Sunday , April 30 2017
Home / Top Stories / سیاست کی ملی خدمات ملک کے مسلم اداروں کیلئے قابل تقلید

سیاست کی ملی خدمات ملک کے مسلم اداروں کیلئے قابل تقلید

ترقی کے لیے دیانتداری اور خود میں سدھار لانا ضروری
علم کے ذریعہ ہی تعصب کا مقابلہ ، مہاراشٹرا کی سابق ریاستی وزیر فوزیہ خاں سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 16 ۔ نومبر : ( محمد ریاض احمد ) : ساری دنیا میں دائیں بازو نظریات و فکر کے حامل عناصر طاقتور ہوتے جارہے ہیں ۔ خود ہمارے ملک ہندوستان کا بھی یہی حال ہے خاص طور پر مسلمان بہت پریشان ہیں ۔ تعلیمی ، معاشی اور سیاسی شعبوں میں وہ انتہائی پسماندہ ہیں ۔ نتیجہ میں ہر سطح پر ان کا استحصال کیا جارہا ہے اور ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ قیادت کے دعوے کرنے ولے تو بہت ہیں لیکن قیادت میں اخلاص کا فقدان ہے ۔ آج مسلمان مذہب سے قریب ہو کر یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر ہی ترقی کرسکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار مہاراشٹرا کی سابق ریاستی وزیر اور این سی پی لیڈر ڈاکٹر فوزیہ خاں نے کیا ۔ وہ سیاست کو انٹرویو دے رہی تھیں ۔ ڈاکٹر فوزیہ خاں نے جن کا مہاراشٹرا کی سیاست میں 2002 تا 2014 کافی چرچا رہا ۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا زندگی کے ہر شعبہ میں استحصال کیا جارہا ہے لیکن ان حالات میں مایوسی کی بجائے مسلمانوں کو تعلیم اور تجارت کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ اس لیے کہ ملک کے کسی بھی حصہ میں آپ کو حصول علم سے کوئی روکنے والا نہیں ہے ۔ علم ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعہ تعصب ، جانبداری ، فرقہ پرستی ، نا انصافی اور مظالم کی بیخ کنی جاسکتی ہے ۔ ڈاکٹر فوزیہ خاں کو مہاراشٹرا میں تعلیم یافتہ مسلم خواتین کا چہرہ سمجھا جاتا ہے ۔ انہیں این سی پی ۔ کانگریس مخلوط حکومت میں شامل رہنے والی پہلی مسلم خاتون وزیر ہونے کا بھی اعزاز حاصل رہا ۔ مہاراشٹرا کی سیاست میں پربھنی کی رہنے والی ڈاکٹر فوزیہ خاں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مخلوط حکومت میں انہیں جنرل اڈمنسٹریشن ، پروٹوکل ، اقلیتی بہبود ( اوقاف ) ، اسکولی تعلیم ، بہبود خواتین و اطفال تہذیبی امور اور اطلاعات و تعلقات عامہ جیسے 8 اہم ترین قلمدان تفویض کیے گئے تھے ۔ مہاراشٹرا میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار ہورہا ہے ۔ خاص طور پر مسلم لڑکیوں کا مظاہرہ بہت شاندار رہا ہے ۔ مسلم مردوں کی بہ نسبت ملازمتوں بشمول پیشہ تدریس میں خواتین کی شرح زیادہ ہے ۔ ڈاکٹر فوزیہ خاں اور ان کے خاوند تحسین احمد خاں مہاراشٹرا میں مسلمانوں کی ترقی کے لیے بھر پور کوشش کررہے ہیں ۔ خود پربھنی میں وہ انگریزی اور اردو میڈیم کے 15 اسکول چلا رہی ہیں جن میں 20 تا 25 ہزار طلباء و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ پربھنی میں ہی وہ کالج آف فوڈ ٹکنالوجی چلا رہی ہیں ۔ جس میں بی ٹیک ان فوڈ ٹکنالوجی کا پیشہ وارانہ کورس شامل ہے ۔ ڈاکٹر فوزیہ خاں کا شمار این سی پی سربراہ شردپوار کے بااعتماد رفقاء میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے 2008 میں خلدآباد اورنگ آباد میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کیمپ کے لیے 5 ایکڑ اراضی بطور عطیہ پیش کی تھی ۔ وہ FAME ( فیڈریشن آف آل مہاراشٹرا میناریٹی ایجوکیشن آرگنائزیشن ) میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ جس کے صدر مہاراشٹرا کے سابق ریاستی وزیر جناب اظہر حسین ہیں ۔ مہاراشٹرا میں اوقافی جائیدادوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ میں سدھار پیدا کرنا ہوگا

 

خود کا محاسبہ کرنے کا عادی بننا ہوگا ۔ دیانت داری پیدا کرنی ہوگی تب ہی کوئی حکومت کوئی امبانی اوقافی جائیدادوں پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر نہیں کرسکیں گے ۔ مہاراشٹرا میں مسلم خواتین کی تعلیمی ترقی سے مطمئن ڈاکٹر فوزیہ خاں کے خیال میں مسلم خواتین کو سیول سرویسز میں آگے آنا چاہئے ۔ یہ سب کچھ تعلیمی معیار میں اضافہ اور محنت سے ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے اخبار سیاست کو ایک اخبار ہی نہیں بلکہ تحریک سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایک اخبار صحافتی خدمات کے ساتھ ساتھ انتہائی منظم انداز میں ملت کی سماجی ، تعلیمی اور سیاسی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرسکتا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ روزنامہ سیاست کے سیاست ڈاٹ کام نے انگریزی اور ہندی زبانوں میں خبریں ، رپورٹس ، تجزیہ اور تبصرے پیش کرتے ہوئے دیگر ابنائے وطن میں مسلمانوں کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کامیاب اور مثالی کوشش کی ہے ۔ ڈاکٹر فوزیہ خاں نے اپنے خاوند تحسین احمد خاں ، ممتاز سماجی جہدکار خالد سیف الدین کے ہمراہ منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں اور نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں سے بھی ملاقات کر کے قومی و ملی مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں نے انہیں سیاست کی سماجی و تعلیمی سرگرمیوں سے واقف کروایا ۔ اس موقع پر پدم شری مجتبیٰ حسین بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فوزیہ خاں کے مطابق سیاست کی طرح ملک کے دوسرے حصوں میں بھی سرگرمیاں انجام دی جائیں تو مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی دور ہوجائے گی ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT