Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / سیاستدانوں کی رشوت خوری کا کوئی ثبوت نہیں

سیاستدانوں کی رشوت خوری کا کوئی ثبوت نہیں

آگسٹا ویسٹ لینڈ اسکام میں اطالوی جج کا بیان
نئی دہلی ۔ 4 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اٹلی کے جج نے جس نے آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے کے بارے میں اپنا فیصلہ سنایا ہے، آج کہا کہ اس بات کا کوئی ’’راست ثبوت‘‘ نہیں ہے کہ اس سودے میں کوئی ہندوستانی سیاستداں رشوت خوری میں ملوث ہے۔ انہوں نے ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا امکان ہوسکتا ہے لیکن کوئی راست ثبوت موجود نہیں ہے۔ جج مارکو ماریا مائیگا نے جنہوں نے اطالوی دلال اور ہیلی کاپٹر کمپنی کے سینئر عہدیداروں کے خلاف فیصلہ سنایا ہے، یہ بات کہی۔ مائیگا ملن کورٹ کے جج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے سوال کیا تھا کہ کیا انہیں یقین ہیکہ ہندوستانی سیاستدانوں کو اطالوی دلال نے رشوت کی پیشکش  کی تھی۔ اس نے کہا کہ ان کا فیصلہ صرف ہیلی کاپٹر کمپنی کے سینئر عہدیداروں اور دلال کے خلاف ہے جس نے ہندوستان میں بعض عہدیداروں کو رشوت ادا کی تھی اور یہ ہندوستانی تحقیقات کنندوں کا کام ہیکہ وہ رقم کا پتہ چلائیں۔ جج نے کہا کہ ہندوستانی افراد کی شناخت اطالوی عدالتوں کے فیصلہ کا موضوع نہیں ہے۔ تاہم وہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ فیصلہ کا مقصد دو اطالوی بزنس مین اور ان کے دلال کے خلاف کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا حکم دستاویزات کی بناء پر ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہیکہ ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ ایس پی تیاگی نے اپریل 2012ء تک رشوت حاصل کی تھی۔ جج نے کہا کہ رشوتیں ممکن ہیکہ دوسروں کو بھی دی گئی ہوں جنہوں نے آگسٹا ویسٹ لینڈ کمپنی کو ہندوستان کا یہ معاہدہ دلوایا تھا۔ تاہم اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ عدالت نے گائیڈو ہاسچکی، کارلوزگیروسا اور کرسچین مائیکل کو سزاء دی۔ انہوں نے مبینہ طور پر عدالت کے اجلاس پر کہا تھا کہ تیاگی خاندان کو اور اس وقت کے سربراہ ہندوستانی فضائیہ کو ششی تیاگی کے ساتھ رشوت ادا کی تھی۔ تیاگی نے رشوت خوری میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ حکومت ہند سے ملنے والے تعاون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس مقدمہ میں ہندوستانی فریق کی جانب سے بھی حقائق کی وضاحت کرلی گئی ہے۔ ہم نے فیصلے کی نقل سی اے جی کو روانہ کی ہے اور تجویز، معاہدہ کی نقل طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کچھ اور نہیں کہنا چاہتے۔

TOPPOPULARRECENT