Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / سیاستدانوں کیلئے سال اچھا نہیں، تیسری جنگ کا بھی امکان

سیاستدانوں کیلئے سال اچھا نہیں، تیسری جنگ کا بھی امکان

سورج گہن کے پس منظر میں نجومیوں کی پیشن گوئی نے سیاستدانوں اور صنعتکاروں کی نیند حرام کردی

حیدرآباد۔ 8 ۔ مارچ (سیاست نیوز) سیاستدانوں ، صنعتکاروں کے ’’اچھے دن ‘‘ ختم ہونے جارہے ہیں ۔ زلزلے اور تیسری عالمی جنگ بھی متوقع ہے ۔ آفات سماوی تباہی مچائیں گے ۔ یہ دعوے وہ کاہن  کر رہے ہیں جو مستقبل کا حال بتانے کے مدعی ہیں۔ جیوتش یا کاہن کی بات ماننے والوں کی بڑی تعداد ان پیشن گوئیوں سے پریشان ہے۔ سیاستداں و صنعتکار جو کاہن یا جیوتش سے مشاورت کرتے ہیں، وہ اپنے سیاروں کی گردش کے متعلق معلومات حاصل کرنے لگے ہیں۔ 9 مارچ کو اس سال کا پہلا سورج گہن ہونے جارہا ہے اور اس سورج گہن کے علاوہ سیاروں کی گردش و علم نجوم رکھنے کے مدعی کاہنوں نے ایک مرتبہ پھر سے ایسی خطرناک پیشن گوئیوں کا آغاز کیا ہے کہ ملک کے سیاستداں اور صنعتکار طبقہ کی نیندیں حرام ہونے لگی ہیں۔ نجومیوں کا دعویٰ ہے کہ 9 مارچ کو جو سورج گہن ہوگا ۔ اس وقت جو فلکیاتی نظام حرکت کررہا ہوگا۔ اس کی مناسبت دوسری عالمی جنگ کے موقع پر جو نظام فلکیات و سیاروں کا موقف تھا ، اس سے موافقت رکھتا ہے ، اس لئے یہ کہنا بجا ہے کہ اسی سال تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اتنا ہی نہیں ماہرین علم نجوم ہونے کے مدعی ان کاہنوں کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں و صنعتکاروں کے اچھے دن ختم ہوجائیں گے اور ان کا برا وقت 9 مارچ سے شروع ہوگا ۔ سیاستداں ماہر علم فلکیات و نجومیوں کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں، اس کا اندازہ موجودہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ماہر علم نجوم کو سرکاری حیثیت کے ساتھ مقرر کئے جانے سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں سیاروں کی گردش اور برے وقت سے بچنے کیلئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے بڑے پیمانہ پر کی گئی ’’ چنڈی یگنم‘‘ پوجا اور ماہرین علم نجوم کے مشورہ پر چیف منسٹر کیمپ آفس کے عقب میں واقع آئی اے ایس اسوسی ایشن کا غلبہ شامل ہے ۔ چیف منسٹر نے کیمپ آفس کے قریب سے آئی اے ایس اسوسی ایشن کو منتقل کرنے کا فیصلہ صرف اس لئے کیا چونکہ ماہرین علم نجوم نے یہ کہا تھا کہ ان کے مکان کے قریب پانی جمع نہ رہے اور آئی اے ایس اسوسی ایشن کی عمارت میں سوئمنگ پول تھا اور یہ بھی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ریاستی سکریٹریٹ کو بھی منتقل کیا جارہا ہے اور اس کی وجہ دراصل سکریٹریٹ کے روبرو موجود حسین ساگر جھیل ہے ۔ واستو اور نجومیوں کی مشاورت پر چلنے والے سیاستداں و صنعتکاروں کے لئے اب مزید بری خبریں آنے لگیں گی اور ان خبروں سے خوفزدہ کرتے ہوئے یہ کاہین اپنی دکان چلاتے رہیں گے ۔ 9 مارچ کو ہو نے والے گہن کے متعلق نجومیوں کا کہنا ہے کہ 3 گھنٹے 22 منٹ جاری رہنے والے اس سورج گہن کے دوران ایک اور سیارہ سورج کی آڑ میں ہوگا ۔ ماہرین فلکیات کے بموجب 6.50 سے شروع ہونے والے گہن کا اختتام 9.08 کو ہوگا اور اس دو ران 7.25 منٹ پر 4 منٹ 9 سکنڈ کے لئے سورج پر مکمل گہن لگ جائے گا ۔ نجومیوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس سورج گہن کے زمین پر جو منفی اثرات ہوں گے ، ان میں زلزلے بھی شامل ہیں اور گہن کے دوران انڈونیشیا ، شمالی ہند ، پاکستان اور چین کے علاقوں میں ز لزلے کے جھٹکے محسوس کئے جاسکتے ہیں ۔ سرگرم سیاست میں مصروف سیاستدانوں کے مستقبل کے متعلق نجومی جو پیشن گوئی کر رہے ہیں اس  میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ 17 اپریل کے بعد سیاستدانوں کے برے دن شروع ہوں گے ۔ اس کے علاوہ 9 مارچ ، 17 اپریل تا 17 جون اور یکم ستمبر کو بھی نحس قرار دیا جارہا ہے اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ تواریخ سیاست دانوں کے لئے مشکل تواریخ ہیں اور انہیں ان تواریخ کے دوران انہ یں صحت ، خاندان ، تجارتی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT