Sunday , October 22 2017
Home / دنیا / سیاحوں کے بھیس بدل کر برطانوی جہادیوں کی براہ قبرص‘ شام میں داخلے کی اطلاع

سیاحوں کے بھیس بدل کر برطانوی جہادیوں کی براہ قبرص‘ شام میں داخلے کی اطلاع

لندن۔26اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) برطانوی جہادی دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کیلئے سیاحوں کا بھیس بدل کر مبینہ طور پر براہ قبرص شام میں داخل ہورہے ہیں جہاں ایک دولت اسلامیہ کا ٹراویل ایجنٹ انہیں آگے کے سفر کی سہولتیں فراہم کرتا ہے ۔ برطانوی جہادیوں کو دولت اسلامیہ میں شمولیت کی ترغیب دی جارہی ہے اور انہیں جزیرہ قبرص کے راستے شام میں غیرقانونی طور پر داخل کیا جارہا ہے ۔ وہ سستی پروازوں کے ذریعہ سیاحتی مقامات کا سفر کرتے ہیں جہاں سے وہ ترکی کے زیرقبضہ شمالی قبرص پہنچتے ہیں ‘جہاں انہیں ایک ہزار پاؤنڈ کے خرچ سے ماہی گیر کشتیوں کے ذریعہ پہنچتے ہیں ‘ انہیں وہاں سے شام کے ساحلی علاقہ میں اندھیرا سے فائدہ اٹھاکر پہنچادیا جاتا ہے ۔ روزنامہ ’’دی مرر‘‘ کی اطلاع کے بموجب ایسے برطانوی جہادیوں کی حقیقی تعداد بتانا مشکل ہے لیکن ایک اندازہ کے بموجب برطانیہ کے کئی افراد دولت اسلامیہ میں شمولیت کیلئے یہی راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ کاروبار کنٹراکٹ کی بنیاد پر جاری ہے ۔ سودے نقد رقم کے بدلے ہوتے ہیں ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کیا ہورہا ہے لیکن کوئی بھی اس کے بارے میں زبان نہیں کھولتا ۔ گذشتہ ہفتہ حکومت برطانیہ نے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ سے دولت اسلامیہ میں شمولیت کیلئے جانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔1974ء کی جنگ کے بعد قبرص کو شمالی اور جنوبی قبرص میں تقسیم کردیا گیا ہے ۔ شمالی علاقہ ترکی اور جنوبی علاقہ یونان کے قبضہ میں ہے ۔اقوام متحدہ کے فوجی  سرحد پر طلایہ گردی کرتے رہتے ہیں ۔ برطانیہ نے جنوبی قبرص میں دو فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں ۔ ایک بار جہادی غلطی سے اس علاقہ میں پہنچ گئے تھے ۔ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے غیر ملکیوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ خاص طور پر برطانیہ کے شہری کثیر تعداد میں دولت اسلامیہ میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس کے انسداد کیلئے حکومت برطانیہ نے اپنے شہریوں پر شام سے سفر پر امتناع عائد کردیا ہے لیکن داعش میں شمولیت کے خواہشمند سب سے پہلے ترکی جاتے ہیں جس کی سرحد شام سے متصل ہے۔

TOPPOPULARRECENT