Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / سیاست کی آواز پر بہار متاثرین کی امداد

سیاست کی آواز پر بہار متاثرین کی امداد

lہندو مسلم تاجرین کی جانب سے قیمتی ملبوسات کے عطیات
l جمعرات کو 21 ٹن امدادی سامان کی سیمانچل روانگی
l ملبوسات و دیگر سامان کی وصولی میں دو یوم کی توسیع
حیدرآباد ۔ 25 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : غربت ، بیماری ، آفات سماوی ، مصیبت و آلام ، تباہی و بربادی اور آنسوؤں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد اور ریاست تلنگانہ کی مٹی اور پانی میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ اس شہر اور ریاست کے مکین رحمدل واقع ہوئے ہیں ۔ وہ بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل کسی کا بھی غم درد و الم اور تکلیف نہیں دیکھ سکتے اور فورا مصیبت زدوں کی مدد کے لیے دوڑ پڑتے ہیں ۔ ہندوستان بھر میں گنگا جمنی تہذیب کی روشن مثال حیدرآباد کے ہندو مسلم عوام نے روزنامہ سیاست کی ایک آواز پر حرکت میں آتے ہوئے بہار سیلاب کے متاثرین کے لیے نئے کپڑوں ، بلانکٹس ، بیڈ شیٹس اور غذائی اشیاء کے ڈھیر لگا دئیے ہیں ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے بہار کے سیلاب متاثرین کی دامے درمے سخنے مدد کی اپیل کی تھی ۔ چنانچہ تاحال 21 ٹن وزنی امدادی اشیاء جمع ہوگئی ہیں ۔ جن میں غیر مستعملہ اور نئے کپڑے ، لباس عروسی ( دولہنوں کے لباس ) ، بلانٹکس ، بیڈ شیٹس اور چاول وغیرہ شامل ہیں ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہندو اور مسلم تاجرین کی ایک بڑی تعداد نے نئے اور قیمتی ملبوسات ، دفتر روزنامہ سیاست پہنچائے ہیں اور ان خدا ترس تاجرین نے اس نیک کام کے لیے اخبار میں اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے ۔ بعض ہندو تاجرین نے بتایا کہ وہ صرف ’ اوپر والے ‘ کی خوشنودی کے لیے مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کے لیے آگے بڑھے ہیں ۔ ان تاجرین کے مطابق سب سے بڑا مذہب تو انسانیت ہے اگر ہم مصیبت کی گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی مدد نہیں کریں گے تو انسانیت کہاں باقی رہے گی ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے مطابق 26 ستمبر کو امدادی سامان سے لدی ٹرک سیمانچل بہار کے لیے روانہ ہونے والی تھی لیکن اہل خیر حضرات و تاجرین کے جوش و جذبہ کو دیکھتے ہوئے کپڑوں و دیگر اشیاء کی وصولی کی تاریخ میں مزید دو دن کی توسیع کی گئی ہے ۔ جمعرات کو 21 ٹن سے زائد وزنی امدادی سامان سے لدی ٹرک بہار کے لیے روانہ کی جائے گی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ پہلے ہی 5 لاکھ روپئے کی امداد روانہ کرچکے ہیں ۔ اب وہاں بچوں کو دینی و عصری تعلیم کے لیے ایک اسکول ، لڑکیوں اور خواتین کے لیے فنی کورس کا تربیتی سنٹر کھولا جارہا ہے اس کے علاوہ ان علاقوں کے نوجوانوں کو پولیس میں بھرتی کی تربیت بھی فراہم کی جائے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT