Tuesday , June 27 2017
Home / ہندوستان / سہارن پور معاملہ سے حکومت کی بدنامی، انکوائری کا مطالبہ

سہارن پور معاملہ سے حکومت کی بدنامی، انکوائری کا مطالبہ

بی جے پی کے لوگ دلتوں پر ظلم و زیادتی کررہے ہیں، یو پی اپوزیشن لیڈر چودھری کا الزام
لکھنؤ، 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے سہارن پور میں پیش آئے ذات پات کے جھگڑے سے یوگی حکومت کی بدنامی کے  درمیان اہم اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی نے پورے معاملے کی عدالتی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کے بار بار امن کی اپیل اور تشدد پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ کے باوجود معاملہ تھمتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ سہارن پور کے شبیر پور گاؤں اور اس کے آس پاس کے علاقے میں ابھی بھی کشیدگی برقرار ہے ۔ ریاست کے داخلہ سکریٹری سمیت چار سینئر افسرا ن لکھنؤ جاکر وہاں خیمہ زن ہیں۔ سہارن پور میں گذشتہ 20 اپریل کو فرقہ ورانہ فسادات ہوئے تھے ۔ اس کے بعد 5 ، 9 اور 23مئی کو راجپوتوں اور دلتوں میں ذات پات کی لڑائی ہوئی جس میں دو نوجوانوں کی موت ہوگئی اور 30سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ۔ گزشتہ 15مئی سے تقریباً ایک ہفتہ منعقدہ اسمبلی اجلاس کے دوران سہارن پور کا واقعہ چھایا رہا ۔ اسمبلی میں اپوزیشن نے اس معاملے پر ایک مرتبہ واک آؤٹ بھی کیا۔ سہارن پور کے واقعات پر اپوزیشن نے آج اس کی عدالتی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رام گوئند چودھری نے نیوز ایجنسی ’یو این آئی‘ کو تبایا کہ پورے واقعہ کی انکوائری ہائی کورٹ کے جج سے کرائی جانی چاہئے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے لوگ دلتوں پر ظلم اور زیادتی کررہے ہیں۔بی جے پی دلتوں کو زبردستی اپنے حق میں رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی فرقہ وارانہ اور ذات پات کے فسادات کرواکر 2019ء کا الیکشن جیتنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں یہ المیہ ہے کہ کسی لیڈر کی میٹنگ میں شرکت سے لوٹ رہے نہ تھے لوگوں پر تلوار اور بندوق سے کھلے عام حملے کئے جائیں۔ اپوزیشن اسے کمزوروں کو کچلنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے کمزوروں کو پریشان کروارہی ہے ۔ بی ایس پی کے ریاستی صدر رام اچل راجبھر نے بھی واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا کیوں کہ مقامی پولیس سے لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ریاستی حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT