Monday , July 24 2017
Home / اداریہ / سیاستدانوں کا ٹوئیٹ

سیاستدانوں کا ٹوئیٹ

سیاستدانوں کا ٹوئیٹ جوکھم بھرا بن جائے تو نقصانات کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔ فیس بک اور ٹوئیٹر یعنی سوشیل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے سیاستدانوں نے سیاسی حلقوں میں افراتفرای پیدا کرنے کا ذریعہ پیدا کرلیا ہے ۔ کانگریس کے سینئیر لیڈر ڈگ وجئے سنگھ کی ٹوئیٹ کو کبھی مقولیت ملی ہے تو کبھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس مرتبہ ان کی ٹوئیٹ نے تلنگانہ حکومت کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں کانگریس امور کے انچارج کی حیثیت سے ڈگ وجئے سنگھ کو پارٹی کی ساکھ بحال کرانے کی فکر لاحق ہوگئی ہے اس لیے انہوں نے یہ متنازعہ بیان دیا کہ تلنگانہ پولیس نے ایک ’ بوگس ‘ آئی ایس آئی ایس ویب سائٹ قائم کیا ہے تاکہ مسلم نوجوانوں کو اکسا کر انہیں گروپ میں شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بدنام کردیا جائے ۔ ان کا یہ بیان یا خیال بادی النظر میں غور طلب ہے ۔ ہندوستان میں مسلم نوجوانوں کو پھانسنے اور انہیں مختلف دہشت گرد گروپوں سے منسلک کرنے کی سازشوں کا سلسلہ ماضی کے کانگریس دور یا پھر این ڈی اے حکومت کے دوراں میں جاری تھا اور اب مرکز کی مودی زیر قیادت حکومت میں بھی یہ کیفیت برقرار ہے ۔ حکمرانی کی سطح پر جب کوئی ادارہ مخصوص مشن پر کام کرتا ہے تو اس کی راز داری سے پردے یوں ہی اٹھتے رہتے ہیں ۔ جن میں کبھی سچائی پوشیدہ رہتی ہے تو کبھی سازشی پہلو سامنے آتا ہے ۔ اٹل بہاری واجپائی حکومت کے دور میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے ایل کے اڈوانی کی زبان پر ہر لمحہ پاکستان کی آئی ایس آئی کا نام آتا تھا ۔ القاعدہ ، لشکر طیبہ ، جیش محمد یا انڈین مجاہدین سیمی وغیرہ جیسی تنظیموں کے حوالے سے ہندوستانی مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے والے منصوبوں سے ہر کوئی نہ ہی کچھ خاص طاقتور سیاسی و سماجی گروپس واقف ہیں ۔ اب ڈگ وجئے سنگھ نے جس نازک مسئلہ کی جانب توجہ دی ہے وہ اس اعتبار سے یقین و شبہ کے درمیان معلق ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس کو مسلمانوں نے مسترد کردیا ہے ۔ ایسا محسوس کرنے والے کانگریس قائدین ہی خود کو اضطرابی کیفیت میں مبتلا کررہے ہیں ۔ ڈگ وجئے سنگھ کے بیان پر اٹھنے والے کئی سوالات اور ان پر کی جانے والی تنقیدوں کے بیچ حکومت تلنگانہ کو یہ وارننگ دینی پڑی کہ اگر ڈگ وجئے سنگھ نے ثبوت پیش نہیں کیا یا معذرت خواہی نہیں کی تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔ اگر ڈگ وجئے سنگھ نے اپنا بیان کسی ثبوت اور شواہد کے بغیر دیا ہے تو یہ ان کی سیاسی زندگی کے معیارات کے مغائر ہے کانگریس چونکہ مسلم طبقہ میں پہلے ہی سے رسوائی کا شکار ہے ۔ مزید اسے مسلمانوں سے دور کرنے کی کوشش ایک خراب نظر پیدا کرے گی ۔ ڈگ وجئے سنگھ کے ٹوئیٹ کو محض ایک ناکام پارٹی کے مایوس لیڈر کی بڑ سمجھا جائے تو اس پر زیادہ واویلا نہیں مچایا جانا چاہئے کیوں کہ کبھی کبھی منفی مہم یا شرارت کے ذریعہ بھی شہرت یا سرخیوں میں رہنے کے شوق کو پورا کرلیا جاتا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ ایک معتبر اور سینئیر تجربہ کار لیڈر ہیں ۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں برسوں تک چیف منسٹری کے فرائض انجام دئیے ہیں وہ جانتے ہیں کہ حکمرانی کی ذمہ داری ریاستی عوام کے لیے کتنی نازک اور اہم ہوتی ہے ۔ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کو مسلمانوں سے دور کرنے کے خیال سے اگر آئی ایس آئی ایس ویب سائٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے تو اس کی کوئی اہمیت ہے یا نہیں  ، تلنگانہ پولیس یا حکومت ہی بہتر جانتی ہے ۔ تلنگانہ پولیس ان دنوں اپنی کارکردگی اور خدمات کے لیے نیک نامی حاصل کررہی ہے ۔ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہی حکومت کی بہتری کی ضامن ہوتا ہے ۔ نئی ریاست تلنگانہ میں پرامن حالات پائے جاتے ہیں ۔ جہاں تک مسلم نوجوانوںکو ماخوذ کرنے کا سوال ہے یہاں آلیر کا انکاونٹر پولیس کے دامن پر لگے داغ کو مٹا نہیں سکا ۔ ایسے میں ڈگ وجئے سنگھ نے ایک فرضی ویب سائٹ کی جانب اشارہ کیا ہے تو تلنگانہ حکومت ان سے صرف معذرت خواہی کا مطالبہ کیوں کررہی ہے ۔ کیا ان کے معذرت چاہنے سے اس الزام کی سنگینی ختم ہوگی اور مسلم نوجوانوں کے خلاف خفیہ طور پر پھیلائے جانے والے جال کی پردہ پوشی کی جائے گی ؟ اس طرح کے بیانات اور ان پر ہونے والا ردعمل ایک سیاسی شارٹ سرکٹ ہوتے ہیں جو بعض اوقات جھلسا دیتے ہیں تو بسا اوقات خود بھسم ہوتے ہیں ۔ سیاستدانوں یا حکمرانوں کی ہر بات میں ان دنوں ’ مسلم ‘ ہی نشانہ پر ہیں ۔ لہذا مسلم طبقہ کو بھی اس سیاسی شارٹ سرکٹ سے چوکس و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ اس طرح کی دبی دبی آواز مسلم معاشرہ کے دل کو زخمی کرسکتی ہے ۔ مسلمانوں کے تعلق سے یہ لوگ اپنی اپنی عدالتیں لگا کر سزا سنانے یا ہر معاملہ میں انصاف دلانے کے عمل میں ڈرامائی طور پر مصروف دکھائی دیتے ہیں ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT