Monday , August 21 2017
Home / سیاسیات / سیاست دانوں کی مذہبی جذبات بھڑکانے کی روش

سیاست دانوں کی مذہبی جذبات بھڑکانے کی روش

الیکشن کمیشن چوکس ‘ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحفظ کیلئے اقدامات
نئی دہلی ۔ 23جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) الیکشن کمیشن نے بعض سیاست دانوں کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی کسی نہ کسی بہانے خلاف ورزی اور مذہبی مسائل اٹھانے کا طریقہ ڈھونڈ لینے کے پیش نظر چوکسی اختیار کرلی ہے اور اس سلسلہ میں تمام سیاسی پارٹیوں کو مکتوبات روانہ کئے گئے ہیں ۔ انتخابی کمیشن نے نشاندہی کی ہے کہ ضمنی انتخابات کے دوران سیاسی جلسوں میں ایسے مسائل اٹھائے جارہے ہیں جو یا تو مذہبی ہیں یا فرقہ پرستی کی بنیادوں پر ہیں ۔ ایسے شعبوں کا احاطہ کیا جارہا ہے جہاں پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی دفعات سے بچاجاسکے ۔ ایسا کرتے وقت سیاست داں ان دفعات کی خلاف ورزی سے گریز کررہے ہیں ۔ اس طریقہ کار کے دورس اثرات مرتب ہونے کے اندیشہ ہے ۔ اسمبلی یا پارلیمانی حلقوں میں رائے دہندوں کی ذہنیت کو متاثر کیا جاسکتا ہے ‘ جہاں پر بھی ضمنی انتخابات جاری ہیں ۔ کسی نہ کسی بہانے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو متاثر کرنے کیلئے عوام کی ذہنیت کو زہریلا بنایا جارہا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے تمام مسلمہ قومی اور ریاستی پارٹیوں کے قائدین کو اس سلسلہ میں مکتوبات روانہ کئے ہیں ۔ ایسی سیاسی پارٹیوں کو مسلمہ حیثیت دی جارہی ہے جن کے قائدین الیکشن کمیشن کے مشوروں کو قبول کررہے ہیں اور جن کے کارکن ایسی اپیلیں کرنے سے گریز کررہے ہیں جن سے سماج کی مذہبی امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوسکتی ہو ۔ اپنے 29جون کے مکتوب میں الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ایسے بیانات نہیں دیئے جانے چاہیئے ‘ چاہے وہ کسی بھی وقت دیئے گئے ہو یا ملک کے کسی بھی علاقہ میں دیئے گئے ہوں جن سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن متاثر ہوسکتا ہو۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ اپنے الفاظ سوچ سمجھ کر منتخب کئے جانے چاہیئے ‘ جب کہ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہو ۔ تاکہ عوام میں لازمی طور پر سازگار ماحول آزادانہ ‘ منصفانہ اور پُرامن انتخابات کیلئے پیدا کیا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT