Friday , September 22 2017
Home / مضامین / سیاست کی ناقابل فراموش خدمات

سیاست کی ناقابل فراموش خدمات

تنظیم ہم ہندوستانی وفد کی جناب زاہد علی خان سے ملاقات
محمد نصر اللہ خان
تنظیم ہم ہندوستانی بنیادی طور پر ایک سماجی تنظیم ہے ۔ جس کا قیام 12 سال قبل سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاض میں مقیم ہندوستانیوں کے ذریعہ عمل میں لایا گیا ۔ تنظیم کا مقصد غیر مقیم ہندوستانیوں کے مسائل کو مختلف سطحوں پر حل کرنا ، این آر آئیز کے روزگار کا تحفظ ، مختلف شعبوں میں ان کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے ساتھ ان کی ترقی کے امکانات کو وسیع  تر کرنا ہے اور ساتھ ہی این آر آئیز کے بچوں کے تعلیمی مسائل بھی تنظیم کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہے ۔ دیار غیر میں ہندوستانیوں کے لئے ادبی ، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کو عروج دینے کے سلسلہ میں تنظیم نمایاں کام انجام دے رہی ہے ۔ سعودی عرب میں اس تنظیم نے اب تک 17,000 سے زائد ارکان تیار کرلئے ہیں اور تنظیم نے ادب دوستوں کے ادبی و علمی ذوق کی تسکین کے لئے کئی ادبی اجلاس ، مشاعرے ، سمینار ، سمپوزیم ، لکچررس کا اہتمام کیا ۔ ان ادبی اجلاس مشاعروں و سمیناروں میں ہندوستان کی نامور شخصیات نے شرکت کی ۔ جن میں قابل ذکر پروفیسر گوپی چند نارنگ ، ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید ، منور رانا ، کلیم عاجز ، انا دہلوی ، جاوید وانی ، پروفیسریوسف اعظمی کے علاوہ وہ حیدرآباد کے نامور طنزو مزاح نگار جناب مصطفی علی  بیگ بھی شامل ہیں ۔ اس تنظیم کی سماجی ، تعلیمی ، ادبی اور معاشی و طبی خدمات سے سینکڑوں غیر

مقیم ہندوستانیوں نے استفادہ کیا ہے ۔
تنظیم ہم ہندوستانی کے ذمہ داروں نے حیدرآباد آمد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جناب زاہد علی خان سے 30 ڈسمبر 2015 کو دفتر سیاست میں شخصی ملاقات کی ۔ اس نمائندہ وفد کی قیادت میر لیاقت علی ہاشمی جنرل سکریٹری تنظیم کررہے تھے اور اس وفد میں مرزا انور بیگ (ریاض) اور حسن الدین خلیل (لندن) و دیگر کارکنان کو بھی شامل کیا گیا  ۔جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے ان کا نہایت گرمجوشی سے خیر مقدم کیا اور تنظیم کی ملی ، سماجی و ثقافتی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کی ۔ وفد سے بات چیت کے دوران ایڈیٹر سیاست نے بتایا کہ ان کی اپنی نگرانی اور شخصی دلچسپی کے نتیجہ میں ہائی ٹیک سٹی میں عالیشان مسجد کی تعمیر کا کام زور و شور سے جاری ہے جس میں بیک وقت 5 ہزار مصلیان نماز ادا کریں گے ۔ یہ مسجد عصری و فنی تعمیر کے اعلی نمونوں پر بنائی جارہی ہے ۔ ہائی ٹیک سٹی جیسے پاش علاقہ میں مسجد کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی ۔ اللہ چاہے تو بہت جلد اس مسجد کی تعمیر مکمل ہوجائے گی ۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب خیر نے گرانقدار تعاون کیا ہے ۔ انہوں نے وفد کو سیاست کے تعاون سے ہونے والے کئی ایک فلاحی و سماجی کاموں سے واقف کروایا اور کہا کہ سیاست کی جانب سے وقار آباد میں معمر افراد کی رہائش ، خورد و نوش ، دیکھ بھال اور ان کے لئے تفریح طبع کے سامان کی فراہمی کے لئے ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ قائم کیا جارہا ہے جو ملک میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد مرکز کہلائے گا ۔

جناب زاہد علی خان نے کہا کہ مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیمی میدان میں حوصلہ افزائی کے لئے سیاست نے کئی قدم اٹھائے ہیں جن میں کئی طلبہ کے لئے مسابقتی امتحانات میں کوچنگ کا انتظام ، بی یو ایم ایس امتحان کی تیاری ، مختلف امتحانات کی تیاری اور کوئسچن بینک کی اشاعت ، اسکالرشپس کی فراہمی اور تعلیمی شعبہ میں رہنمائی کے لئے ہیلپ لائن کا قیام بھی شامل ہے ۔
ایسے مسلم طلبا و طالبات جنھیں بیرونی ممالک کی یونیورسٹیوں میں مواقع ملے ہیں انھیں سفر خرچ اور تعلیمی اخراجات کے لئے حکومت سے نمائندگی کی جارہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست کی کوشش کے نتیجہ میں کئی طلبہ نے بیرونی یونیورسٹیوں کی اسکالرشپ سے استفادہ کیا ۔ اس طرح مسلم نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے سیاست کے عملی اقدامات جاری ہیں ۔ پولیس کانسٹیبلس ، سب انسپکٹرس کی جائیدادوں پر تقررات کے لئے مسلم نوجوانوں کو تربیت دینے کے لئے ایک باقاعدہ پروگرام بنایا گیا  ۔حکومت کے اعلانات کے پیش نظر تقررات کے لئے مسلم نوجوانوں کی درخواستوں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کا موثر نظم قائم کیا گیا جس سے طلبا و طالبات کی بڑی تعداد استفادہ کررہی ہے ۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ حکومت تلنگانہ نے غریب مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے لئے 51 ہزار روپئے کی مالی امداد یکمشت دینے کا اعلان کیا ہے جس کی عمل آوری میں سیاست نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
وفد نے جناب زاہد علی خان کو بتایا کہ حکومت تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کو 12% تحفظات دینے کے سلسلہ میں جو ٹال مٹول کررہی ہے ۔ اس پر سیاست کی جانب سے جو تحریک چل پڑی ہے اس کی دیار غیر میں بڑی دھوم مچی ہوئی ہے اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے عوام اس تحریک کو آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضامن سمجھ رہے ہیں جس پر جناب زاہد علی خان نے بتایا کہ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست کی قیادت و رہنمائی میں یہ تحریک عوامی مقبولیت حاصل کرچکی ہے  ۔انہوں نے تحریک کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ دراصل تلنگانہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقتدار پر آنے سے قبل مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اندرون چار ماہ 12% تحفظات فراہم کریں گے ۔ لیکن آج تک وہ وعدہ پورا نہ کرسکے اس وجہ سے جناب عامر علی خان نے اس تحریک کا آغاز کیا ہے ۔ اس تحریک کی شہر سے زیادہ اضلاع میں گونج سنائی دے رہی ہے اور اسے عوام کی زبردست بھرپور حمایت حاصل ہے ۔ انھیں یقین ہے کہ انصاف پر مبنی اس مطالبہ کو ضرور حکومت تسلیم کرے گی اور مسلمانوں کو قومی دھارے میں لانے کا اپنا فرض نبھائے گی ۔
جناب زاہد علی خان سے ملاقات کے بعد ارکان وفد نے بتایا کہ اس یادگار ملاقات کو وہ زندگی بھر فراموش نہیں کرسکتے ۔ وہ فرط مسرت سے سرشار ہیں۔  ملت اسلامیہ پر جناب زاہد علی خان کے ان گنت احسانات ہیں اور وہ عملی اقدامات کرنے پر بھرپور ایقان رکھتے ہیں  ۔ ان سے بات چیت کے دوران ان کے دلوں میں ملی خدمت کا ایک ولولہ اور جوش پیدا ہوا اسے لفظوں میں نہیں بیان کیا جاسکتا ۔ تنظیم ہم ہندوستانی نے یہ مصمم ارادہ کیا ہے کہ اس سلسلہ میں تنظیم کی جانب سے جناب زاہد علی خان کی سرپرستی ورہنمائی میں مثبت و ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT