Monday , August 21 2017
Home / مضامین / سیاست دانوں کی بے حسی

سیاست دانوں کی بے حسی

غضنفر علی خان

آج ہمارا ملک نہایت سنگین بحران سے گزر رہا ہے ۔ ہندوستان کا غلہ اگانے والا کسان قدرت کی نامہربانیوں سے خود کو موت کے منہ میں ڈھکیل رہا ہے ۔ وطن کی بیٹیاں ہیں کہ اپنی عصمت سربازار لٹتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ طلبہ اپنی درسگاہوں میں پولیس کی لاٹھیوں سے زخمی ہورہے ہیں یا پھران کی گولیوں سے جان عزیز کھو رہے ہیں۔ دلت طلبہ اعلیٰ ذات کے اساتذہ کے ظلم و زیادرتی سے خودکشی کر رہے ہیں۔ ملک میں رواداری دم توڑ رہی ہے۔ فرقہ پرستی کا عفریت ہے کہ ملک کے سیکولر ڈھانچہ کو درہم برہم کر رہا ہے ۔ مائیں ہیں کہ اپنے گود اجڑتے دیکھ کر کسی سے فریاد نہیں کرسکتیں ، کوئی ان کی افتاد دیکھنے یا سننے والا نہیں ہے، کہنے کو ملک میں عوامی حکومت ہے ۔ وزیراعظم اپنے سینہ کی چوڑائی پر بار بار فخر کرتے ہیں اور  ذہنوں کی صفائی کے بجائے ملک کی سڑکوں اور گلیوں کی صفائی کیلئے مہم چلا رہے ہیں۔ وزیراعظم یہ بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ بھوکے پیٹ پھرنے والے یہ عوام کیسے خود کو یا اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھ سکتے ہیں ۔ انہیں سڑکوں پر جھاڑو دینے کی فرصت کہاں ہے ، وہ تو بس دو وقت کی روٹی روزگار کیلئے تن من دھن کی بازی لگا رہے ہیں۔ تن کپڑوں سے محروم ، دھن نام کی کوئی چیز ان کے پاس کبھی رہی ہے اور نہ انہوں نے دھن دولت دیکھی ہے لیکن ہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ ’’بھارت کے 125 کروڑ عوام اگر تہیہ کرلیں کہ وہ ملک کو صاف ستھرا بنائیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت ہندوستان کو گندا نہیں کرسکتی‘‘۔ گویا ہندوستان میں جو تحریک ہے اور صفائی کا کوئی نظام نہیں ہے تو اس کی ذمہ داری دنیا کے مختلف ممالک پر ہے۔ یہ کیسی بے معنی بات ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر ’’سوچھ بھارت‘‘ کے اشتہارات حکومت کی جانب سے جاری کئے جارہے ہیں لیکن ہندوستان کے سیاست داں ان بنیادی مسائل سے یکسر بے بہرہ ہیں۔ ان میں سے کچھ ہوسکتا ہے کہ دیانت داربھی ہوں گے لیکن ان کی غالب اکثریت ، مصروف جنگ زرگری، ملک کے عوام غربت و افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں اور سیاست داں اپنی غیر قانونی دولت بیرونی ممالک کے بینکوں میں محفوظ کروا رہے ہیں ۔ ایسا کرنے والوں میں صرف سیاست داں ہی شامل نہیں ہیں بلکہ سینکڑوں صنعت کار اور دولت مند بھی شامل ہیں۔ یہ سب تو ہورہا ہے لیکن ہمارے سیاست دانوں کو ان مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ، وہ خود کو امیر اور خود کفیل بنانے کی کبھی نہ ختم ہونے والی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔

ایک دو کی بات نہیں تمام سیاسی پار ٹیاں اور ان کے لیڈر ٹھیٹ عوامی مسائل کو بالائے طاق رکھ کر اپنے یا اپنی پارٹی کے مفادات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ ہندوستان سخت آزمائشی دور سے گزر رہا ہے ۔ خصوصاً پچھلے دو سال سے جبکہ بی جے پی  اقتدار میں آئی ہے ملک کے مسائل بہت زیادہ سنگین  ہوئے ہیں۔ خشک سالی نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ عوام پانی کے بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں۔ راقم الحروف نے کبھی کسی سیاست داں کی زبان سے یہ نہیں سنا کہ خشک سالی قہر خدا وندی کی بن کر ہم پر نازل ہورہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کو یہ مسائل کیوں دکھائی نہیں دیتے، ان کی یکسوئی کیلئے باہمی اتحاد پیدا کر کے یا اپنے سیاسی اور نظریاتی اختلافات دور کر کے کیوں وہ قحط اور خشک سالی کا مقابلہ کرنے کی نہیں سوچتے۔ اپنے اپنے ووٹ بینک کی خاطر کوئی پارٹی ملک کا دستور بنانے والے ڈاکٹر امبیڈکر کو وقتی طور پر اپنا ہیرو بنارہی ہے۔ عام حالات میں نہ تو انہیں امبیڈکر کی کبھی یاد آئی اور نہ کبھی ان ہریجنوں کی فلاح کی ضرورت محسوس ہوئی جس کیلئے امبیڈکر نے سب کچھ کردیا اور ان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی دستوری گنجائشیں فراہم کردیں ۔ ملک کی اس بدحالی کے اس موجودہ دور میں ہر پارٹی اصل مسائل سے گریز کرتے ہوئے غیر ضروری اور کم اہمیت کے حامل مسائل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے ۔ کوئی پا رٹی نشہ بندی کو جزوی یا مکمل طور پر لاگو کرنے کا ذکر کر رہی ہے تو کوئی وجئے مالیا کے ملک سے فرار ہوجانے کو خشک سالی ، بھوک مری ، افلاس و تنگ دستی پر ترجیح دے رہی ہے۔ وجئے ما لیا ملک سے فرار ہیں ، ان کو انفورسمنٹ Directorate واپس لانے کی کوشش کررہا ہے ۔ یہ اپنی جگہ ایک مسئلہ سہی لیکن اتنا اہم نہیں کہ پارٹیاں وجئے مالیا کی واپسی کے مسئلہ پر ایک دوسرے کا گریباں ناپیں اس سے زیادہ اہم اور فوری حل طلب مسائل میں مہاراشٹرا ریاست کا شہر لاتور ہی نہیں مدھیہ پردیش کے کئی شہر اور اترپردیش کے کئی مقامات پر زرعی اراضی  اتنی خشک ہوگئی ہیں کہ دھرتی کا سینہ چاک ہوگیا ہے۔ پیداوار ختم ہوگئی ہے۔ شہروں سے عوام جوق در جوق  ترک وطن کر کے لاکھوں کی تعداد میں دوسرے مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ نقل مقام ہمارے دور کا بڑا سانحہ ہے ۔ اتر پردیش سے تو اتنے عوام نے ہجرت کی ان کی تعداد کا نہ تو مرکزی حکومت کو کوئی اندازہ ہے اور نہ ریاستی حکومت کیونکہ یہ Exodus ان غریب عوام نے بھی کیا ہے جو دوسرے مقام پر جانے کیلئے ریل کا ٹکٹ تک نہیں خرید سکتے تھے۔ آپ نے کبھی ایسی بے حسی نہ دیکھی ہوگی ۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہماری آئندہ نسلوں کو کبھی ایسے بے حس سیاست دانوں سے وابستہ نہ پڑے۔ کیوں وہ دن ختم ہوگئے اور زمانہ رخصت ہوگیا جبکہ عوام کے عام مفاد کی خاطر ملک کے سیاستدانوں میں کچھ قربان  کردیتے تھے ۔ پہلے کے سیاست داں بے غرض تھے ۔ ان میں اخلاقی جرأت  ہوا کرتی تھی ۔ وہ عوام میں رہا کرتے تھے ۔ بنگلوں اور کوٹھیوں میں ٹھاٹ باٹ کی زندگی نہیں گزارتے تھے ۔ان کے آگے صرف عوام کی خدمت ہی ہوا کرتی تھی۔ عوام کے تئیں ان میں جوابدہی کا احساس تھا ۔ اب تو یہ عالم ہے کہ موجودہ سیاست داں عوام کے مسائل سے بھی واقف نہیں ۔

سیاست دانوںکی ترجیحات ہی نہیں ہیں، انہیں یہ تک معلوم نہیں ہے کہ آئی پی ایل کے میچس سے زیادہ ضروری کام خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کو (اب تو ملک کا بڑا حصہ اس مصیت کا شکار ہوگیا ہے) بھوک پیاس سے بچانا ہے لیکن کیا کہئے کہ مہاراشٹرا میں ایک وزیر کی دیہی علاقہ میں آمد کے موقع پر ان کے ہیلی کاپٹر کیلئے ایک ہوائی پٹی جس کو ہیلی پیاڈ کہا جاتا ہے تعمیر کی گئی جس پر لاکھوں گیالن پانی خرچ ہوا، حالانکہ اس مقام پر مقامی خواتین ایک گھڑا پانی لانے کیلئے تپتی ہوئی دھوپ میں کئی میل کا سفر کرتی ہیں ، کیسی بے حسی ہے۔ کتنی غلط ترجیحات ہیں۔ عوام سے سیاست دانوں کی کیسی بے تعلقی ، بے عقل حیران ہے کہ آخر اس ملک کے سیاست داں اس کو کہاں پہنچانا چاہتے ہیں ۔ ملک کے وزیراعظم کا رویہ بھی کچھ عجیب ہے ۔ انہیں ملک کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہیں ز یادہ تر بیرونی ممالک میں دیکھا جاتا ہے ۔ خود وزیراعظم مودی نے بھی تو کچھ نہیں کہا، کبھی ملک کی اس تکلیف دہ صورتحال پر افسوس ظاہر نہیں کیا ، وہ تو بیرونی دوروں میں مگن ہیں، روم کے حکمراں نیرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب ’’روم جل رہا تھا نیرو چین کی بانسری بجا رہا تھا‘‘ مشہور و معروف ماہر بینک کاری رگھورام راجن نے گزشتہ ہفتہ ملک کی معاشی صورتحال کے بارے میں تبصرہ کیا تھا کہ ’’اگر ہندوستان یہ سمجھتا ہے کہ عالمی معاشی انحطاط کے دور میں بھی ہندوستانی معیشت مستحکم ہے تو صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ ’’ملک اندھوں کی بستی میں کانا راجہ ہے‘‘ لیکن سیاست داں ہیں کہ مسلسل یہ رٹ لگا رہے ہیں کہ بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ہندوستان سب سے زیادہ موزوں ملک ہے ۔ اب ملک کے عوام بینک کاری کے تجزیہ کار ماہرین کی رائے جانیں یا ناتجربہ کار سیاستدانوں کی بات مانیں کہ ہندوستان کے اچھے دن آگئے ہیں۔ آپ قارئین ہی بتاسکتے ہیںکہ کون صحیح اور کون غلط ہے۔ آپ ہی سوچ کر بتائیں کہ کیا دنیا کے کسی اور ملک میں لیڈر اور سیاست داں اپنے عوام کے لئے ایسی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے کہ آج ہمارے ملک کے لیڈر اور سیاست داں کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT