Saturday , September 23 2017
Home / سیاسیات / سیاستدانوں کے خلاف رسوا کن مہم

سیاستدانوں کے خلاف رسوا کن مہم

راجیہ سبھا میں سماجوادی پارٹی لیڈر نریش اگروال کا احتجاج

نئی دہلی۔/11اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا میں کئی ایک ارکان نے آج بعض گوشوں کی جانب سے سیاستدانوں کے خلاف نازیبا ریمارکس پر تنقید کی اور کہا کہ اس طرح کے حملوں سے منتخبہ نمائندوں اور جمہوری اداروں پر سے عوام کا اعتماد متزلزل ہوجائیگا۔ یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے نریس اگروال ( سماجوادی پارٹی ) نے کہا کہ سادھوی پراچی ایک منظم سازش کے تحت بیانات دے رہی ہیں۔ انہوں نے یہ ادعا کیا کہ پارلیمنٹ میں دہشت گرد بیٹھے ہوئے ہیں اور پارلیمنٹ میں اشیائے خوردونوش پر سبسیڈی کے خلاف بھی مسلسل تبصرے کئے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں دہلی ہائی کورٹ نے ان ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کیلئے پانی اور برقی کی سربراہی منقطع کردینے کا حکم دیا ہے جوکہ گزشتہ 3سال سے بقایا جات ادا نہیں کئے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اس طرح کی کارروائی ( منقطع ) میڈیا اور ا علیٰ عہدیداروں کے خلاف کیوں نہیں کی گئی۔ مسٹر نریش اگروال نے یہ شکایت کی کہ خصوصی عدالتیں دہشت گردی کی بجائے سیاستدانوں کے خلاف کیسیس کی سماعت کررہے ہیں جس کے باعث عوام میں ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں غلط تاثرات پیدا ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک سال میں سیاستدانوں کے خلاف مقدمہ کی یکسوئی کردی جارہی ہے

 

لیکن دہشت گردوں کے مقدمات 22سال تک چلائے جارہے ہیں۔ سماجوادی اپرٹی لیڈر نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک سابق جج نے ارکان پارلیمنٹ کو ’’ بدمعاش ‘‘ قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ کینٹین میں سربراہ کی جانے والی اشیائے خورد ونوش کے فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں پر غذا صبح 4بجے تیار کی جاتی ہے اور دن بھر یہ سربراہ کی جاتی ہے اور اس کینٹین میں کھانے والے اکثر بیمار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے یہ دریافت کیا کہ اس کینٹین میں کھانے والے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد کیا ہے؟ اور میڈیا اور اسٹاف کے کتنے لوگ یہ غذا کھاتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ جب مسئلہ روزگار، سڑکوں، برقی اور پانی کا درپیش ہوتا ہے تو عوام اپنے منتخبہ نمائندوں سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں اور ان مسائل پر کوئی بھی میڈیا اور تاجر گھرانوں سے رجوع نہیں ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی یا وزراء کے خلاف تبصرہ سے ان کی شبیہ متاثر ہورہی ہے اور جمہوری اداروں کی توقیر بھی مجروح ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT