاست میں ہندو صف بندی کا شیرازہ بکھرنے لگا ہے اور چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اقتدار سنبھالنے کے بمشکل دیڑھ ماہ بعد ناکامی جیسی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں جنہوں نے ہندوؤں میں اتحاد اور ریاست کی ترقی کے لئے وعدے کئے تھے۔ سہارنپور میں راجپوت ٹھاکروں اور دلتوں کے درمیان وقفہ وقفہ سے جھڑپوں کے بعد ان پرجوش دلتوں میں بی جے پی سے مایوسی پیدا ہوگئی ہے جنہوں نے اس زعفرانی جماعت کو کامیاب بنانے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ کئی دلت اب یہ کہتے ہیں کہ ہم صرف انتخابات تک ہندو سمجھے جاتے رہے اور اب حسب سابق دلت بنادیئے گئے ہیں۔ سہارنپور میںمقیم دلتوں کے مطابق اس طبقہ کے تقریباً  100 خاندان اپنے دہشت گرد گروپوں کے ڈرخوف سے اپنے گھروں کو قفل ڈال کر دیگر مقامات کو فرار ہوتے رہیں اور جو رہ گئے ہیں انہیں مسلسل نفسیاتی خوف و ہراسانی کا سامنا ہے۔ ببلو اور ببلی پر مشتمل دلت جوڑے کے مطابق ان کے بچے ایک طرف ٹھاکروں کے انتقام اور پولیس کی کارروائیوں کے خوف سے فرار ہوگئے ہیں لیکن ببلو نے کہا کہ وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر فرار نہیں ہوسکتا کیونکہ تین سال قبل اس پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔

اس کی بیوی جو صاف طور پر بات کرنے سے بھی معذور ہے اپنے شوہر کے کان میں کہہ رہی تھی کہ ’’مجھے چھوڑ کر مت جاؤ‘‘۔ ٹھاکروں کے حملوں سے قبل ببلی ہی گھر کی ذمہ داریاں نبھایا کرتی تھی اور صحتیاب بھی ہورہی تھی لیکن 5 مئی کو پیش آئے خوفناک حملوں کو دیکھنے کے بعد اس کی حالت بگڑ گئی۔ رات کے اوقات خوف کی حالت میں چیخنا چلانا شروع کردیتی ہے اور وقفہ وقفہ سے ضرورت سے فارغ ہونے بیت الخلاء چلی جاتی ہے۔ اس خاندان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پہلے ہی گھر چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام کو فرار ہوچکی ہیں۔ یہ گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب 5 مئی کو سیوار کے راجپوت حکمراں مہارانا پرتاپ سنگھ کے 477 ویں پیدائش کے موقع پر منعقدہ تقریب میں لاؤڈ اسپیکرس پر کربناک انداز میں موسیقی بجائی جارہی تھی اور دلتوں کے اعتراض پر ٹھاکروں اور دلتوں میں خوفناک تصادم ہوگیا جس میں ایک ٹھاکر مارا گیا۔ انتقامی کارروائی میں دلتوں کے 25 گھر نذرآتش کردیئے گئے اور پانچ گھنٹوں تک پرتشدد حملوں کا وحشیانہ سلسلہ جاری رہا۔ جمعرات کی صبح نے دیکھا کہ درجنوں گھر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں اور دیگر کئی گھروں پر تالے پڑے ہیں۔ تقریباً دلت طبقہ کے ارکان نے شکایت کی کہ اس طبقہ کے خاندان اپنے گھروں کو قفل ڈال کر دیگر مقامات کو فرار ہوگئے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق 30 کے منجملہ 20 گھروں پر تالے پڑے تھے۔ چند دلت محض اپنے مویشیوں کو چارہ ڈالنے کیلئے بدستور مقیم ہیں۔ 50 سالہ دلت عورت راج دلاری نے کہا کہ ان مویشیوں کو کون کھلائے گا جن میں چند (مویشی) ٹھاکروں کے بھی
ہیں۔ دلاری نے کہا کہ ٹھاکروں کے ہجوم کے حملہ میں وہ بھی زخمی ہوئی ہے اور چلنے میں دشواری ہورہی ہے لیکن اس کے بیٹے اور دیگر افراد خاندان مزید حملوں کے خوف سے گھر چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں اور اب ہم اکیلے ہیں۔ 50 سالہ بیوہ روگنی نے کہا کہ وہ مویشیوں کی گندگی صاف کیا کرتی تھی۔ اس کا گھر جلادیا گیا ہے۔ چار پائی توڑ دی گئی ہے۔ میں اپنے  خاندان کی گذر بسر کیلئے کھیتوں میں مزدوری کیا کرتی ہوں۔ بیٹا اور بیٹی فرار ہوگئے ہیں اور میں تنہا ہوں۔ گھر میں کچھ آلو اور چاول ہیں جن پر غذا کیلئے اکتفا کررہی ہوں۔ روشنی نے کہا کہ جمعہ سے اس کی ایک گائے لاپتہ تھی اور وہ سمجھ رہی تھی کہ شاید تشدد کے درمیان کہیں بھاگ گئی ہے لیکن اس کو قریبی گاؤں میں ایک ٹھاکر کے گھر کے باہر باندھی ہوئی دیکھی گئی ہے۔ دوسری طرف چند ٹھاکر بھی پولیس کارروائی کے خوف سے فرار ہوگئے ہیں۔ اگرچہ کسی بھی ٹھاکر کے گھر پر قفل تو نظر نہیں آیا لیکن ٹھاکروں کے 20 خاندانوں کی منتقلی کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ایک کسان ٹھاکر نریش رانا نے کہا کہ ’’جو ہوگیا سو ہوگیا چند ٹھاکر فرار ہوئے ہیں۔ سہارنپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ این پی سنگھ نے کہا کہ ’’ہمیں دلتوں اور ٹھاکروں کی دوبہ دو ملاقات کا اہتمام کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی برہمی نکال سکیں جس کے بعد ہی اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے پیشقدمی کی جاسکتی ہے‘‘۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT