Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سیاست کی 12 فیصد تحفظات تحریک کی ستائش، سدی پیٹ میں عنقریب اجلاس

سیاست کی 12 فیصد تحفظات تحریک کی ستائش، سدی پیٹ میں عنقریب اجلاس

جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست سے صدر ضلع میدک اقلیتی کانگریس کی ملاقات
حیدرآباد /2 دسمبر (سیاست نیوز) صدر ضلع میدک کانگریس اقلیتی سیل جناب وحید الدین خاں کی قیادت میں اقلیتی قائدین کے ایک وفد نے نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کرتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات سے متعلق سدی پیٹ میں اجلاس طلب کرنے کے سلسلے میں مشاورت کی۔ مسٹر وحید خاں کے ہمراہ مسرز منصور احمد جوائنٹ سکریٹری ضلع کانگریس اقلیتی سیل، فیاض الدین صدر نشین حلقہ اسمبلی سدی پیٹ کانگریس اقلیتی سیل۔ سید اکبر احمد سدی پیٹ ٹاؤن کانگریس اقلیتی سیل اور ریاض بیگ نے دفتر سیاست پہنچ کر جناب عامر علی خاں سے ملاقات کی اور مسلم تحفظات تحریک چلانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کی تحریک سے مسلمانوں میں شعور بیدار ہوا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تمام مسلمان جماعتی اور مسلکی وابستگی سے بالاتر اور ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر تحریک کو کامیاب بنانے میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انھوں نے روزنامہ سیاست کی جانب سے قوم و ملت کے لئے چلائی جانے والی سرگرمیوں کی بھی ستائش کی اور مسلم تحفظات تحریک کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سدی پیٹ میں ایک جلسہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ انھوں نے اس جلسہ میں شرکت کے لئے جناب عامر علی خاں سے خواہش کی۔ اس موقع پر جناب عامر علی خاں نے کہا کہ یہ سیاست کی نہیں، بلکہ سارے مسلمانوں کی تحریک ہے، جو نوجوان نسل کو تحفظات سے فائدہ پہنچانے کے لئے قوم کے تعاون و اشتراک سے چلائی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لہذا روزنامہ سیاست وعدہ کو پورا کرنے اور بڑے پیمانے پر تقررات سے قبل مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی تحریک چلاکر جمہوری طرز پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ انھوں نے تحریک کی تائید کرنے والے تمام مسلمانوں، سیاسی و مذہبی قائدین اور رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔ اضلاع میں تحریک زور پکڑچکی ہے اور مسلمان خود تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ جناب عامر علی خاں نے تحفظات کے بیانر تلے جمع ہوکر مسلمانان سدی پیٹ کو اپنے اتحاد کا بے مثال ثبوت پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات سے مسلمانوں کی زندگی میں خوشحالی آئے گی اور تعلیم و ملازمتوں میں مسلم نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT